261 total views, 1 views today

افغانستان اور پاکستان کے مابین اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور گفتگو جاری ہے۔ یہ بہت ہی حوصلہ افزا اور قابل تعریف عمل ہے۔ اپریل 2018ء میں افغانستان کے صدر محترم اشرف غنی کی دعوت پر پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کابل کا دورہ کیا۔ اُن کے ساتھ وزرا اور دوسرے بڑے سرکاری افسران تھے۔ دونوں ممالک کے سرداروں نے عمدہ گفتگو کی۔ جو معلومات اسلام آباد نے جاری کیں، اُن میں سب سے پسندیدہ بات یہ تھی کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف بیانات نہ دیا کریں۔ بیانات اگر میٹھے اور صلح پسندی والے ہوں، تو کئی مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔ یہ ہمارا روز کا مشاہدہ ہے کہ جھگڑے اور فساد کی ابتدا الفاظ ہی سے ہوتی ہے۔ خواہ جھگڑا افراد کے درمیان ہو، اقوام کے درمیان ہو یا ممالک کے۔ پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد ہے کہ ’’تم مجھے اپنی زبانوں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کی ضمانت دو، میں تمہیں جنت (کامیابی اور خوشی) کی ضمانت دوں گا۔‘‘ پشتو کی ایک کہاوت کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ زبان انسان کا قلعہ بھی ہے اور تباہی بھی۔ نہایت ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے ادارے اور افراد اچھی بولی بولیں۔
دنیا بھر میں امن بہت ضروری ہے۔ جنگیں اور اختلافات تمام مخلوقات کو تباہیوں اور بربادیوں سے دوچار کردیتے ہیں۔ جنگ میں اگر ایک فریق بہ ظاہر جیت بھی جاتا ہے، لیکن حقیقت میں اُسے بھی تباہی و بربادی اور دکھوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ ایسا نہیں رہ جاتا جیسا کہ جنگ سے قبل ہوتا ہے، لیکن کچھ افراد اور کچھ عوامل ہر جگہ اور ہر زمانے میں ایسے ہوتے ہیں جو جنگوں کے عواقب پر نظریں نہیں رکھتے۔ اس لیے دانشمند طبقہ ایسے طریقوں پر کام کرتا ہے کہ تناؤ اور اختلاف کم ہوجائے اور جنگ سے بچا جائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جنگوں نے عظیم اقوام اور عظیم تہذیبوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ لوگ اور اقوام کیوں لڑتی ہیں؟ اس کے کچھ نہ کچھ اسباب ضرور ہوتے ہیں، وہ اسباب اگر گفت و شنید، تعاون، احترام، مسلسل محنت، تدبر، اخلاص، درگذر و معافی اور حقیقت پسندی کے ساتھ زائل کیے جائیں، تو اچھے مقاصد بغیر لڑے حاصل ہوجاتے ہیں۔ یہی قرآن و سنت کا منشا ہے۔ مناسب قوتِ دفاع کی موجودگی بھی جنگوں کو کافی حد تک روکتی ہے۔ بدامنی خواہ ملک کے اندر ہو یا دو ممالک کے درمیان، یہ ایک نتیجہ دیتی ہے یعنی دکھ، مشکلات اور بربادی۔
افغانستان، بھارت اور پاکستان کی جغرافیائی، سماجی اور جنگی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ایسے حالات نہ تھے کہ دور جدید میں بھی وہی صورِ اسرافیل منھ میں ہو جو ماضی میں دکھوں اور بربادیوں کا سبب تھا۔ زمانے کے حالات اور تقاضوں کے مطابق سوچ اور پالیسیوں کی تبدیلی ترقی پذیری کا سبب ہوتی ہے۔ سوچ اور پالیسیوں کا انجماد، ٹکراؤ اور بربادی پیدا کرتا ہے۔ مذکورہ بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کی اشرافیہ انجماد کو توڑنا چاہتی ہے۔ یہ ایک خوش خبری ہے ان عوام کے لیے جو اس علاقے میں صدیوں سے دُکھوں کا شکار ہیں۔ جنرل باجوہ ڈاکٹرین (نظریہ) کی وضاحت جی ایچ کیو نے کردی ہے کہ اس کا مطلب ہے وطنِ عزیز میں امن ترقی و خوشحالی۔ یہ تین اہداف افغانستان اور بھارت کی بھی ضرورت ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات خوش آئند ہیں۔ امید ہے بھارت بھی یہی راستہ اختیار کردے گا۔




جنرل باجوہ ڈاکٹرین (نظریہ) کی وضاحت جی ایچ کیو نے کردی ہے کہ اس کا مطلب ہے وطنِ عزیز میں امن ترقی و خوشحالی۔ (Photo: The News International)

خطے میں ادوارِ گذشتہ پر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان دوستی اور تعاون کے ماحول کا حصول اتنا آسان بھی نہیں۔ اس مقصد کے لیے انتھک اور مسلسل محنت کرنی ہوگی۔ سو سال سے زیادہ اختلافی حالات نے دونوں ممالک کے عوام کی نفسیات کو مخالفانہ شکل دی ہے۔ پھر دونوں ممالک کے اختلاف سے فوائد حاصل کرنے والے عناصر نے اختلافات مضبوط تر بنانے میں مسلسل کردار ادا کیا ہے اور کریں گے بھی۔ اس لیے تحمل اور تدبر کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ افغانستان کے عوام صدیوں سے دکھوں اور تباہیوں کا شکار ہیں۔ اس صورتِ حال کا خاتمہ ضروری ہے۔ پہلے ہر اُس اقدام کا خاتمہ ضروری ہے جو اختلافات کو ہوا دیتا ہے۔ خواہ وہ کوئی میٹھا نغمہ یا غزل یا کوئی دلچسپ ڈرامہ ہو۔ خطے میں امن اور دوستی کے حصول کے لیے بر سرِ اقتدار افراد سے لے کر، افسر شاہی، میڈیا، ممالک کے دانشمند لوگوں، شعرا، ادبا، محراب و منبر اور اہلِ قلم سب کو کام کرنا ہوگا، تب کہیں جاکر صدیوں پر محیط بغض، عناد اور نفرت کا یہ میل دور ہوگا۔ اختلافات کے حامی عناصر، دوستی کی خواہش کے خلاف ضرور کام کریں گے۔ اس لیے دونوں ممالک کی اشرافیہ پر لازم ہے کہ ایسے اقدامات کروائیں کہ کسی بھی ملک میں حکومت کی تبدیلی سے اس کوشش کا تسلسل نہ رُکے۔ ہر قسم کے منفی اعمال و عوامل کا خاتمہ ضروری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدات سخت اور ناقابل عبور ہوں، البتہ تجارت اور سفر، قوانین کے تحت دستیاب ہوں۔ نرم سرحدات کی وجہ سے دونوں ممالک کو نقصانات کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے۔ اس علاقے خصوصاً افغانستان کے عوام نے بہت دکھ برداشت کیے ہیں۔ اب ان دُکھوں کا خاتمہ چاہیے۔
مخصوص اغراض والے افراد اور حلقے ضرور امن کی کوششوں کو برباد کرنے کی کوششیں کریں گے۔ اس لیے دونوں اطراف کی حکومتوں کو مشکلات اور رکاؤٹوں کے باوجود باہمی امن و دوستی کی محنت جاری رکھنی چاہیے۔ نصف صدی پر محیط نرم سرحدات بین الاقوامی مفادات، تاجروں کی لالچی سوچ اور الراشی والمرتشی کے ماحول نے قوائد و قوانین کی حکمرانی کو ختم کردیا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے سرحدات پر قوانین کی حکمرانی کو مؤثر بنانا ہوگا۔ فی الحال طالب نام کا شخص یا سپاہی یا عام آدمی بدامنی کی وجہ سے مرے، نقصان ان ممالک اوران کے عوام کا ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ تینوں طبقے اسی مٹی کے ہوتے ہیں۔ سکول تباہ ہو، ہسپتال تباہ ہو یا کوئی اور عمارت، نقصان انہی ممالک اور اقوام کا ہوتا ہے۔ بھارت اور ایران سمیت اس پورے خطے میں امن دوستی، تعاون اور ترقی ضروری ہے۔ اس کے لیے کوشش کرنا نیکی ہوگی، جس کا ثواب ملتا ہے۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے