372 total views, 1 views today

جماعتِ اسلامی مولانا مودودی کی برپا کی ہوئی ایک عالمگیر تحریک ہے۔ نہ تو یہ کوئی وقتی جذباتی قسم کی تحریک ہے اور نہ ہی کوئی بے سروپا نظریۂ ضرورت کے تحت آنے والا واجبی سا گروہ۔
جماعت اسلامی اپنا ایک نظریہ، پروگرام اور ایجنڈا رکھتی ہے۔ یہ کوئی عام سیاسی پارٹی نہیں کہ سیاست جس کا مرکز ہو اور ساری کی ساری تگ و دو کا بنیادی خیال کرسی ہو۔ نظم و ضبط اور اجتماعیت کو قائم رکھنے کے لیے ایک مسودہ باقاعدہ دستور کے شکل میں موجود ہے۔ گاہے بگاہے جو راہنمائی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔یہ جو نقشہ میں نے کھینچا ہے۔ یہ اصلی جماعت اسلامی کا ہے ۔ آج ہم تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا جماعت اب بھی اپنے مقاصد اور ترجیحات پر قائم و دائم ہے یا اپنے اصلی خطوط کو چھوڑ کر کسی دوسری جانب رو بہ منزل ہے؟
حال ہی میں جماعت خیبر پختونخوا کے صوبائی امیر مشتاق صاحب کی ایک پریس کانفرنس سننے کا اتفاق ہوا جس میں وہ پارٹی کے اندر جمہوریت کی موجودگی کے گن گا رہے تھے اور ساتھ ساتھ کہہ رہے تھے کہ ہم نے انتخابات کے لیے ایسے امیدواروں کا انتخاب کر لیا ہے جن پہ متعلقہ ارکان راضی بالرضا ہیں، بلکہ ان کی چوائس ہے۔ یہ سنتے ہی میں بے اختیار ہنسنے لگا۔
میرے سامنے ایک دستاویز، خط کی شکل میں پڑی ہے جو سابق حلقہ PK94 اور موجودہ PK15 کے ارکان کی طرف سے مرکزی مجلس شوریٰ و پارلیمانی بورڈ کو لکھی گئی ہے۔ اس پر 105 ارکان کے دستخط موجود ہیں۔ اس خط میں تو بہت سارے حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے، لیکن حال ہی میں ختم ہونے والی صوبائی حکومت میں جماعت اسلامی کے صوبائی وزیر مظفر سید کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے آخری جملہ جو پوری بحث کا نچوڑ ہے، کچھ یوں ہے: ’’ہم امید کرتے ہیں کہ آپ مظفر سید جیسے فاسق و فاجر شخص سے جماعت اسلامی کو پاک کریں گے اور دوبارہ انہیں ٹکٹ نہیں دیں گے۔‘‘
یہ ہے 105 ارکان کی التجائیہ درخواست کہ خدارا! جماعت اسلامی کو اس شخص سے پاک کر دیں جو، ان کے مطابق بددیانت ہے۔ جی ہاں، میں اسی لیے ہنس رہا تھا کہ کتنی صفائی سے صوبائی امیر سو سے اوپر ارکان اور ہزاروں کی تعداد میں کارکنان کی رائے نگل کر میڈیا پر سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کر رہے تھے۔ قصر سلطانی پہ اسلامی انقلاب کا جھنڈا گاڑنے کی ذمہ داری مبینہ بددیانت اور فاسق و فاجر کے حوالے کر گئے۔




مظفر سید کی فائل فوٹو۔ (Photo: Khyber News)

آج مشتاق صاحب امیدواروں کے اعلان کرنے کے بعد جب ملاکنڈ کے پہاڑی سے اتر رہے ہوں گے، تو شاید یہ خیالات ان کے ذہن میں محو رقص ہوں گے کہ آج میں نے صوابی سے آکر سیدھے سادے اور بھولے بھالے اہلِ دیر کی رائے کو پاؤں تلے روند ڈالا، جس شخص سے وہ جماعت کو پاک کرنے کی استدعا اور التجا کر رہے تھے، میں نے اس کو ہی نمائندہ بنا کر اسمبلی میں بھیجنے کی پرچی تھما دی اور یا پھر اگر تھوڑی سی بھی تحریکی حرارت روح میں موجود ہے، تو آج ضمیر پر بھاری بوجھ لے کر، سید مودودی کی تحریک کا دیر کی فضاوں میں خون کرکے حبس اور گھٹن کے احساس کے ساتھ روبہ سفر ہوں گے۔
اب آتے ہیں اندینزئ کی طرف PK 15 کے لیے ڈاکٹر ذاکر اللہ کا نام سامنے آیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب 2002ء میں ایم ایم اے کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ چوں کہ 2008ء میں جماعت اسلامی کا بائیکاٹ تھا۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب نے پی پی پی کے طرف اڑان بھر لی تھی۔ اسی طرح 2013ء میں بھی انہوں نے پی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا۔ لیکن اس دفعہ وہ ماشاء اللہ پھر سے جماعت کا رکن بن کر جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے جماعت کے پارلیمانی بورڈ پر کہ یہ اپنے نظریاتی کارکنان کے ساتھ کیسا کیسا مذاق کر رہا ہے۔ ایک عام سیاسی ورکر اور جماعت کے کارکن میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ان کا مقصد سیاست نہیں بلکہ اقامت دین جیسے اعلیٰ فریضہ کی ادائیگی ہوتا ہے۔ لاہور میں بیٹھے جماعت کے فیصلے کرنے والے کبھی ان کو ایک سراب کے پیچھے دوڑاتے ہیں اور کبھی دوسرے کے پیچھے۔ ایک روز انہیں بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دستور شکنی کی ہے، لہٰذا ان کا اخراج ہوچکا اور وہ باطل کے کیمپ میں جا بیٹھے ہیں۔ دوسرے روز وہ پھر بپتیسا اور لاہوری گروپ کا اعتماد بحال کروانے کے بعد ایک مرتبہ پھر دستور کے رکھوالے بن کر اقامت دین کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں۔
آپ ان دو واقعات سے اندازہ لگائیے کہ سید مودودی کے افکار اور نظریے کا معیار اور سطح کیا تھی جہاں بڑے بڑے ناموں کی دستور سے معمولی روگردانی کی بنا ]ر چھٹی کرادی گئی تھی۔ اور کہاں آج کی حبس زدہ اور سیاست زدہ جماعت اسلامی، جس میں کیا فرق ہے؟ کبھی وہ جماعت جس میں علمی مباحثے ہوا کرتے تھے، جس کے میناروں سے روشنی پھوٹتی تھی آج حد درجہ کی شخصیت پرستی کا شکار ہے ۔ سب کچھ صرف اور صرف سیاسی شخصیات کے گرد گھومتا ہے اور سیاسی و شخصی مفاد ہی معیار بن چکا ہے۔ جب نظریے کا دور دورہ تھا تو ڈاکٹر یعقوب جیسے اکابر اسمبلی میں جماعت کی طرف سے بھیجے جاتے تھے، جو تن تنہا حکومتِ وقت کو ناکوں چنے چبواتے تھے ۔ ایوان آج بھی اس گھن گرج اور مدلل گفتگو کے گواہ ہیں اور اب 2013ء میں منتخب ہونے والے ہمارے ایم این اے جسے پورے پانچ سال حق مانگنا تو دور، میں نے اسمبلی میں بات کرتے ہوئے بھی انہیں نہیں دیکھا۔ کیا جماعت میں اہل لوگوں کی کمی ہے؟ نہیں، صاحب ایسا نہیں ہے مگر یہاں بھی اب بولیاں لگتی ہے، برادریاں ماپی جاتی ہیں، جس کے جتنے ہاتھ لمبے ہوں اتنا ہی وہ کامیاب قرار پاتا ہے۔ نظریہ اور منشور کی باتیں قصہ پارینہ ہیں۔ دستور ایک کاغذ کی شکل اختیار کر چکا ہے جسے حسب ضرورت سادہ لوح ارکان کو بے وقوف بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ منتخب نمائندے اور لیڈرز جو دستور کی دھجیاں اڑاتے ہیں ان پر آئندہ کسی مضمون میں قلم اٹھایا جائے گا۔

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے