567 total views, 1 views today

تاریخ شاہد ہے کہ قوموں کی ترقی اور ناموری میں اساتذہ کا اہم کردار رہا ہے۔ یہاں تک کہ تاریخ عالم کے عظیم انقلابات میں بھی اساتذہ کی کاوشوں کو نظراندازنہیں کیا جاسکتا اور یہ بات تاریخ یونان سے بھی ثابت ہے کہ اساتذہ نے قوموں کی تقدیریں بدل دیں۔ کیوں کہ اساتذہ نے ہمیشہ معاشرے کو مختلف با علم اور ہنر مند افراد کا کھیپ فراہم کیا جن میں ڈاکٹر، حکیم، انجینئر، صحافی، ادیب ، مدرس، سائنس دان، سیاست دان، جرنیل، آرٹسٹ اور علما وغیرہ شامل ہیں، جنہوں نے آگے جاکر ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ملک اور ہر زمانے میں اساتذہ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ معلمی ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے کہ دنیا کے نامور اور عظیم مفکرین اور مصلحین نے بھی پیشہ معلمی اختیار کیا۔ ارسطو، آئمہ اربعہؒ، امام غزالیؒ، شاہ ولی اللہ، محدد الف ثانیؒ اور علامہ اقبال ؒوغیرہ اور ہم بھی پیشہ معلمی سے وابستہ رہے۔ خود سرورِکائنات ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے۔‘‘ خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ ’’جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔‘‘




’’جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔‘‘ (Photo: masoumeen.wordpress.com)

دنیا کے تمام ممالک میں اساتذہ کے مسائل اور مطالبات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور انہیں حتی المقدور حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن وطنِ عزیز کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اساتذہ کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینے کی بجائے انہیں ٹرخایا جاتا ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ جب معاشرے کا یہ معزز طبقہ اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کے سلسلے میں پُرامن احتجاج بھی کرے، تو انہیں مارا پیٹا اور بے عزت کیا جاتا ہے، جس کا منظر قوم نے 25 دسمبر 2017ء کو میڈیا پر دیکھا، جب کراچی میں اساتذہ کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں چند دنوں سے اساتذہ صاحبان اپنے مطالبات کے سلسلے میں دھرنا کئے بیٹھے تھے اور جب اساتذہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ شروع کیا، تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کرکے ان پر بے پناہ تشدد کیا۔ بڑے افسوس کامقام یہ ہے کہ اس روز پاکستانی عوام بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا سالگرہ منا رہے تھے، تو جمہوریت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ مسائل کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ راقم نے صبح کے اخبارات میں یہ دلخراش منظر بھی دیکھا کہ پولیس کا ایک سپاہی ایک محترم معمارِ قوم کو مارمار کر گھسیٹ رہا ہے۔ ایک باوقار تعلیم یافتہ طبقہ کے ساتھ حکومت وقت کا یہ ظالمانہ سلوک ناقابل برداشت فعل ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو نہیں بھولنا چاہئے کہ آج وہ جو کچھ ہے استاد ہی کی وجہ سے ہے۔ (Photo: Twitter)

وزیراعلیٰ سندھ اگرچہ ایک وڈیرہ اور جاگیردار ہے، لیکن اُسے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج وہ جو کچھ ہے اور جس عہدے پر فائز ہے، یہ استاد ہی کے مرہون منت ہے۔ کیوں کہ استاد ہی نے اُسے پڑھنا اور لکھنا سکھایا۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، ذوالفقار علی بھٹو (شہید)، محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) اور بھٹو خاندان غریبوں،مزدوروں اور محروم اور نچلے طبقات کی آواز تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نام اور یادیں اب بھی غریبوں میں باقی ہیں جبکہ آج پیپلز پارٹی سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور وڈیروں کا ٹولہ بن کر رہ گئی ہے بلکہ دوسرے الفاظ میں یہ ایک رجعت پسند پارٹی ہے جس کے پاس غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کے لیے کوئی ٹھوس پروگرام نہیں ہے۔ الغرض غور کا مقام ہے کہ جن لوگوں نے غریبوں، سفید پوش کمزوروں اور محروموں کی عزت نفس کو مجروح کیا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔

…………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے