480 total views, 1 views today

تحریر: عمران خان آزاد۔

ضلع دیر بالا کا خوبصورت علاقہ دیر کوہستان یا بالائی پنجکوڑہ وادی، قدرتی حسن اور قدرتی وسائل میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں گاؤری لوگ رہتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وادئی دیر کے اصل باشندے ہیں۔ یہاں گاؤری زبان کے ساتھ ساتھ کلکوٹی اور گوجری زبان بھی بولی جاتی ہے، مگر ان کی تعداد کم ہے۔ گاؤری برادری اتنی خوش قسمت ہے کہ اس کی ملکیت میں پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی علاقے کمراٹ، جاز بانڈا، لاموتی، تھل، کلکوٹ، کالام، اتروڑ، مٹلتان اور مہوڈنڈ جیسے علاقے شامل ہیں، مگر ان علاقوں پر اغیار کی نظریں جمی رہتی ہیں۔

کمراٹ ویلی میں ایک چھوٹی سی آبشار۔ (فوٹو: مرتضیٰ محمد)

دیر کوہستان میں بھی دیگر خوبصورت علاقوں کی طرح مقامی آبادی اور سرکاری اہلکاروں کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے، جس کی وجہ مقامی وسائل سے حاصل شدہ رقوم ہوتی ہے۔ ایک ایسا مسئلہ کئی سالوں سے کلکوٹ گاؤں کے جنگلات کی رائلٹی کی تقسیم کی وجہ سے ہنوز جاری ہے۔ گذشتہ دنوں اس سلسلے میں مقامی مشران نے احتجاج کیا جن کو بعد میں مقامی انتظامیہ نے گرفتار کیا۔ یہ تنازعہ جنگلات کی رائلٹی کی تقسیم کی وجہ سے پیش آیا۔ چوں کہ ان علاقوں میں ہمیشہ سے چند مقامی افراد اپنے ذاتی مفاد کی خاطر سرکاری اہلکاروں کے آلۂ کار بنتے ہیں۔ اس تنازعے میں ایسا ہی ہی ہوا ہے۔




کلکوٹ کے لوگ جرگہ کر رہے ہیں۔ (فوٹو: لکھاری)

پچھلے دنوں ایک نشست ہوئی جس میں دیر کوہستان میں کلکوٹ کے عوام ضلع انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پائے گئے۔ کوہستان بھر میں کلکوٹ کے مشران کی بلا جواز اور غیر قانونی گرفتاری کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے گذشتہ دنوں کلکوٹ کے مشران کو بلاجواز گرفتار کرکے انہیں حوالات بھیج دیا ہے۔ یہ مشران ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے کلکوٹ کے غریب عوام کو رائلٹی کی مد میں ملنے والی رقم میں خورد برد کرنے والے افراد کے خلاف پیشی کے لیے عدالت گئے تھے۔ مذکورہ مشران پر یہ بے بنیاد الزام لگایا گیا ہے کہ سال 2015ء میں کلکوٹ کے عوام کو رائلٹی کی مد میں ملنے والے چار کروڑ سینتیس لاکھ روپے غیر قانونی طریقے سے وصول کرکے تقسیم کیے گئے ہیں۔ حالانکہ سال 2015ء میں متفقہ طور پر نامزد کردہ مشران نے تمام قانونی کارروائی پوری کرتے ہوئے مذ کورہ رقم شفاف طریقے سے تقسیم کرکے قبضہ وصولی کے کاغذات اسسٹنٹ کمشنر صاحب کے دفتر میں جمع کرانے گئے تھے۔ مذکورہ انتظامیہ نے اپنا 40 فیصد حصہ نہ ملنے پر کاغذات جمع کرنے سے انکار کیا۔ بعد میں ضلع انتظامیہ نے خیبر پختونخواہ پروٹیکٹیڈ فارسٹ ایکٹ 2005ء سیکشن3 (3) کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچھ لوگوں کی ملی بھگت سے جنگلات کی مد میں کلکوٹ کے عوام کو ملنی والی رائلٹی کی رقم میں سے 21ملین روپے رائلٹی کے حقداران کی بجائے چند افراد میں تقسیم کردی۔ خیبر پختونخواہ پروٹیکٹیڈ فارسٹ ایکٹ2005ء سیکشن (3) 3 کے مطابق ضلعی فارسٹ آفیسرجنگلا ت رائلٹی کے چیک کو ’’ڈی آراُو‘‘ کے نام جاری کرے گا اور ضلعی روینو آفیسر اپنی موجودگی میں یہ رائلٹی جنگلات کے اصل مالکان میں تقسیم کرے گا۔ اس قانون میں صاف صاف لکھاگیا ہے کہ رائلٹی کی رقم ’’ڈی آر اُو‘‘ براہِ راست حقداران اور مالکان جنگلات میں تقسیم کرے گا نہ کہ جھوٹے رائلٹی ہولڈرز میں۔ رائلٹی رقم مجوزہ فارم اور کاغذات جسے ’’قبض الوصول‘‘ کہتے ہیں، پر تقسیم کی جائے گی۔ ضلعی روینو آفیسر سے تصدیق شدہ مجوزہ فارم اور قبض الوصول کنزرویٹر کو ارسال کیا جائے گا اور یہ مجوزہ طریقہ آئندہ بھی رائج رہے گا۔ ان کاغذات کو صوبائی آڈٹ کے لیے محفوظ کیاجائے گا۔ ان واضح احکامات کے باجود انتظامیہ افسران نے رائلٹی کے چیک غیر قانونی طور پر ان لوگوں کو جاری کیے جن کو کلکوٹ کے عوام متفقہ طور پرمسترد کر چکے تھے۔ اس کے بعد کلکوٹ کے متاثرہ عوام کی اَنتھک محنت اور کوششوں سے اینٹی کرپشن اسٹبلیشمنٹ نے مسئلے کی چھان بین کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں 28 نومبر 201 7ء کو اینٹی کرپشن اسٹبلیشمنٹ سٹیشن دیر بالا میں سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں دو اسسٹنٹ کمشنرز کے ساتھ دیگر پانچ افراد ملزمان نامزد کیے گئے ہیں۔ مقدمے میں نامزد مبینہ پانچ افراد کو اس بنا پر ملزم نامزد ٹھہرایاگیا کہ ان پانچوں نے اصل مالکانِ جنگلا ت کی رائلٹی کو نہ صرف وصول کیا ہے بلکہ اپنے آپ کو ان جنگلات کا مالک اور جنگل رائیلٹی کے نمائندے اور اٹارنی ہولڈرز ظاہر کیا ہے۔ رائلٹی کے حقداران اور جنگلات کے مالکان نے ان کا یہ دعویٰ پہلے ہی مسترد کیا تھا۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ 21 ملین روپے نکالے گئے ہیں جن میں تقریباً 12.5 ملین روپوں کی غبن ہوئی ہے۔ (Photo: dunyanews.tv)

مارچ 2016ء میں متاثرہ افراد نے وزیر اعلیٰ شکایات سیل میں درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیا رکیا گیا کہ ضلعی حکومت کے تعاو ن سے چند غیر مالکان نے قوم کلکوٹ کی رائلٹی وصول کی ہے اور یہ چند افراد رائلٹی کے اصل حقدار ہیں اور نہ قوم کلکوٹ کے اٹارنی ہولڈرزہیں۔اس کے بعد محکمہ انٹی کرپشن خیبر پختونخواہ کو وزیر اعلیٰ نے انکوائری کا حکم دے دیا جس میں انکوائری ٹیم نے سینئر آڈیٹرسے ریکارڈ کی چھان بین اور کئی بار متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ انکوائری ٹیم نے رپورٹ میں اس بات کی نشان دہی کی کہ حکومت کے خزانے سے انتظامیہ دیر کی سہولت سے چند افراد نے 26 جنوری 2016ء کو مروجہ قانون کے برعکس 21ملین روپے وصول کرکے ہڑپ کیے ہیں۔
اینٹی کرپشن ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ ملزمان اپنے آپ کو رائلٹی حقداران کے اٹارنی ہولڈرز یا وکیل ظاہر کرتے ہیں جو کہ حقیت کے برعکس ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ 21 ملین روپے نکالے گئے ہیں جن میں تقریباً 12.5 ملین روپوں کی غبن ہوئی ہے اور ان غبن کرنے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی سفارش کی گئی ہے۔ مزید 5.5 ملین روپوں کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔
اب حکومت بجائے اس کے کہ نامزد کردہ ملزمان کو پکڑتی، الٹا اُن مشران کو گرفتار کیا گیا جو اس کیس کے روح رواں ہیں اور عوام کلکوٹ کے متفقہ نامزدکردہ مشران ہیں۔ حکومت کے مذکورہ اقدام کا مقصد مشران اور عوام پر دباؤ ڈال کر انہیں اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹ جائیں لیکن کلکوٹ کے عوام اپنی ایک ایک پائی کو وصول کیے بنا پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ہم نوجوانانِ کلکوٹ اپنے معزز مشران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور حکومت کی اس کھلی دہشت گردی کی پُر زور آواز میں مذمت کرکے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے معزز مشران کو باعزت رہا کرکے کہ اصل مجرموں کو گرفتار کیا جائے۔ ساتھ غریب عوام کے پیسے وصول کیے جائیں۔

…………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے