375 total views, 1 views today

جیتے کا جگر چاہیے مقبوضہ کشمیر سے آنے والی تصویروں اور ویڈیوز کو دیکھنے کے لیے۔ احتجاج یااظہارِ مذمت کا یارا نہیں۔ بیس سے اوپر نوجوانوں کی شہادت نے غم اور غصے کی ایک لہر اٹھادی۔ کشمیر ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی فضا سوگوار اور شہری غمگین ہیں۔ سری نگر میں ہڑتال نے معمول کی زندگی معطل کردی ہے۔
گذشتہ تین چار ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں پُرتشدد کارروائیوں میں حیرت انگیز اضافہ ہواہے۔ سیاسی سرگرمیوں پر عائد قدغنوں نے پُرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کے دروازے بند کیے، تو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد عسکریت کی جانب راغب ہونا شروع ہوگئی۔ بھارت کے تزویراتی حکمت کاروں کا خیال تھا کہ وہ مزاحمتی لیڈرشپ کو گھروں تک محدود یا جیلوں میں مقید کرکے حالات پر قابو پالے گی، لیکن یہ مفروضہ نہ صرف غلط ثابت ہوا بلکہ اس نے بھارت کے پالیسی سازوں کی خام خیالی کی قلعی بھی کھول دی ہے۔
عام کشمیری نوجوانوں میں پائے جانے والے غصے کا اندازہ حال ہی میں سیّد علی گیلانی سے پارٹی کمان سنبھالنے والے محمد اشرف صحرائی کے فرزند جنید صحرائی کے حزب المجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے کے فیصلے سے کیا جاسکتاہے۔ اشرف صحرائی بنیادی طور پرایک سیاسی لیڈر ہیں۔ ساری زندگی انہوں نے پُرامن جدوجہد اور مزاحمتی سرگرمیوں میں گزاری ہے۔ ان کے صاحبزادہ کے بندوق اٹھانے کے فیصلے سے کشمیری نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی بالخصوص سیاسی عمل سے بے رغبتی اور لاتعلقی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی طرح باقی نوجوان بھی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہیں جو عسکری تنظیموں کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہیں روزگار کا مسئلہ درپیش ہے اور نہ وہ اپنے مستقبل سے مایوس ہیں۔ اس کے باوجود اگر نوجوان جنگجو تنظیموں میں شامل ہورہے ہیں، تو بھارتی حکومت کو ضرور اپنی حکمت عملی کی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔
2008ء میں کشمیر میں لگ بھگ عسکریت دم توڑ چکی تھی۔ یہ موقع تھا کہ بھارت سیاسی عمل کو پنپنے دیتا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جاری مذاکراتی عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جاتا،لیکن بدقسمتی سے بھارت کی حکمران جماعت کانگریس اور حزب اختلاف کی بڑی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی ، فوج اور خفیہ اداروں کے مابین کوئی اتفاق رائے پیدا نہ کیاجاسکا۔وزیراعظم من موہن سنگھ ایک کمزور شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی پشت پناہی سونیاگاندھی کرتی تھیں جو خود اطالوی نژاد ہونے کے باعث بی جے پی والوں کے زیرِ عتاب رہتی تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان اور بھارت جو مفاہمت کے قریب پہنچ چکے تھے، کوئی سمجھوتا نہ کرسکے۔
پُرامن سیاسی جدوجہد بے ثمر ہوتی گئی۔ آج نہ صرف کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد دوبارہ بندوق اٹھانے کی طرف راغب ہورہی ہے بلکہ ان میں انتہاپسندانہ خیالات کے حامل لوگ غالب آتے جا رہے ہیں جو داعش اور القاعدہ کے نظریات کو پھیلانے کی بات بھی کرتے ہیں۔ ذاکر موسیٰ نامی ایک سابق عسکری کمانڈر نے یہ تک کہا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قراردینے والے حریت قائدین کے خلاف سخت ایکشن لے گا۔ ان بیانات اور رجحانات سے قیاس کیا جاسکتاہے کہ سیاسی مکالمے اور مسئلہ کے پُرامن حل کے مخالفین کی تعداد میں محض اس لیے اضافہ ہوتاجارہاہے کہ مذاکرات کے گذشتہ ادوار سے کچھ نتیجہ نہیں نکلا۔
بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈول کے نظریات اور خیالات کسی سے مخفی نہیں۔ ڈول ڈاکٹرائن کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ کشمیریوں کو ریاست کی طاقت دکھاؤ۔ قوت کا بے تحاشا استعمال کرو حتیٰ کہ لیڈرشپ اور ان کے حامیوں کی کمر ٹوٹ جائے۔ ریاست جموں وکشمیر کو قومی دھارے میں ضم کرنے کے لیے قانونی اور دستوری اقدامات کیے جائیں اور اس کے راستے میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کی پروا نہ کی جائے۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے تما م دروازے بند کردیے جائیں۔ خاص طور پر کشمیر پر کسی بھی قسم کے مذاکرات نہ کیے جائیں۔ اجیت ڈول سخت گیر خیالات کی حامل شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ پاکستان یا کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات یا انہیں رعایتیں دینے کے نہ صرف مخالف ہیں بلکہ پاکستان کو اکثر سبق سکھانے کی بات بھی کرتے ہیں۔




ڈول ڈاکٹرائن کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ کشمیریوں کو ریاست کی طاقت دکھاؤ۔ (Photo: livemint.com)

بدقسمتی سے عالمی اداروں اور برادری کو کشمیر یوں پر گزرنے والی قیامت کا کوئی احساس نہیں۔ بین الاقوامی قوتیں دیگر بڑے تنازعات میں الجھی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر شام میں جاری قتل و غارت گری نے انسانی حقوق کے اداروں سمیت دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہوئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں پائی جانے والی سردمہری بلکہ کشمکش نے بھی بھارت کو کھلا لائسنس دیا کہ وہ آزادی اوراپنی مرضی کے ساتھ پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرے۔ چنانچہ کنٹرول لائن پر روزانہ بے گناہ لوگوں کا خون بہتاہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ضمیر کو کوئی کچوکا نہیں لگتا۔ برطانیہ جو پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتاہے، بھی خاموشی تماشائی بنا ہوا ہے۔ بہت سارے تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ واشنگٹن نئی دہلی کی پیٹھ تھپتھپاتا ہے۔وہ چاہتاہے کہ پاکستان کی مشرقی سرحد پر دباؤرہے، تاکہ اسے سراٹھانے کا موقع نہ ملے۔
شوپیاں والوں پر جو بیتی اگر دنیا کے کسی اور حصہ میں ایسا واقعہ رونما ہوتا، تو بین الاقوامی سطح پہ کہرام مچ جاتا۔ عالمی ادارے سیاپائی مجالس برپا کرتے اور انسانی حقوق کے علمبردار دنیا کے دارالحکومتوں میں احتجاجی دھرنے جاتے۔ پاکستان کے سوا کشمیریوں کی حمایت میں کھڑا ہونے اور بولنے والا کوئی دوسرا نہیں۔ شکرہے کہ عالمِ اسلام کی نمائندہ تنظیم اوآئی سی پاکستان کے اثر ورسوخ کی بدولت ایک آدھ بیان داغ دیتی ہے۔ اب کچھ عرصے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی اظہارِ افسوس کردیتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کوئی نہیں بولتا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اچھا کیا کہ وہ مظفرآباد تشریف لے گئے جہاں انہوں نے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔اس طرح کم ازکم دنیا کو یہ پیغام ضرور جائے گا کہ پاکستان کشمیر کے حوالے سے نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ ملک کی اعلیٰ قیادت اس حوالے سے سخت حساس بھی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے سربراہ زید عدالحسین نے اجلاس میں وعدہ کیا کہ وہ تین ماہ بعد یعنی جون میں ہونے والے کونسل کے اجلاس میں کشمیر پر ایک رپورٹ پیش کریں گے۔ انہوں نے کشمیر کی صورت حال کو انتہائی تشویشناک قراردیا۔ اگر یہ رپورٹ پیش ہوتی ہے، تو کم ازکم پچاس سال بعد اقوام متحدہ کا کوئی ادارہ کشمیر پر اپنی خاموشی توڑے گا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد بھی زیدعدالحسین نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کو شام اور میانمار جیسے فوری توجہ طلب انسانی بحرانوں میں سے ایک قراردیا تھا۔ عالمی نظام کے ماہرین اس رپورٹ کو ایک غیر معمولی پیش رفت قراردیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر انسانی حقوق کمیشن میں حقائق کی عکاسی کرنے والی رپورٹ پیش ہوگئی، تو بھارت پر زبردست دباؤپڑ سکتاہے۔
پاکستان کو عالمی برادری کی مدد سے بھارت کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ مذاکرات کا کم ازکم ایک فائدہ یہ ہے کہ اس دوران میں انسانی حقو ق کی پامالیاں رک جاتی ہیں اور عام لوگوں کو کسی حد تک راحت مل جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی لیکن اس کے لیے کوشش ترک نہیں کی جانی چاہیے۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے