271 total views, 1 views today

مولانا کوثر نیازی اپنے دور کا ڈاکٹر عامر لیاقت حسین تھا۔ مولانا نے سیاسی زندگی کا آغاز جماعت اسلامی سے کیا لیکن اپنی ’’لیاقتی‘‘ خوبیوں کی وجہ سے زیادہ دیر جماعت اسلامی میں نہ ٹِک سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو مذہبی رہنماؤں کی پروپیگنڈے کے خلاف کسی مذہبی دانشور کی ضرورت تھی۔ خیبر پختونخواہ (اُس وقت صوبہ سرحد) کے دورے کے دوران میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک مولانا سے عرض کیا: ’’آپ میری پارٹی میں شامل ہو جائیں، ہمیں آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔‘‘مولانا نے حیرت سے جواب دیا: ’’میں آپ کی پارٹی میں کیسے آ سکتا ہوں؟ آپ کی پارٹی میں سارے سوشلسٹ نظریات والے جھوٹے اور لادین لوگ جمع ہوئے ہیں۔‘‘ ذوالفقار علی بھٹو کی حاضر جوابی مثالی تھی۔ انہوں نے جواب دیا: ’’ظاہر ہے جب آپ جیسے لوگ نہیں آئیں گے، تو پھر ایسے لوگ تو ضرور جمع ہوں گے۔‘‘ مولانا کوثر نیازی کا شمار اُن ’’آپ جیسے لوگوں‘‘ میں ہوتا تھا۔ مولانا اپنی زندگی کی آخری سانس تک جیالا رہا اور ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ جیسے نعرے سے بندھا رہا۔ یہ آج 2018ء میں بھی زندہ ہوتا، تو بلاول بھٹو زرداری کے پیچھے کھڑا ہو کر ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ لگاتا۔ مولانا نے ایک کتاب ’’پریمئر بھٹو کے آخری دن‘‘ بھی لکھی، یہ کتاب واقعی پڑھنے کی چیز ہے۔ اِس شاہکار تصنیف میں مولانا کی شخصیت کھل کر سامنے آئی ہے۔ یہاں مولانا پوری طرح ایک ادیب، فلسفی اور دوراندیش مصنف کا روپ دھار چکا ہے۔
کتاب میں پی این اے (پاکستان نیشنل الائنس)کی شاطرانہ سیاسی چالوں اور ذوالفقار علی بھٹو کے جوابی اقدامات کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ یاد رہے اُس دور کی پانچ مذہبی جماعتیں پی این اے کا حصہ تھیں اور یہ جماعتیں 1977ء کے انتخابات میں کھل کر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف صف آرا تھیں۔ مولانا کوثر نیازی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: ’’پی این اے کے انتخابی جلسے عروج پر تھے، میں نے پی این اے کے علمائے کرام کی اندرونی مخالفت سامنے لانے کے لیے ایک دن کسی جلسے میں کہا کہ اگر پی این اے کے علمائے کرام واقعی نظامِ مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نفاذ کے لیے سنجیدہ ہیں، تو پھر مولانا شاہ احمد نورانی صاحب، مولانا مفتی محمود صاحب کی امامت میں نماز پڑھیں۔ اگر نوارنی صاحب نے مفتی صاحب کے پیچھے نماز ادا کی، تو میں اور پیپلز پارٹی کے باقی ارکان پی این اے کے حق میں انتخابات سے دستبردار ہو جائیں گے۔ یہ میرا پی این اے کو کھلا چیلنج تھا۔ اِس چیلنج نے لوگوں کو حیرت میں مبتلا کیا۔ پی این اے کے ارکان کو معلوم تھا کہ اگر نورانی صاحب کی گردن پر تلوار رکھ دی جائے، پھر بھی وہ مفتی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ اُس رات بھٹو صاحب نے مجھے فون کیا اور کہا کہ یہ کس قسم کا چیلنج ہے۔ تم اِن لوگوں کو نہیں جانتے۔ یہ گنجائش اب بھی موجود ہے کہ یہ لوگ عین ایسا ہی کریں جیسا کہ تم نے چیلنج کیا ہے۔ قصہ مختصر، ایک دن اچانک لاہور ائیر پورٹ پر میری ملاقات مولانا نورانی سے ہوئی۔ انہوں نے شکایتی لہجے میں کہا کہ تم نے بہت ہی متنازعہ بحث کو ہاتھ لگایا ہے۔‘‘




مولانا کوثر نیازی، ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ محو گفتگو ہیں۔ (Photo: Dawn)

مجھے یہ واقعہ چند دن پہلے ایم ایم اے کی بحالی پر یاد آیا۔ اِس واقعے کے تینوں کردار حیات نہیں ہیں، لیکن کتاب زندہ ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت تک زندہ رہے گا جب تک شاہ احمد نوارنی کا بیٹا اویس نورانی اور مفتی محمود صاحب کے فرزندِ عظیم مولانا فضل الرحمن اِس واقعے کی تردید نہیں کرتے۔ کیوں کہ یہ دونوں بحال ایم ایم اے کا حصہ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو ملکی میڈیا کے سامنے نماز جمعہ کی امامت کرنی چاہیے۔ اِس حال میں کہ اویس نورانی مقتدی بن کر پیچھے کھڑے ہوں۔ یوں لوگوں کے ذہنوں میں جنم لینے والے شکوک کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور لوگ ایم ایم اے کو ایم ایم اے تسلیم کرلیں گے۔ اب سوال یہ ہے کیا ایم ایم اے واقعی 2002ء کی پوزیشن پر بحال ہوئی ہے؟ جواب: ’’نہیں‘‘ ہے۔ کیوں کہ بدقسمی سے یہ 2018ء ہے، 2002ء نہیں۔ 2002ء میں ایم ایم اے کی صدارت قاضی حسین احمد جیسے عملی، کھری اور بے لاگ شخصیت کے پاس تھی جب کہ موجودہ ایم ایم اے کی صدارت مولانا فضل الرحمان کے ہاتھوں میں تھما دی گئی ہے۔ حالاں کہ پرانے ایم ایم اے میں شگاف ہی مولانا فضل الرحمان نے ڈالے تھے۔ کیوں ڈالے تھے؟ کیوں کہ ایم ایم اے کے باقی عہدیداروں کو شک تھا کہ مولانا فضل الرحمان ہماری سیاست کا وہ پرزہ ہے جو ٹرک میں بھی فٹ ہو سکتا ہے اور کسٹم چور گاڑی میں بھی۔ مولانا دونوں جگہوں میں فٹ ہونے کی کوشش میں ایم ایم اے تڑوا بیٹھا تھا۔
اب دوسری حقیقت ملاحظہ ہو۔ سراج الحق نے پرسوں بیان دیا ہے: ’’ہم ٹرمپ کی جمہوریت کو نہیں مانتے۔‘‘ یہ وہ نعرہ تھا جس پر پرانی ایم ایم اے تخلیق ہوئی تھی۔ بس اتنا فرق تھا کہ لفظ’’ٹرمپ‘‘ کی جگہ ’’ بُش‘‘لگا ہوا تھا، لیکن حلق کی یہ تلخی اِس بار کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ کیوں کہ حقائق اب بدل چکے ہیں۔ آج پورا پاکستان امریکہ کو ’’نو مور‘‘ کہہ چکا ہے۔ چناں چہ سراج الحق کو اب سیاست کی کسی جدید ڈکشنری کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ تب جا کے نعروں کی سیاست کی کامیابی کا امکان پیدا ہوگا۔
اب تیسری حقیقت بھی ملاحظہ ہو۔ 2002ء میں سیاست کا میدان خالی تھا۔ میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو جلا وطن تھے۔ سیاسی شخصیات کی اتنی قلت تھی کہ مشرف کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے شوکت عزیز کو باہر سے امپورٹ کرنا پڑا تھا۔ مشرف اور اُس کی ناتجربہ کار ٹیم ق لیگ خالی میدان میں آئے۔ عدالت اور میڈیا کو بھگا رہے تھے جب کہ آج صورتحال مختلف ہے۔ آج ملک میں گھاگ سیاست دانوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایسے میں اتحادی سیاست کے عادی مولانا فضل الرحمان اورسراج الحق سے لمبی اننگ کھیلنے کی توقع رکھنا بے وقوفی ہوگی۔ ہمیں ماننا ہوگا اگر ایم ایم اے 2002ء سے لے کر آج تک بحال رہتی، تو آج تحریک انصاف کی بجائے ایم ایم اے ملک کی تیسری بڑی حقیقت ہوتی۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد مولانا فضل الرحمان بے روزگار ہو چکا تھا اور پی ٹی آئی کی ’’دھرنا سیاست‘‘ سراج الحق کو سوٹ نہیں کر رہی تھی۔ ایم ایم اے کی بحالی سے پہلے یہ لوگ ’’پاؤر پالیٹکس‘‘ میں بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے کھیل رہے تھے۔ اِن ’’بارہویں کھلاڑیوں‘‘ نے مل کر اپنے لیے ایک نئی ٹیم بنائی۔ اِس ٹیم کا نام ایم ایم اے رکھا اور یہ ٹیم اب 2018ء کے انتخابات کا تاج اپنے سر سجانے کی کوشش کرے گی۔ قوم کو نئی سیاسی ٹیم بہت بہت مبارک ہو۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے