314 total views, 1 views today

ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارا میڈیا ہمیشہ صرف حالاتِ حاضرہ کے چٹ پٹے موضوعات کی تلاش میں رہتا ہے۔ کبھی ایسے حل طلب مسائل کی طرف نہ میڈیا کا کیمرہ دیکھتا ہے نہ لکھاری کا قلم ہی جنبش لیتا دکھائی دیتا ہے، جس کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہو۔ شائد بحیثیت قوم یہ ہماری اپنی سوچ کا ہی نقص ہو۔ میڈیا عوام کی مجموعی نفسیات کو جانچ کر اپنا لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ جو ہمارا میڈیا دکھا رہا ہو، وہی ہمارے لیے زیادہ باعثِ دلچسپی ہو۔ ورنہ کیا پڑی ہے میڈیا کو چائے والے کی نیلی آنکھیں، عمران خان کی شادی، ڈونل ٹرمپ کی گیدڑ بھبکیاں اور اس قبیل کے غیر ضروری چیزوں کو چھیڑنے کی۔ شائد ایسے موضوعات ہمارے لیے باعثِ تفریح ہوں اور ہم میڈیا کو ایسے موضوعات پر زیادہ فیڈ بیک دیتے ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو ہمارا میڈیا بھی بی بی سی اور سی این این جیسے مؤقر اداروں کی طرح حقیقی مسائل پر توجہ دیتا۔ پھر کوئی صحافی تیس مار خان بن کر لوگوں کے گھروں کے اندر مائک ہاتھ میں لیے نہ جاتا۔ ہمارامیڈیا پھر ایسے سنگین مسائل سے نبٹنے کے لیے عوام کی راہنمائی کرتا اور ہم عوام بھی ایسے مسائل پر غور و فکر کرتے، اپنے حصے کی شمع جلاتے، مگر اس جانب ہمارے جھکاؤ کا کوئی امکان تک نظر نہیں آتا۔ سوال یہاں یہ بھی ہے کہ میڈیا جسے ریاست کا ’’چوتھا ستون‘‘ کہا جاتا ہے، اس کے مقاصد اور ذمہ داریاں کیوں واضح نہیں ہو پا رہیں؟جواباً عرض ہے کہ جہاں تک میری ناقص رائے کا تعلق ہے، تو سب سے بڑی رکاؤٹ اور مسئلے کی جڑ ہماری ’’روایتی سیاست‘‘ ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں سیاست، عالمی اور حقیقی مسائل، ریاست کے نظم و ضبط، توانائی، تجارت، داخلی و خارجی مسائل اور اشتراکِ عمل جیسے مسائل پر کی جاتی ہے، لیکن ہمارے ہاں بدقسمی سے الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں سیاست کسی کی دوسری و تیسری شادی، آلو کے نرخ، لیپ ٹاپ کی تقسیم، سکول وردی اور یہاں کے ’’سیاہ ستدان‘‘ کے منھ سے جو ’’پھول‘‘جڑتے ہیں، ان کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ ’’شرمناک‘‘، ’’لعنت‘‘، ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’کیوں نکالا؟‘‘ جیسے الفاظ عوام کے ذہن میں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ٹھونسے جاتے ہیں۔




’’شرمناک‘‘، ’’لعنت‘‘، ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’کیوں نکالا؟‘‘ جیسے الفاظ عوام کے ذہن میں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ٹھونسے جاتے ہیں۔ (Photo: entrepreneur.com)

جب کسی جمہوری ریاست کا اہم ترین جزو ’’سیاست‘‘ ہی ایسے الفاظ کا محتاج ہو، تو میڈیا کے تو وارے نیارے ہوں گے ہی۔ اس طرح کی چٹ پٹی خبروں کا سہارا لے کر میڈیا ہاؤسز اپنی کمرشل ریٹنگ بھی بڑھاتے رہتے ہیں، جو میڈیا کا بنیادی مقصد بن گیا ہے۔ مگر پھر بھی ہماری بات ہماری مجموعی سوچ پر آکر ہی رکتی ہے کہ جو میڈیم سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کی صورت میں ہماری دسترس میں ہے۔ ہم اس پر بھی اپنے دل کی بھڑاس ’’لعنت بھیج کر‘‘ ہی نکالتے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی سر اٹھاتا ہے کہ ہماری مجموعی دلچسپی غیر ضروری مباحثے کیوں ہے؟ اور ہم کیوں کر ایسے نِکات پر بحث چھیڑنے کی خواہش ظاہر نہیں کر رہے ہیں جو ایک ترقی یافتہ ملک کی تشکیل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں؟ تو جواب انہی سطور میں واضح دیا جاتا ہے کہ ہمارے ’’سیاہ ست دانوں‘‘ کی ذہنی پہنچ جہاں تک ہے، وہیں تک ہماری بھی پہنچ ہے۔اس کے آگے چراغوں میں روشنی نہیں ہوتی۔
چند دنوں سے پارلیمنٹ پر ’’لعنت‘‘ کی بحث ایوانوں، میڈیا اور عوامی مقامات سے لے کر سوشل میڈیا میں آگ کی طرح پھیل چکی ہے۔ عمران خان صاحب واحد سیاست دان ہیں جن کے منھ سے نکلے الفاظ زیادہ سے زیادہ متنازعہ بنتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف دلانے کی خاطر انہوں نے ایک بڑے چور ڈاکو کو بھی برداشت کیا۔ طاہر القادری کی آدھے راستے کی یاری بھی بھول گئے اور کنٹینر پر چڑھے، مگر کیا ہی اچھا ہوتا، اگر شیخ رشید کے ’’تقریری جذبات‘‘ کے مقابلے میں اپنے جذبات بھی ہضم کرتے اور ’’پارلیمنٹ پر لعنت‘‘ بھیجنے والے جملے کو مزید زور دے کرپیش نہ کرتے بلکہ چپ سادھ لیتے۔ جس طرح اسمبلی سے استعفا پر پارٹی مشاورت یاد آئی، اسی طرح ’’لعنت‘‘ بھیجنے پر بھی پارٹی مشاورت سے کام لیتے، تو اگلے دن ہی دھرنے میں ان کے ساتھ شریک پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کے سینئر راہنماؤں کی جانب سے اپنی تقریر کی مذمت نہیں سننا پڑتی۔

عمران خان صاحب واحد سیاست دان ہیں جن کے منھ سے نکلے الفاظ زیادہ سے زیادہ متنازعہ بنتے ہیں۔ (Photo: The Dawn News – Pakistan)

پارلیمنٹ سے حاصل ہونے والی متفقہ قراردادوں کو ابلاغِ عامہ کے ذریعے عوام تک پہنچانا ناگزیر ہے اور عوام کو باخبر رکھے بغیر کوئی بھی قرارداد اہمیت نہیں رکھتی، لیکن ہمارے میڈیا کے معیار کے کیا کہنے! اگلے دن اخبارات میں ’’سپر لیڈ‘‘ کچھ یوں بنی: ’’پارلیمنٹ پر لعنت مسترد۔‘‘ گویا پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی بھی جاسکتی ہے، لیکن بعد میں مسترد بھی کی جاسکتی ہے؟ میڈیا پر ’’لعنت‘‘ کے لفظ کا نشر ہونا تھا کہ اس دن سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور عوامی مقامات سے زینب قتل کیس، ڈی آئی خان میں معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی اور بہت سارے حل طلب موضوعات کے اوراق پلٹ گئے اور ’’لعنت‘‘ کے لفظ کا صفحہ زیرِبحث آیا۔ اس پر بحث کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ سیدھا سادا جواب سب کے پاس ہے: ’’پارلیمنٹ لعنت بھیجنے سے نہیں، ایمان دار لوگ بھیجنے سے ٹھیک کی جاسکتی ہے۔‘‘ اگر ایماندار نہیں ملے تھے اور بے ایمان لوگ بھیجے گئے ہیں، تو ہم ہی نے اپنے ووٹوں کے ذریعے بھیجے ہیں، پھر اُن پر ’’لعنت‘‘ کیوں؟ کیؤں کا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے کب بھیجا؟ یہ بے ایمان تو دھاندلی کرکے پہنچ گئے ہیں۔ تو پھر لعنت ان پر بھیجیں جن کے ذریعے ٹھیک ٹھاک اداروں کی موجودگی میں ’’دھاندلی‘‘ کرائی گئی۔ اگر آپ کے بقول دھاندلی کرکے بے ایمان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیج دیا گیا ہے، تو ان بے ایمانوں کو بھیجنے والوں پر نہ صرف ’’لعنت‘‘ بھیجیں بلکہ ان کے خلاف بڑی عدالتوں میں مقدمے بھی لڑیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عدالت سے کوئی شنوائی نہیں ہو رہی، تو پھر خود اپنی ’’سیاست‘‘ پر لعنت بھیجیں کہ آپ تین سو سے زائد سیاسی اور جمہوری پارٹیاں مل کر ایک اسلامی جمہوری ریاست کو چلا رہے ہیں اور اب تک آپ کا کسی ایک ادارے پر بھی اعتماد بحال نہیں ہوسکا؟
جناب، عرض یہ ہے کہ آپ صرف اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائیں گے، تو لعنت بھیجنے کی ضرورت بالکل نہیں پڑے گی۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے