251 total views, 1 views today

بھلا ہو خٹک صاحب کی پی ٹی آئی سرکار کا کہ اس نے غیر پیداواری ایک ہزار سکولوں کو بند کروایا اور خزانے کے اخراجات کم کر دیے، (بحوالہ آزادی بارہ دسمبر 2017ء)۔
وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان سکولوں میں بچوں کی تعداد بہت کم تھی۔ ایک اور خبر (آزادی 23 نومبر 2017ء) کے مطابق محکمہ سکولز نے بائیس کروڑ ستر لاکھ روپیہ کی خطیر رقم کے خرچ پر چالیس ہزار اساتذہ کے ذریعے 2017ء کے گرما میں سروے کے ذریعے معلوم کیا ہے کہ پندرہ لاکھ بچے (جن میں پانچ تا دس سال کی عمر کے چھے لاکھ اور گیارہ سال تا سولہ سال کی عمر کے نو لاکھ) سکول نہیں جاتے۔ صوبائی محکمہ تعلیم میں افرادی قوت، فوج سے بڑھ چکی ہے لیکن اس کا انتظام و انصرام اساتذۂ کرام ہی کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے جو تعلیم کے ’’ماہر‘‘ بیان کیے جاتے ہیں اور تعلیم کا معیار ایسا بن گیا ہے کہ میٹرک پاس بچوں میں بہت کم کو اردو میں درخواست لکھنی آتی ہے۔ وزیر تعلیم کے بقول محکمہ کو ایک کھرب سے زیادہ کا سالانہ بجٹ دیا جاتا ہے، لیکن تعجب کی بات ہے کہ اتنے عظیم بوجھ کے لیے محکمے کے پاس ایک بھی ریگولر اکاؤنٹس گروپ کا آفیسر موجود نہیں۔ سارا کام کلرکوں سے لیا جاتا ہے جو یقیناً زیادتی ہے۔ محکمے کو توڑنا اور اس کو ریگولر بیوروکریٹس کی خدمات سے نوازنا ضروری ہوگیا ہے۔ اس بڑے محکمے پر مختلف مافیاز حملہ آور ہیں۔ سب سے بڑا حملہ مارکیٹ کی طرف سے ہے کہ ہر کام میں مارکیٹ والوں کو زیادہ سے زیادہ منافع ہوتا ہو۔ پھر وطنِ عزیز میں ٹھیکیداری اور ٹینڈرز کا نظام تعلیم جیسے معاملے میں اپنا مثبت رول کم اور منفی رول زیادہ ادا کرتا ہے۔ محکمہ سن 1935ء کے ایجوکیشن کوڈ کے تحت چلتا ہے اور بہت سارے گریڈ اُنیس اور بیس کے محکمہ تعلیم کے ’’افسران‘‘ ایسے یقینا موجود ہوں گے جنہوں نے اس کتاب کو دیکھا بھی نہ ہوگا۔ نئے کوڈ کی تیاری ضروری ہے۔




محکمہ سن 1935ء کے ایجوکیشن کوڈ کے تحت چلتا ہے۔

ایک ہزار سکولوں کی بندش کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم ان میں پڑھنے والے دس بچوں کو فی سکول فرض کریں، تو یہ دس ہزار بچے ایسے ہوگئے جن پر تعلیم کے دروازے خود محکمے نے بند کر دیئے۔ محکمے میں تعلیم کے فروغ و ترقی کے لیے اخلاص (کمٹمنٹ) نہیں ہے۔ یہاں دفاتر میں کام کرنے والوں میں شدید قسم کا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ یہاں بڑی تنخواہوں اور مراعات کی خواہش اور خود نمائی کی عادت غالب ہے۔ اب محکمہ اس گہرائی میں گر چکا ہے کہ حکومت خود رشوت کا سہارا لے رہی ہے۔ ملازم ہوتا ہی ہے اچھا کام کرنے کے لیے۔ یہ ہم پہلی بار سن رہے ہیں کہ بچوں کو اعلیٰ درجوں میں کامیاب (پاس) کروانے پر پرنسپل اور ٹیچرز کو انعام کے نام پر رشوت دی جائے گی۔ اگر عمدہ کام نہ ہو، تو پھر تنخواہ کس لیے دی جاتی ہے؟ ہسپتالوں والے کہتے ہیں کہ ہمیں پروفیشنل الاؤنس (پیشہ کے لیے الاؤنس) دوگے۔ ماسٹرز کہتے ہیں کہ ہم کو رشوت دو گے، تو اچھے ڈویژنوں میں بچوں کو پاس کروائیں گے۔ یہ عجیب سی بات ہوگئی۔ ہم نے رسکی جاب الاؤنس کا پڑھا ہے، لیکن کسی ایسے الاؤنس کا نہیں پڑھا جو تنخواہ برائے اصل پیشہ کے ساتھ اُسی پیشے کیلئے دی جائے۔ یہ تمام مسائل کمزور اورنالائق حکمرانی کے ہیں۔ قوتِ حکمرانی مضبوط ہو، تو اس قسم کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ خبر کے مطابق 240 سکولوں کے پرنسپلز کو ایک ایک لاکھ اور ٹیچرز کو پچاس پچاس ہزار روپے ’’انعامات‘‘ دیے گئے (بحوالہ آزادی پانچ اکتوبر 2017ء)۔ اب معلوم نہیں کہ ماہرینِ تعلیم نے اساتذہ کو کس طرح نوازا؟ کیوں کہ ایک بچے کو میٹرک پاس کروانے کے لیے سات تا دس اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ ان سب کی محنت سے بچے پاس ہوتے ہیں۔ کیا پچاس ہزار روپیہ ان میں تقسیم ہوگا؟ اگر نہیں تو دس میں سے کس ایک استاد کو نواز جاتا ہوگا؟ بسااوقات ایک ٹیچر کا امتحان سے کچھ قبل یا کچھ دن بعد تبادلہ ہوجاتا ہے اور وہی حقیقی محنتی اور دیانتدار آدمی ہوتا ہے۔ یوں وہ محنت اور کامیابی کے باوجود ’’انعام‘‘ سے محروم ہوگا۔ غرض یہ کہ محکمے کے تمام کام قابلِ غور ہیں۔ خود صوبائی حکومت نے اسے صوبے میں دوسرے نمبر پر کرپٹ محکمہ قرار دیا ہے جو کہ قابلِ نفرت بات ہے۔
بدقسمتی سے یہ محکمہ شدیداحساسِ کمتری کا شکار ہے۔ اس لیے باہر سے کسی بھی مشورے یا پلان کو پہلے تو قبول نہیں کرتا، اگر بحالتِ مجبوری اُسے قبول کر بھی لے، تو پہلے دستیاب موقع پر اُسے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ اس محکمے میں اگر کسی بات پر اتفاق اور اتحاد ہے، تو وہ ہے مشاہروں اور مراعات میں اضافے کے لیے دوڑ دھوپ۔ تعلیم کامعیار اور مقدار محکمہ تعلیم کی ترجیح نہیں۔ استثنا ہر جگہ ہوتا ہے، یہاں بھی اچھے اور مخلص لوگ کثرت میں موجود ہیں لیکن وہ منصوبہ سازی اور فیصلہ سازی کی کرسیوں پر نہیں بلکہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور بربادیوں پر کڑھتے رہتے ہیں۔

محکمت علیم میں اگر کسی بات پر اتفاق ہے، تو وہ ہے مشاہروں اور مراعات میں اضافے کے لیے دوڑ دھوپ۔ (Photo: radiotnn.com)

کم ازکم پندرہ بچوں اور بچیوں پر مشتمل یونٹ قرار دے کر دُور افتادہ دیہاتوں کی مساجد کے آیمہ کے دس ہزار فی یونٹ کے حساب سے مشاہیرہ پر بچوں کو پرائمری تعلیم دینے پر لگایا جائے۔ امید ہے چند مہینوں میں بہت سارے بچے مولوی صاحب کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ یہ نان فارمل ایجوکیشن کی پالیسی کے تحت ہوسکتا ہے۔ ان ایک ہزار سکولز کی عمارات کو مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نرم ترین شرائط پر لیز پر دیا جائے، تاکہ وہ نجی شعبے اور سرکاری شعبے کے اشتراک کے اصول پر ان سکولوں میں گورنمنٹ پر بوجھ بنے بغیر پڑھائیں۔ والئی سوات کے زمانے میں ڈاکٹرز نایاب تھے۔ اس لیے دور افتادہ علاقوں میں ہیلتھ کیئر کے تجربہ کار افراد کو تعینات کیا جاتا تھا۔ ایک ہزار سکولوں کی بعض عمارتوں کو کوالی فائیڈ ہیلتھ ٹیکنشنز کو بھی لیز کیا جاسکتا ہے، ورنہ ان سرکاری عمارات پر مقامی با اثر افراد قبضہ کرکے عوام کے استعمال سے محروم کر دیں گے، لیکن خدشہ ہے کہ محکمے کی بڑی منفی طاقت یہ عمارات خوداستعمال کرسکیں گی نہ کسی اور کو دیں گی۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے