511 total views, 1 views today

’’علم الاعداد‘‘ زمانۂ قدیم سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور علم النجوم میں اسے قلیدی حیثیت حاصل ہے۔ علم الاعداد کے ماہرین کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ایسی کوئی چیز تخلیق نہیں کی جو بے نام ہو۔ ہر چیز کا ایک نام ہے اور نام کا ایک عدد ہے۔ ہر عدد اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ علم الاعداد کو زائچے، کنڈلی، حالات و واقعات کی معلومات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب کہ اس علم میں دنیا کے تمام علوم موجود ہیں۔ یعنی ریاضیات کا علم، موسمیات، جہازرانی کا نظام حتیٰ کہ سیاروں، ستاروں کا نظام بھی اس کا مرہونِ منت ہے۔ ہمارے ملک کے نامور علمِ نجوم، ماہرِ علم الاعداد و علم الاسماء او ر دست شناس یٰسین وٹو نے سال نو کی پیشین گوئیاں مختلف اخبارات میں کی ہیں۔
یٰسین وٹو کے مطابق سال 2018ء کا آغاز سوموار سے ہوا ہے جس کا منفرد عدد 7 اور پاکستان کا لکی عدد 7 ہے۔ 2018ء کا اپنا عدد 2 ہے۔ یہ سیارہ قمر کا بھی عدد ہے اور حکومت، شہرت اور عروج سے متعلق ہے۔ لہٰذا ان کے علم کے مطابق اس سال ملک میں ان عوامل کی دوڑ لگی رہے گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی تاریخ پیدائش کے حساب سے ان کا ذاتی عدد 2ہے اور ان کا لکی نمبر بھی 2 ہی ہے۔ لہذا امکا ن ہے کہ جنرل باجوہ کو حکومت، شہرت اورعروج کے مدارج میں دسترس حاصل رہے گی، تاہم صورتحال بہتر ہوگی۔ کیوں کہ 2 کاعدد ایمانداری، یقین اور اتحاد سے منسلک ہے۔
یٰسین وٹو کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان کا مستقبل تابناک ہے، مگر 2018ء میں کوئی بڑا انقلاب ممکن نہیں۔ زہرہ کے عروج کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، خلفشار اور بے یقینی کی کیفیت اس سال بھی موجود رہے گی۔ ن لیگ اگر اس سال کے پہلے تین ماہ میں حکومت بچا گئی، تو الیکشن 2018ء میں ان کو اقتدار سے باہر رکھنا ناممکن ہوگا۔ نواز شریف اپنی قسمت کی بدولت ایک دفعہ پھر بچ جائیں گے، مگر اقتدار سے دوری ان کا مقدر ہے۔ شہباز شریف کی شخصیت اور کردار میں بڑھوتری واضح ہے۔ ان کا برج میزان ہے او ر نام کا عدد 5 ہے جو کہ متوازن، مضبوط اور انقلابی عدد ہے۔ ان پر کوئی فوجداری کارروائی ہوتی نظر نہیں آرہی، تاہم ان کا اقتدار میں آنا خارج از امکان نہیں۔ عمران خان کا بھی برج میزان ہے، مگر ان کے نام کا عدد 4 ہے۔ شہرت، حیثیت اور قوت میں تو اضافہ ہوگا، مگر ’’اقتدار کا ہما‘‘ ان کے سر پر بیٹھتا نظر نہیں آرہا۔ ان کا اقتدار ا مرِمحال ہے، مگر ان کی جماعت کی پوزیشن بہتر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔




یاسین وٹو کے بقول، 2018ء میں کوئی بڑا انقلاب ممکن نہیں۔ (Photo: The Financial Express)

علم الاعداد کے حساب سے زرداری پی پی پی پر بھاری ہیں۔بلا ول کا کردار بڑھنے سے پی پی پی کا کردار بڑھ سکتا ہے۔ اس سال پی پی پی سندھ کی اکلوتی دعویدار نہیں رہے گی۔ کئی دوسرے حقوق مانگنے آن کھڑے ہوں گے۔ زہرہ کے چوتھے گھر میں ہونے کے سبب مذہبی جماعتوں کا سیاسی کردار بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ فضل الرحمان اور سراج الحق متحرک رہیں گے اور بہتر فعال کارکردگی سامنے لائیں گے۔ ان کے اعداد عمران خان کے اعداد کے برخلاف ہیں۔ لہٰذا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ 2018ء الطاف حسین کے لیے مشکل سال ہے۔ ان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس طرح مشرف کا سیاسی کردار ختم ہو چکا ہے، تاہم ان کو بچنے کے مواقع میسر رہیں گے۔ چوہدری برادران کا متحرک ہونا واضح ہے۔ اقتدار نہیں ملے گا، مگر اقتدار کی راہداریوں تک ان کے قریبی لوگ پہنچ جائیں گے۔ مریم نواز عوامی عہدے پر آسکتی ہیں، تاہم حمز ہ شہباز کی شخصیت اتنی واضح سامنے آتی دکھائی نہیں دے رہی۔ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات گرمی اور سردی کا شکار رہیں گے۔ تجارت بھی جاری رہے گی۔ کشمیر کا مسئلہ 2020ء تک سلگتا رہے گا اور اسی سبب2020ء میں جنگ تک کی نوبت آسکتی ہے۔ پاکستان میں بیرونی مداخلت بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی طاقتوں سے معاملات خراب ہو سکتے ہیں، تاہم ہمسائیوں سے معاملات بہتر ہوں گے۔ ایران، چین اور ترکی کا کردار بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان اپنے عدد کے حساب سے اس سال بھی کھیل اور فنونِ لطیفہ سے دور رہے گا۔ دہشت گردی میں کمی ہوگی، مگر بے یقینی کی فضا برقرار رہے گی۔ سرحدی اور ساحلی علاقوں میں عدم اطمینان دکھائی دے گا۔حُروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا کے مطابق عدلیہ اور فوج ملک کے مفاد میں کام کرتی رہیں گی۔ لٹیرے سیاستدانوں کا احتساب جاری رہے گا۔ سندھ میں پی پی پی کا شیرازہ بکھر جائے گا اور اوہ اکلوتی جماعت اقتدار میں نہیں رہے گی۔
اب دیکھتے ہیں کہ یہ پیشین گوئیاں کہاں تک درست ثابت ہوتی ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اور پاکستانیوں کو بھی حقیقی انصاف، مساوات، عدل اور بنیادی حقوق میسر آئیں۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے