635 total views, 1 views today

وطنِ عزیز کی تقریباً ابتدائی ایام ہی سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں ہمیشہ سیاست اور حکومت پر خود غرض اور ابنُ الوقت لوگوں کا راج رہا ہے۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کے بعد 1958ء تک ایسی سیاسی افراتفری جاری تھی کہ خدا کی پناہ۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت کے کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا اور ملک میں پہلی دفعہ مارشل لا لگا۔ خدا لگتی کہوں، تو جرنیلوں کو سیاست دانوں نے ہی یہ مواقع فراہم کئے کہ اقتدار سنبھالیں۔ ہماری اس تمہید کا مقصد سیاست دانوں کی ابن الوقتی اور خود غرضی ہے کیوں کہ یہ لوگ ہمیشہ اونچی شاخ پہ اُڑ کر بیٹھتے ہیں، یعنی ہوا کا رُخ دیکھتے ہیں اور جس کا پلہ بھاری نظر آئے، اسی کی طرف اُڑان بھرتے ہیں۔ آج کل 2018ء کے قومی انتخابات کا غلغلہ ہے، تو کئی سیاست دان بھی ہوا کے رُخ کو دیکھ کر اسی طرف اُڑ رہے ہیں اور اُن کی یہ اُڑان مسلسل جاری ہے۔
ہماری قومی سیاست کی سب سے بڑی کمزوری اور خامی یہ ہے کہ اس کے قائدین ہمیشہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ جاگیر دار لوگ کسی پارٹی میں شمولیت کے وقت پارٹی کو موٹی رقم بہ طورِ چندہ دے کر پارٹی میں بہت جلد اپنا مقام بنالیتے ہیں اور غریب، دیرینہ و مخلص کارکن ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مفاد پرست لوگ کسی بھی وقت سیاسی پارٹی کے ساتھ اپنی وفاداری کو داؤ پر لگا سکتے ہیں۔ حالاں کہ اصول یہ ہے کہ ایک پارٹی میں ورکر کی پوری سیاسی تربیت ہونی چاہیے۔
مثلاً اگر کوئی شخص کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے، تو اُسے اس پارٹی میں کم از کم سات سال تک بہ طورِ ورکر رہنا چاہیے۔ اس کے بعد اس کی کارکردگی اور میرٹ کی بنیاد پر اُس کو چھوٹا سا مقامی عہدہ دے کر آٹھ سال تک اس پر کام کرنے دیا جائے۔
اسی طرح یہ سلسلہ جاری رکھ کر اُسے پارٹی کا پکا اور نظریاتی کارکن بنانا چاہیے۔ تب جاکر اُسے قومی یا صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دینا چاہیے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں بیشتر سیاسی پارٹیوں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا اور نہ یہ پارٹیاں اپنے سیاسی ورکروں کی تربیت ہی کرتی ہیں۔ ہمارے مشاہدے کے مطابق وطن عزیز کی ایک مذہبی سیاسی پارٹی کے کارکن کی کافی سیاسی اور نظریاتی تربیت کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کارکن کسی عہدے کے لیے درخواست بھی نہیں دے سکتا۔ آج سے کافی عرصہ پہلے ہمارے ہاں کمیونسٹ پارٹی کے کارکن کی بھی کافی اور نظریاتی تربیت کی جاتی تھی۔ اس کے بعد وہ پارٹی کا پکا اور نظریاتی کارکن بن جاتا تھا۔ غور کا مقام ہے کہ کوئی شخص کسی ایک پارٹی سے نکل کر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے، تو نئی پارٹی اُسے راتوں رات قومی یا صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ بھی جاری یا الاٹ کرتی ہے جب کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل کلاں شمولیت کنندہ اس نئی پارٹی کو نہ چھوڑے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ سینٹ جیسے قومی اور معزز ادارہ کے الیکشن میں شرمناک میگا کرپشن چل پڑی۔
ان حالات میں عوام خاک توقع رکھیں کہ ان کے مسائل بھی کبھی حل ہوں گے؟

………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے