583 total views, 2 views today

تخلیقِ بشر کے وقت عورت کی تخلیق کے سلسلے میں خالقِ ارض و سما کا خاص منشا یہ تھا کہ اُسے مرد کا ساتھی اور شریک حیات بناکر دنیا کے نظام کو احسن طریقے سے چلائے۔ کیوں کہ ایک گھر میں ماں، بیوی، بیٹی اور بہن کی موجودگی خاندان میں اطمینان اور مسرت کا باعث ہے اور اسی طرح ان مقدس رشتوں کی بدولت انسان انسانیت کی معراج تک پہنچتا ہے۔ کیوں کہ یہ عورت ہی ہے جس نے اس دنیا میں پیغمبروں، علما، اولیا، صلحا، مصلحین، مفکرین اور مجددین کو جنا، جن کی وجہ سے انسانوں کا معاشرہ روبہ ترقی اور رواں دواں ہے۔ اتنی عظیم ہستی کی تخلیق کرکے قدرت نے مرد کو ہرقسم کی سہولیات اور مسرتیں عطا کیں، جن کی عمدہ مثالیں ماں اور بیوی وغیرہ ہیں۔ پس تو ضروری تھا کہ عورت کو ابتدا ہی سے اس کا جائز مقام مل جاتا، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ قبل از اسلام اور قبل از مسیح علیہ السلام، عورت کو اس کا جائز مقام اور جائے احترام نہ مل سکی۔ اس زمانے کے معاشرے اپنے وقت کے باشعور، متمدن اور ترقیافتہ معاشرے کہلاتے تھے۔ ان میں یونان، بابل، رومن اور چین جیسے عظیم ثقافت کے حامل معاشرے شامل ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں اسلام نے عورت کو اس کا شایانِ شان مقام دے کر اس کو سماج کا ایک اہم، ذمہ دار اور قابل احترام فرد قراردیا۔
عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں ہر سال آٹھ مارچ کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے عورت کو جو مقام حاصل تھا، تاریخِ عالم کی روشنی میں اس کی کچھ جھلکیاں نذرِ قارئین ہیں۔
٭ چین میں عورت کے بارے میں یہ تصور تھا کہ اس میں شیطان کی روح ہوتی ہے، لہٰذا یہ انسان کو برائیوں کی طرف دعوت دیتی ہے۔




حقوق نسواں کے سلسلے میں ہر سال آٹھ مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ (Photo: olloo.mn)

٭ جزیرۃ العرب میں بیٹی کی پیدائش عار سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے والدین خود اپنے ہاتھوں سے بیٹی کو زندہ درگور کیا کرتے تھے۔ عورتوں کے حقوق اس قدر پائے مال کیے جاتے تھے کہ اگر کوئی آدمی مرجاتا، تو جس طرح وراثت کی اشیا ورثا میں تقسیم ہوتی تھیں، اسی طرح بیوہ بھی اس کی اولاد کی نکاح میں آجاتی تھی۔
٭ فرانس میں عورت کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ آدھا انسان ہے اور معاشرے کی تمام برائیوں کا ذریعہ ہے۔
٭ عربوں میں اگر کوئی عورت بیوہ ہوجاتی، تو مکہ مکرمہ سے باہر اس بیوہ کو ایک کال کوٹھڑی میں دو سال کے لیے رکھا جاتا۔ طہارت کے لیے پانی اور دوسری ضروریاتِ زندگی بھی پوری طرح فراہم نہیں کی جاتی تھیں۔ اگر دو سال تک یہ مشکلات کاٹ کر خوش قسمتی سے یہ زندہ رہ جاتی، تو پھر اس کا منھ کالا کرکے گلیوں میں پھرایا جاتا۔ اس کے بعد اس گھر میں رہنے کی اجازت مل جاتی۔ ذرا غور کریں کہ خاوند تو مرا اپنی قضا سے بھلا اس میں بیوہ کا کیا قصور؟ مگر اس وقت اس کی مظلومیت اور بے بسی کا یہ حال تھا کہ ان مظالم کے خلاف کوئی آوازبھی نہیں اُٹھاسکتا تھا۔
٭ ہندو ازم میں بیوہ ہوجانے والی عورت کو معاشرے میں زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ اس کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنے شوہر کی نعش کے ساتھ زندہ جل کر اپنے آپ ختم کرلے۔
عورت کی اس حالتِ بد اور مظلومیت پر رحمتِ خداوندی جوش میں آئی اور آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو رحمت العالمین صلی اللہ علیہ و الہ وسلم بناکر بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ہی عورت کو اس ظلم و بدی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکالا اور دنیا کو بتایا کہ اگر عورت بیٹی ہے، تو تمہاری عزت ہے، بہن ہے تو تمہارا ناموس ہے، اگر بیوی ہے، تو جیون ساتھی ہے اور اگرماں ہے، تو اس کے قدموں تلے جنت ہے۔

……………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے