573 total views, 1 views today

’’چائلڈ ایبوز‘‘ کم سن بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا کر ان سے زیادتی کرنے کے عمل کے لئے رائج ایک انگریزی اصطلاح ہے۔ معاشرہ میں موجودانسان نما جانور اپنی ہوس کی آگ بجھانے کی خاطر بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بناتے ہیں۔ وطنِ عزیز میں یہ لعنت پچھلے کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے، مگر پچھلے چند سالوں میں یہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پہلے سنہ 2015ء میں قصور میں بچوں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں اور وحشیانہ حرکتوں کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ قصور ویڈیو سکینڈل میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح زبردستی سے معصوم بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ یہ اُس وقت کا سب سے بڑا معاشرتی مسئلہ تو تھا ہی، لیکن اس نے بعد میں ایک سنجیدہ سیاسی مسئلہ کی صورت اختیار کرلی۔ مذکورہ سکینڈل میں تقریباً دو سو اسّی سے تین سو تک بچوں کو جنسی بربریت کا شکار بنایا گیا تھا۔ ان بچوں میں اکثریت لڑکوں کی تھی۔ یہ ستائیس ارکان پر مشتمل ایک گروہ کا کام تھا جو کہ بعد میں ان ویڈیوز کے ذریعے بچوں اور ان کے والدین کو بلیک میل کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بچوں کی یہ قابلِ اعتراض ویڈیوز باہر ممالک کی مختلف فحش ویب سائٹس کو اچھے داموں فروخت کی جاتی تھیں۔ اس کیس میں ہونے والی پیش رفت کی بات کی جائے، تو اب تک گروہ کے تیرہ ارکان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ باقی ارکان میں سے پانچ چھے ایسے ہیں جو ضمانت پر رہا کئے جاچکے ہیں اور باقی ماندہ تاحال روپوش ہیں۔




پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر اس نوعیت کے گیارہ رپورٹس درج ہوتی ہیں۔ (Photo: americannursetoday.com)

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر اس نوعیت کے گیارہ رپورٹس درج ہوتی ہیں۔ اکثر صورتوں میں والدین اخلاقی، ثقافتی اور دیگر رکاوٹوں کے باعث ایسی رپورٹس درج کرنے سے کتراتے ہیں او ر خاموش اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سال 2017 ء کے پہلے چھے مہینوں میں ایک ہزار ساتھ سو چھبیس سے زائد کیس رپورٹ کیے گئے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں سے باسٹھ فیصد پنجاب، ستائیس فیصد سندھ، چہتر فیصد بلوچستان ،اٹھاون فاٹا،بیالیس خیبر پختون خوا جبکہ نو کیسز جموں کشمیر سے رپورٹ ہوئے ۔ ان کیسوں کے اعداد و شمار کے مطابق ایسے سانحات زیادہ تر دیہی علاقوں میں پیش آتے ہیں جن کا تناسب چوہتر فیصد ہے۔ دوسری طرف شہری علاقوں میں یہ تناسب دس فیصد تک کم ہو جاتا ہے جب کہ ایک تحقیق کے مطابق سنہ2016ء کے پہلے چھے مہینے کی نسبت ایسے واقعات 2017ء کے پہلے چھے مہینوں میں سترہ فیصد تک کم ہوئے ہیں، یعنی جنوری سے جون 2017ء میں سترہ سو چھبیس کیس رپورٹ ہوئے جبکہ جنوری سے جون 2016ء میں یہ تعداددو ہزار ایک سو ستائس تھی۔

………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے