548 total views, 1 views today

دو ہفتے پورے ہونے کو ہیں کہ زینب کے قاتل کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔ بریخنا کو بھی غالباً لوگ بھول گئے ہیں، جبکہ مردان کی بیچاری معصوم اسما بھی ریاست سے سوال کر رہی ہے کہ میرے قاتل کیوں دندناتے پھر رہے ہیں؟ جس طرح سے ان واقعات پر پولی ٹیکل اسکو رنگ کی گئی، وہ بھی باعثِ شرم ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ معاشرہ کیوں پستی کی طرف جا رہا ہے؟ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اللہ معاف فرمائے، لیکن جتنی توجہ ہمارے بھائی حضرات عبادات کو دیتے ہیں اگر اس کا دسواں حصہ اپنے معاملات ٹھیک کرنے پر میں لگائیں، تو معاشرہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گا۔ یہاں پر علما صاحبان بھی بار بار ایک ہی بات اپنی تقریروں میں دہرائیں گے، لیکن معاملات کی بہتری پر اپنی زبان نہیں کھولتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمدؐ کو فرماتے ہیں کہ ’’بے شک ہم نے آپ کو اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز کیا ہے۔‘‘ ہم میں سے ہر کوئی حاجی بننے کی کوشش کرے گا لیکن بات جب اپنے پڑوسی کے حقوق پر آجائے، تو آنکھیں پھیر لیتا ہے۔ ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کیا ہمارے پڑوسی نے آج کچھ کھایا بھی ہے یا بھوکے پیٹ سو گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ جب میں کسی دسترخوان پر ایک سے زیادہ قسم کے کھانے دیکھتا ہو تو مجھے فوراً خیال آجاتا ہے کہ آج ضرور کسی کا حق مارا گیا ہے۔ ہم جنت جانا چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ معاملات درست کئے بغیر پلِ صراط پار کرنا ممکن نہیں۔




حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ جب میں کسی دسترخوان پر ایک سے زیادہ قسم کے کھانے دیکھتا ہو تو مجھے فوراً خیال آجاتا ہے کہ آج ضرور کسی کا حق مارا گیا ہے۔

اگر ہم اپنے ملک میں ہونے والے حالیہ واقعات کو دیکھیں، تو ہر واقعہ پچھلے والے سے زیادہ دردناک ہوتا ہے۔ کراچی میں دن دہاڑے 19 سالہ انتظار احمد کو ACLC کے اہلکاروں نے قتل کیا۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا اور تو اور اس کے خالاؤں اور ماموں بے اولاد ہونے کی وجہ سے امید لگائے بیٹھے تھے اور انہوں نے اسے بڑے لاڈ پیار سے پالا تھا، لیکن ظالموں نے ان کی پوری نسل ہی اجاڑ کر رکھ دی۔ ڈی آئی جی آزاد خان کے مطابق سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پہلے اس کے کار کو روکا گیا، پھر سادہ کپڑوں میں ملبوث اہلکاروں جم میں ایس ایس پی کے گارڈز بھی شامل تھے، نے اسے بے رحمی سے شہید کر دیا۔ یہ واقعہ کم تھا کہ ایک اور نوجوان نقیب اللہ محسود کو کراچی پولیس نے پہلے اغوا کردیا اور پھر تین دن بعد جعلی پولیس مقابلے میں اسے مار دیا۔ نقیب اللہ کے قتل کے ذمہ دار ایس ایس پی راؤ انور ہے جسے اِن کاؤنٹر سپیشلسٹ اور ’’سوپر کاپ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اتنا خبیث انسان ہے کہ 1990ء میں فیصل کے اِن کاؤنٹر سے لے کر 2018ء کے نقیب اللہ تک ہزاروں بے گناہوں کو مار چکا ہے۔ اسے جب بھی سی ایم معطل کرتا ہے، تو زرداری اسے واپس بحال کر دیتا ہے۔ یہ اس ملک کا واحد پولیس آفسر ہے جو وزیر اعلیٰ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ ان سب واقعات کی وجہ ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت ہے۔

اس ملک کا واحد پولیس آفسر ہے جو وزیر اعلیٰ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ (Photo: The Express Tribune)

پچھلے دنوں چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے قانون میں اصلاحات کرنے پر زور دیا اور کہا کہ پارلیمینٹ اس بات کا قصوروار ہے کہ انہوں نے ملکی قوانین اَپ ڈیٹ نہیں کئے ہیں۔ میں چیف صاحب سے بالکل متفق ہوں۔ مغربی ممالک میں ہر دس سال بعد قوانین میں سے loopholes نکال کر update کیے جاتے ہیں، لیکن صدقے جاؤں ہمارے ملک کے کہ یہاں پر اب بھی انگریزوں کے قوانین نافذ ہیں جنہیں خود انہوں نے رد کردیا ہے۔ اب جب ہماری پارلیمینٹ کی کارکردگی یہ ہوگی، تو شیخ رشید اور عمران جیسے لوگوں کو اس پر لعنت بھیجنے کا جواز ملتا ہے۔ اب جب کہ نقیب اللہ محسود کیس میں چیف جسٹس صاحب نے سوموٹو لیا ہے، تو یہ امید بن گئی ہے کہ شاید راؤ انور کا رچایا گیا قتل عام ختم ہو۔ اگر شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ اپنے آپ کو بے گناہ سمجھتے ہیں، تو وہ ان پولیس افسران کو تو سزائیں دلوائیں جنھوں نے 14 لوگ مارے ہیں۔ جب تک اس ملک میں ماڈل ٹاؤن، زینب، بریخنا، عاصمہ، انتظار احمد اور نقیب اللہ محسود کو انصاف نہیں ملتا، تب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اس لاقانونیت سے بغاوت کا اعلان کرے اور حبیب جالبؔ کے ساتھ ہم آواز ہو کر یہ نظم دہرائیں کہ
اس دور کے رسم و رواجوں سے
ان تختوں سے ان تاجوں سے
جو ظلم کے کوکھ سے جنتے ہیں
انساں کے خون سے پلتے ہیں
جو نفرت کی بنیادیں ہیں
اور خونی قید کی کھادیں ہیں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے
وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
قانون بدلتے رہتے ہیں
اور جرم پلتے رہتے ہیں
ان چوروں کے سرداروں سے
انصاف کے پہرداروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
مذہب کے جو بیوپاری ہیں
وہ سب سے بڑی بیماری ہیں
وہ جن کے سوا سب کافر ہیں
جو دین کے حرفِ آخر ہیں
ان جھوٹے اور مکاروں سے
مذہب کے ٹھیکیداروں سے
میں باغی ہوں، میں باغی ہوں
جو عورت کو نچواتے ہیں
بازار کے جنس بنواتے ہیں
پھر اس کی عصمت کے غم میں
تحریکیں بھی چلواتے ہیں
ان ظالم اور بدکاروں سے
بازار کے ان معماروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو قوم کے غم میں روتے ہیں
اور قوم کی دولت دھوتے ہیں
وہ محلوں میں جو رہتے ہیں
اور بات غریب کی کہتے ہیں
ان دھوکے باز لٹیروں سے
سرداروں اور وڈیروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جہاں سوچوں پہ تعزیریں ہیں
جہاں بگڑی ہوئ تقدیریں ہیں
ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں
جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
سوچوں کی ایسی پستی سے
اس ظلم کی گندی بستی سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سر پہ ظلم کا پھندا ہے
میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
میں موت کی خاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں باغی ہوں میں باغی ہوں

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے