326 total views, 1 views today

ضلع سوات کے موٹر وہیکل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ڈیٹا کے مطابق ضلع سوات میں کُل 16,000 رکشائیں ہیں جن میں 12,000غیر قانونی ہیں۔ ان غیر قانونی رکشوں میں عجیب بات یہ ہے کہ ایک نمبر پلیٹ پر دس دس، بارہ بارہ رکشے سڑکوں پر دوڑ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان غیر قانونی رکشوں میں بیشتر جرائم میں استعمال ہوتی ہیں اور منشیات کی سمگلنگ بھی ان میں ہوتی ہے۔شور اور فضائی آلودگی کے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔
12,000 سے زائد اِن غیر قانونی رکشوں کی وجہ سے ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں ٹریفک کا بُرا حال ہے۔ سول سوسائٹی کے انور خان کے مطابق پچھلے پندرہ سال میں جتنی رکشائیں سوات درآمد ہوئی ہیں یا یہاں مقامی طور پر تیار ہوئی ہیں،شائد ہی ملک کے دوسرے ضلع میں ایسا ہو۔ انور خان کے مطابق ٹریفک میں 70 فی صد خلل ان رکشوں کی وجہ سے ہے۔ مینگورہ شہر میں چھے تا سات ہزار رکشوں کی وجہ سے ٹریفک ہر وقت جام رہتی ہے اور ٹریفک پولیس سرگرداں رہتی ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس حوالہ سے جلد از جلد اقدامات کرکے اہل سوات کے حال پر رحم کیا جائے۔




فضل خالق کے مطابق سوات میں ان غیر قانونی رکشوں کے دھویں سے 216639 لوگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

قومی اخبار ڈان میں چھپنے والی ایک سٹوری کے مطابق ان غیر قانونی رکشوں میں بیشتر ٹو سٹروک ہیں جن میں خرچ ہونے والا ایندھن فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔ اخبار میں سوات کے سینئر صحافی فضل خالق کی سٹوری کے مطابق جنوری 2016ء سے لے کر جون 2016ء (یعنی چھے ماہ) تک ان غیر قانونی رکشوں اور دیگر گاڑیوں کے دھویں سے مختلف امراض نے جنم لیا۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ عرصہ میں 17,846 افراد مختلف جلدی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔ اس طرح 216639 افراد سانس کی بیماری، 8,405 نمونیا، 1,986 ٹی بی، 9,484 دمہ، 13,624 افراد ذہنی امراض، 451 مرگی، 4,402 امراضِ چشم اور 15,548 افراد کو کانوں کی بیماری میں مبتلا ہوئے۔
عوامی حلقوں کے مطابق صوبائی حکومت بیوٹیفکیشن جیسے بے فائدہ منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے اور غیرقانونی رکشوں کے حوالے سے کچھ اقدامات نہیں کر رہی۔ اس حوالہ سے محمد روشن، پیرزادہ، اکمل خان اور بہرہ مند نے لفظونہ ڈاٹ کام کو بتایا کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ بیوٹیفکیشن جیسے بے فائدہ منصوبوں پر کروڑوں پھونکنے کی بجائے پچاس ساٹھ کروڑ روپیہ کی مدد سے مینگورہ شہر میں چلنے والی ان غیر قانونی رکشوں کا سد باب کرے۔ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فور سٹروک رکشائیں مہیا کرے۔ بعد میں انہیں ڈرائیوروں کو اقساط کے عوض دیا جائے۔ اس طرح آلودگی میں کمی کے ساتھ ساتھ امراض میں بھی کمی آجائے گی اور ٹریفک بھی رواں دواں رہے گی۔




تبصرہ کیجئے