333 total views, 1 views today

احتجاجی مظاہروں کے باوجود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دیرینہ عوامی مطالبے کے پیشِ نظر گلگت بلتستان کے موجودہ قانونی، آئینی اور انتظامی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کا اعلان کردیا۔ نئے نظام کو گلگت بلتستان ریفارم آرڈر 2018 ء کا نام دیاگیا۔ نیا نظام تین برسوں کے طویل غورو فکر اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا ثمر ہے۔ سرتاج عزیز جیسے زیرک اور منجھے ہوئے سیاستدان اور بیوروکریٹ نے محنتِ شاقہ کے بعد یہ خاکہ تیار کیا۔
نئے آڈر کے تحت گلگت بلتستان کی اسمبلی اور حکومت کو قانون سازی، مالیاتی اور ترقیاتی امور میں وہ تما م حقوق حاصل ہوگئے جو اٹھارویں ترمیم کے بعد دیگر اکائیوں کو حاصل ہیں۔ گلگت بلتستان آڈر کے جو چیدہ چیدہ نِکات سامنے آئے، وہ باور کراتے ہیں کہ خطے کو بااختیار بنانے کا عمل بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔ گلگت بلتستان اصلاحات کا جو مسودہ دیکھنے کا موقع ملا، اس کے خدوخال کچھ یوں ہیں: قانون ساز اسمبلی کا نام تبدیل کرکے گلگت بلتستان اسمبلی رکھ دیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان کونسل سے قانون سازی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات لے کر اسمبلی اور حکومت کو تفویض کردیے گئے۔ کونسل کو اس مرحلے پر ختم نہیں کیا گیا، لیکن اس کی حیثیت اب ایک مشاورتی ادارے سے زیادہ نہیں۔ اس طرح وفاقی نوکر شاہی یا وزرا گلگت بلتستان کے نام پر جو من مانیاں اور بدعنونیاں کرتے تھے، ان کا چور دروازہ بند ہوگیا۔
گلگت بلتستان میں پیدا ہونے یا مقامی ڈومیسائل رکھنے والے ہر شخص کو پاکستان کا شہری قرار دیا گیا۔ اسے وہ تمام بنیای حقوق جو 1973ء کے آئین کے تحت ملک کے باقی شہریوں کو حاصل ہیں، عطا کر دیے گئے۔ اس طرح یہ شکوہ بھی ختم ہوگیا کہ گلگت بلتستان والوں کو پاکستان کے دیگر شہریوں کے برابر نہیں سمجھاجاتا۔
یہ اصول بھی طے کردیاگیا کہ گلگت بلتستان کے شہری کے علاوہ گورنر کے منصف پر کوئی دوسراشخص فائز نہ ہوسکے گا۔ انصاف کے حصول کے لیے ججوں کی تعداد سات تک بڑھا دی گئی۔ چیف کورٹ کو ہائی کورٹ کا درجہ دینے کے بعد شہریوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے انصاف کی غرض سے رجوع کرنے کا حق بھی دے دیا گیا۔ گلگت بلتستان کی مقامی سول سروس قائم کرنے کا اعلان کرنے کے علاوہ وفاقی سول سروس میں بھی گلگت بلتستان کاکوٹہ مقرر کردیاگیا۔
علاوہ ازیں گلگت بلتستان کے آفیسرز کو دوسرے صوبوں میں جا کر اپنی خدمات انجام دینے کا موقع بھی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ وفاق سے افسران کی گلگت بلتستان تعیناتی کے سلسلے کو محدود کرکے مقامی افسران کو ترقی دینے کا آغاز بھی کر دیا گیا۔
قومی دھارے سے مربوط کرنے اور ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں سے اس خطے کو مستفید کرنے کے لیے گلگت بلتستان کو قومی مالیاتی کمیشن اور ارسا سمیت دیگر پالیسی ساز اداروں میں بطورِ مبصر نمائندگی دی گئی۔ مالیاتی طورپر گلگت بلتستان کو مستحکم بنانے کے لیے اسے پانچ برس تک ٹیکس چھوٹ دینے کے علاوہ سیاحت، پن بجلی، جنگلات اور ہائیڈرو پاؤر منصوبوں پر قانون سازی کا اختیار بھی دے دیا گیا۔ ان سے حاصل شدہ آمدنی پر اب مکمل حق گلگت بلتستان کی حکومت کا ہوگا۔ اس طرح یہ خطہ مالیاتی وسائل پیدا کرنے کے لیے مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبے لگانے اور چلانے کے قابل ہوجائے گا۔
ماضی کے برعکس اب چیف سیکرٹری گلگت بلتستان چیف اکاؤنٹنگ آفیسر ہوں گے۔ کنسولیڈیٹیڈ فنڈ بھی ایک کر دیا گیا۔ اس طرح گلگت بلتستان کی حکومت کو مالیاتی امور میں زیادہ آسانی اور مقامی سطح پر فیصلے کا اختیار حاصل ہوگیا۔ نئے آرڈر کے بعد وفاق کو اگر زمین کی ضرورت ہو، تو اسے گلگت بلتستان حکومت سے رجوع کرنا پڑے گا۔ گلگت بلتستان کی زمینوں پر مرکزی حکومت کا حق ختم ہوچکا ہے۔ نئے نظام میں سرمایہ کاری کے لیے قانون سازی کے تمام اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کے حوالے کر دیے گئے۔ پاک چین اقتصادی راہ داری کے پس منظر میں یہ ایک اہم فیصلہ ہے جو مقامی حکومت اور اداروں کو طاقتور بنائے گا۔




گلگت بلتستان میں پیدا ہونے یا مقامی ڈومیسائل رکھنے والے ہر شخص کو پاکستان کا شہری قرار دیا گیا۔

حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان کے درمیان اختیارات کی باقاعدہ تقسیم ہوئی ہے۔ 1973ء آئین کے تحت جو اختیارات وزیراعظم پاکستان کو باقی صوبوں کے حوالے سے حاصل ہیں، وہی گلگت بلتستان کے بھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنا کچھ ملنے کے باوجود گلگت بلتستان میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟ سیاسی وجوہات اور نون لیگ کی مخالفت کے علاوہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے کا طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ دقت یہ ہے کہ ریاست جموں وکشمیر سے اس خطے کی تاریخی نسبت اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ یہ مطالبہ پورے کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ کل ہی حکومت پاکستان نے بھارت اعتراض کے جواب میں گلگت بلتستان کو ایک بار پھر ریاست جموں وکشمیر کا حصہ قراردے کر اس سوال کا جواب دیا ہے۔
حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کو وہ سب کچھ دے دیا جو کسی صوبے کو دیا جاسکتا ہے، لیکن باقاعدہ صوبے کی آئینی حیثیت نہیں دی۔ اصلاحات کا آرڈر 2018ء ہو یا پھر ماضی کے گورننس آڈرز وہ گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ نہیں دیتے۔ نہ ہی انہیں پاکستان کی پارلیمنٹ نے منظور کیا۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس آڈر میں ترمیم یا اضافے کا اختیار گلگت بلتستان اسمبلی کو حاصل نہیں۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ پندرہ لاکھ آبادی پر صوبہ نہیں بنایاجاسکتا۔ البتہ ہم آپ کو خیبر پختون خوا میں ضم کردیتے ہیں۔ اس طرح آپ کی پارلیمنٹ میں دوتین اور کے پی کے کی اسمبلی میں پانچ چھے نشستیں ہوجائیں گی۔ کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا یہ جواب سن کر گلگت بلتستان کے نمائندے لاجواب ہوگئے۔
یہ درست ہے کہ بہت سارے اختیارات وزیراعظم پاکستان کی ذات میں مرتکز ہوگئے جو کہ جمہوری نظام کی روح کے مغائر ہیں۔ تاہم اس بات کا ادراک کیا جانا چاہیے کہ ستّر برس کی محرومیاں راتوں رات دور نہیں ہوسکتیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک کی بدولت گلگت بلتستان، اوڑمچی کی طرح تیز رفتاری سے ترقی کرے گا۔ جو کچھ گلگت بلتستان کو ملا ہے، کل تک کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتاتھا۔ اپوزیشن جماعتیں اور شہری جن قانونی اورآئینی نِکات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں، وہ بہت اہم ہیں ۔ پیشِ نظر رہے کہ سیاسی، قانونی اور سماجی امپاؤرمنٹ کوئی مستقل شے نہیں۔ یہ ارتقا کرتی ہے اور بتدریج آگے بڑھتی ہے۔ نوے کی دہائی میں محترمہ بے نظر بھٹو نے گلگت بلتستان کو بااختیار بنانے کا ایک عمل شروع کیا تھا۔ پرویزمشرف اور آصف علی زرداری کی حکومتوں نے نئے سنگ میل عبور کیے۔ اب موجودہ حکومت نے ایک بہت بڑی جست لگائی ہے۔
نون لیگ کی حکومت نے وقتِ رخصت ہی سہی فاٹا اور گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات بڑی حد پورے کردیے۔ اگلے چند دن میں وزیراعظم شاہد قاخان عباسی نے اگر اس طرح کی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور نوکرشاہی کو حاوی نہ ہونے دیا، تو آزادکشمیر کے معاملات بھی یکسو ہوجائیں گے۔ ایک نئی تاریخ رقم ہو گی کہ ایک کمزور جمہوری حکومت نے وہ کارنامے سرانجام دیے، جو طاقتور ترین حکمرانوں کے نصیب میں بھی نہ آسکے۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے