324 total views, 1 views today

ہٹلر کہتے تھے کہ ’’مستقبل اس کا ہے جس کے ساتھ نوجوان ہوں۔‘‘
نوجوان ہر معاشرے کے متحرک اور فعال لوگ ہوتے ہیں۔ وہ ذہنوں میں مثبت اہداف، نئی امنگیں اور نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی توانائیوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان بننے سے لے کر اب تک جو سیاسی تحاریک چلی ہیں، ان میں نوجوانوں نے فیصلہ کن کردار کیا ہے۔ تحریک پاکستان کے تقریباً سب رہنما پڑھے لکھے نوجوان تھے۔ انہوں نے اپنی تمام ترصلاحیتیں مخلصانہ طور پر بروئے کار لا کر پاکستان بنایا۔ جنرل ایوب خان کی آمریت کو بھی نوجوانوں نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں مختلف دائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے نوجوان بہت نمایاں تھے۔ حال ہی میں ججوں کی بحالی کی تحریک کو نوجوانوں نے اپنی بھرپور شرکت کی بدولت کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔
25 جولائی کو ایک بار پھر پاکستان کے عوام عام انتخابات میں اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے جا رہے ہیں۔ یہ انتخابات پچھلے تمام انتخابات سے اس حوالہ سے مختلف ہیں کہ ملک میں ایک کروڑ اسّی لاکہ نئے ووٹرز کا اندراج ہوچکا ہے۔ لوگ یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ نئے ووٹرز ان پرانے اور روایتی امیدواروں کو کچھ نہ کچھ سبق ضرور سکھائیں گے، جو ستّر سال سے مختلف ناموں سے پاکستانی عوام پر مسلط ہیں۔ پہلے دادا، پھر باپ اور اب بیٹا یا پوتا پرانی گدی کو برقرار رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
ضلع ملاکنڈ دو تحصیلوں بٹ خیلہ اور درگئی پر مشتمل ہے جس میں قومی اسمبلی کا ایک (این اے آٹھ) اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں (پی کے اٹھارہ اور اُنیس) ہیں۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع ملاکنڈ کی کل آبادی 720295 ہے جس میں تحصیل بٹ خیلہ کی 416183 اور تحصیل درگئی کی آبادی 304112 ہے۔ ضلع ملاکنڈ میں کل نئے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 75272 ہے جس میں 42905 تحصیل بٹ خیلہ اور 32366 تحصیل درگئی میں رجسٹر ہیں۔
ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ملاکنڈ میں بھی انتخابی سرگرمیاں بڑے زور و شور سے جاری ہیں۔ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کے ملاکنڈ سے الیکشن لڑنے سے یہ مقابلہ کافی دلچسپ اور سنسنی خیز بن چکا ہے۔ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے کارکنان کی سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہیں۔ اپنے جلسہ جلوس، کارنر میٹنگز اور کنونشن وغیرہ کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امیدوار راستے میں کسی فرد سے خیرخیریت کی غرض سے مصافحہ کرتا ہے، تو کارکنان فوراً پارٹی کی مخصوص ٹوپی سر پر رکھواتے ہیں اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر تصویر اتار کر فیس بک پر پوسٹ کردیتے ہیں۔ اس سستے اور آسان میڈیا کے استعمال کا مثبت پہلو یہ ہے کہ لوگوں اور تجزیہ نگاروں کو فوراً پتا چل جاتا ہے کہ کون اِدھر سے اُدھر ہو رہا ہے اور اس طرح لوگوں کو سیاسی رحجانات معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے۔




بلاول بھٹو زرداری کے ملاکنڈ سے الیکشن لڑنے سے مقابلہ کافی دلچسپ اور سنسنی خیز بن چکا ہے۔ (Photo: NEO TV)

اب تک جو انتخابی سرگرمیاں الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پرسامنے آئی ہیں، ان سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ روایتی پارٹی باز، سیاسی وابستگیاں تبدیل کر رہے ہیں لیکن اصل طاقت نوجوانوں پر مشتمل ان نئے ووٹرز کی ہے جو این اے آٹھ میں 72272، پی کے اٹھارا میں 42905 اور پی کے اُنیس میں 32366 ہیں۔
سیاسی پارٹیاں اس حقیقت سے اچھی طرح سے واقف ہیں کہ اس الیکشن میں نوجوانوں کے نئے ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پارٹیوں کے امیدواروں نے نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے مختلف پروگراموں کا اعلان کیا ہوا ہے۔ نوجوانوں کا اولین مسئلہ روزگار کا ہے۔ پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں پہلے سو دن میں جب کہ صدر زرداری نے پاکستان کے ہر گھر کو ایک ایک ملازمت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس طرح ہر سیاسی پارٹی اپنی اپنی سوچ کے مطابق نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے پروگرام بنا رہی ہے۔
نوجوانوں کے بعض بنیادی مسائل پر اب تک کسی نے توجہ نہیں دی۔ ان میں سب سے اہم سٹوڈنٹس یونین کی بحالی ہے جس سے طلبہ میں سیاسی شعور و تربیت اور رہنمائی کی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کا کسی نے نوٹس نہیں لیا ہے۔ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے ثقافتی اور موسیقی کی تقریبات ناگزیر ہوتی ہیں، اس سلسلے میں ایک خاص مائنڈ سیٹ کی وجہ سے تمام سیاسی پارٹیاں فیصلہ نہیں کر سکتیں اورمصلحتوں کی شکار ہیں۔
اس الیکشن کے متعلق یہ بیانیہ آہستہ آہستہ زور پکڑ رہا ہے کہ پاکستان کے 9 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز میں سے 4 کروڑ 24 لاکھ ووٹرز 18 سے 35 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہیں جو الیکشن کے نتائج پر اثرانداز ہوں گے۔ اس عمرمیں ہر نوجوان کے ذہن پرجذبات حاوی ہوتے ہیں اور یہی جذبات ان کے ذہنوں میں ایک خاص انقلابی ایجنڈا تشکیل دیتے ہیں جس میں سوچ بچار کا عمل دخل بہت کم ہوتا ہے۔ جذبات سے تشکیل پانے والے یہ پروگرام اکثرمثبت ہوتے ہیں لیکن پریکٹیکل نہیں ہوتے۔
غیر جانبدار رائے کے مطابق اس عمر کے نوجوان جناب نوازشریف اور صدر زرداری کو پسند نہیں کرتے اور اس تناسب سے عمران خان سے محبت کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل یا جواز موجود نہیں کہ وہ عمران خان کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ بس سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس اور ان کی کرشماتی شخصیت سے متاثر ہوکر وہ ان کے ساتھ مثبت امیدیں وابستہ کرچکے ہیں۔ اس موقع پر مجھے فرانس کے ایک مؤرخ کا ایک قولِ صادق یاد آتا ہے کہ ’’اگر انسان بیس سال کا ہے اور انقلابی نہیں ہے، تو اس کے سینے میں دل نہیں ہے اور اگر چالیس سال کی عمر میں بھی انقلابی ہے، تواس کے سر میں دماغ نہیں ہے۔‘‘
ملاکنڈ کے نوجوانوں کا یہ جنونی رجحان پچھلے چند سالوں سے چلا آرہا ہے۔ 75272 کے نئے ووٹرز رجسٹرڈ ہونے سے یہ رجحان مزید مضبوط ہوگیا ہے جو 2018ء کے عام انتخابات میں بڑے ’’اَپ سیٹ‘‘ کا سبب بن سکتا ہے۔
………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے