325 total views, 1 views today

آج کل ہمارے ہاں دو کتابوں کا کچھ زیادہ ہی ذکر ہو رہا ہے۔ ایک کتاب ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کی اور دوسری ریحام خان کی کتاب ہے جو ابھی شائع بھی نہیں ہوئی۔ جنرل اسد درانی کی کتاب پر تو آرمی نے ایکشن لے لیا ہے، لیکن ریحام خان کی کتاب جو ابھی مسودے کی صورت میں ہے، شائع نہیں ہوئی، پرکئی دنوں سے پرائیوٹ ٹی وی چینلوں پر اس کا ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ مسودے میں لگائے گئے الزامات کا تو تب پتا چلے گا، جب کتاب شائع ہوگی۔ معلوم نہیں کہ حمزہ عباسی کو ریحام خان کی کتاب کا مسودہ کہا ں سے ہاتھ آیا؟ جس کی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ریحام خان نے عمران خان کے علاوہ دوسرے بہت سے لوگوں پر الزامات لگائے ہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ عباسی نے دعویٰ کیا کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان، مراد سعید اور مجھ پر ہم جنسی پرستی کا الزام لگایا ہے، پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم کی مرحومہ بیوی ہما کے عمران خان سے ناجائز تعلقات تھے، زلفی بخاری عورتوں کے حمل ضائع کرنے کا کام کرتے تھے، تحریک انصاف خاتون ورکر انیلہ خواجہ پر بیہودہ الزامات لگائے گئے ہیں، خاتون ورکر عندلیب سمیت دوسری خواتین ورکروں کی عزت پر کیچڑ اچھالا گیا ہے، اپنے سابق شوہر اعجاز رحمان کو ایک ظالم شخص کے طور پر پیش کیا ہے،اپنے بیٹے پر شراب نوشی کا الزام لگایا ہے۔ یہ ہی نہیں ریحام خان نے شیعہ سنی فرقہ واریت کو ہوا دی ہے۔ دوسری طرف ریحام خان سے جب اس حوالہ سے پوچھا گیا، تو اس نے ان باتوں کی ترید نہیں کی۔




حمزہ عباسی نے دعویٰ کیا کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان، مراد سعید اور مجھ پر ہم جنسی پرستی کا الزام لگایا ہے۔ (Photo: Success)

کتاب کے مسودے میں اتنے لوگوں پر لگائے گئے الزامات کا کوئی نہ کوئی ردِعمل تو ضرور ہوگا۔ جن پر الزامات لگائے گئے ہیں، ان میں سے بعض نے ریحام خان کو قانونی چارہ جوئی کا نوٹس ارسال کر دیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
وسیم اکرم نے ایک ٹی وی ٹاک میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری بیوی (ہما مرحوم) ایک اچھی خاتون تھی اور اس نے میرے بچوں کی بہت اچھی پرورش کی ہے۔ اگر واقعی ریحام کی کتاب میں میری مرحومہ بیوی پر الزامات لگائے گئے ہیں، تو میں ریحام خان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گا۔
اس طرح اعجاز رحمان نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریحام خان کی زندگی غربت میں گزری ہے۔ کیوں کہ ان کے والد رمضان کو رشوت لینے پر نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور پھر انہیں نوکری نہیں ملی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریحام خان کے الزامات بیہودہ،من گھڑت اور لغو ہیں۔ ریحام خان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے الزامات واپس لیں، ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ میرا دعویٰ ہے کہ انتخابی مہم کے موقع پر کتاب کی اشاعت فری پول ریگنگ کے مترادف ہے اور الیکشن کمیشن کتاب پر پابندی لگائے۔ قرآن کا حوالہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لبا س ہوتے ہیں۔ ریحام خان نے قرآنی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل ریحام خان کے خلاف ایکشن لے۔
قارئین، تحریک انصاف نے الزام لگایا ہے کہ ریحام خان نے فلم کے نام پر علیم خان سے ایک کروڑ روپے وصول کیے اور عمران خان کے چیریٹی فنڈز ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کو شک ہے کہ کتاب کے پیچھے مسلم لیگ نون کا ہاتھ ہے اور کتاب حسین حقانی کے توسط سے لکھی گئی ہے۔ اپنے دعویٰ یا شک کی تصدیق میں وہ نون لیگ کے تین رہنماؤں رانا ثناء اللہ، حنیف عباسی اور طلال چوہدری کے 2017ء کے بیانات کا حوالہ دے رہے ہیں جس میں تینوں نے دعوی ٰ کیا تھا کہ اگر 2018ء کے الیکشن سے پہلے ریحام خان کی کتاب منظر عام پر آگئی، تو عمران کا کیا بنے گا؟
عام لوگوں کا خیال ہے کہ نون لیگ سے یہ توقع کی جا سکتی ہے۔ کیوں کہ نواز شریف نے آئی جے آئی کے انتخابی مہم کے دوران میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی بیہودہ تصاویر شائع کیں تھیں اور ان تصاویر کو آئی جے آئی کے ہر جلسے میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ اس وقت آئی جے آئی میں شامل مذہبی سیاسی رہنماؤں نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔
معلوم نہیں کہ ریحام خان کی کتاب شائع ہوگی بھی یا نہیں؟ اور اگر شائع ہوگی، تو کب؟ کتاب میں مذکورہ بالا الزامات ہوں یا نہ ہوں، لیکن ریحام خان عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کوبدنام کرنے کے اپنے مقاصد میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکی ہے۔

…………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے