273 total views, 1 views today

مسلمانانِ ہند کی تاریخِ آزادی میں بعض دن ایسے گزرے ہیں، جب اس دن مسلمانوں کی راہِ عمل متعین ہوئی اور جس پر چل کر یہ لوگ منزلِ مقصود پاگئے۔ تحریک آزادی میں آل انڈیا مسلم لیگ نے پہلی دفعہ اِلہ آباد کے مقام پر 1930ء میں اپنے لیے ایک مقصد کا تعین کیا۔ جب علامہ اقبال نے اپنے خطبے میں اس خطے کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ خود مختار اور اسلامی ریاست کی تجویز پیش کی اور پھر اس خیال اور تجویز کی توثیق 23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک (اقبال پارک) لاہور میں ہوئی۔ یہاں سے مسلمانانِ ہند نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کی۔
تاریخ شاہد ہے کہ قومیں جب سچے جذبوں کے ساتھ منزلِ مقصود کی طرف رواں دواں ہوں، تو کامیابی ان کے قدم ضرور چومتی ہے۔ خواہ اس راہ میں ان کی جانی و مالی قربانیاں کام کیوں نہ آئیں۔
آج ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ یہ ایک عہد ساز دن ہے، یعنی 23 مارچ۔ جس روزہم نے حصولِ مقصد کے ارادے کی توثیق کی۔ 23 مارچ 1940ء کو یعنی ستتر سال پہلے اسلامیانِ ہند نے لاہور شہر میں ایک عہد کیا تھا کہ اپنے لیے ایک آزاد، خود مختار اور اسلامی مملکت بنائیں گے۔ لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ جلسہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں حصولِ مقصد کا پکا ارادہ کیا گیا، یعنی ایک قرارداد پاس کی گئی۔ ایک بنگالی مسلمان رہنمااے کے فضل الحق نے یہ قرارداد پیش کی تھی۔ مخالفین نے اسے دیوانے کا خواب قرار دیا۔ یہ مسلمانانِ ہند کی یک جہتی، ہم آہنگی، خلوصِ نیت، سچے جذبوں اور لگن کا نتیجہ تھا کہ قرارداد کے سات سال بعد مسلمانانِ ہند نے بابائے قوم کی پُرخلوص قیادت میں علامہ اقبال کے اس نظریہ اور خیال کو حقیقت کا روپ دیا، یعنی 14 اگست 1947ء کو ایک عظیم اسلامی مملکت معروضِ وجود میں آئی۔ بدقسمتی سے شروع ہی سے یہ نوزائدہ مملکت حادثات اور سانحات سے دوچار ہوئی۔ بابائے قوم کی بے وقت موت، شہیدِ ملت لیاقت علی خان کی شہادت اور سقوطِ ڈھاکہ جیسے دل خراش واقعات نے پاکستانی قوم کے دلوں کو زخمی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئین شکن قوتوں، ڈکٹیٹروں اور خود غرض سیاست دانوں نے مملکت خداداد کو کمزور کیا اور انہیں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ ملک مسائل کی دلدل میں پھنس گیا اور بانیانِ پاکستان اور کروڑوں مسلمانوں کے خوابوں کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ بہ قول شاعر
میں نے تو چاند ستاروں کی تمنا کی تھی
مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا
23 مارچ 1940ء کے تصور کی روشنی میں ہمیں ملک کی موجودہ گھمبیر صورتحال سے نمٹنا ہے اور یہ تب ممکن ہے کہ ہم 23 مارچ 1940ء کے وقت کا جذبہ اور تصور اپنائیں۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنے کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے