303 total views, 1 views today

سن 2018ء کے پہلے روز امریکی صدر مسٹر ٹرمپ نے حسبِ توقع پاکستان دشمن بیان دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں اُس کے ملک نے پاکستان کو تینتیس ارب ڈالرز دیے لیکن پاکستان نے انہیں دھوکا دیا اور پاکستان کے اندر ’’موجود‘‘ حملہ آوروں کے ٹھکانوں کو ختم نہ کرسکا۔
اس بیان کے جواب میں پاکستان کی طرف سے مختلف حلقے مؤثر بیانات دے رہے ہیں۔ میں اس پر اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتا کہ میں بھی کچھ تحریر کروں، البتہ یہ ضرور عرض کروں گا کہ مرکزی حکومت حسبِ سابق پریشان حال ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جی ایچ کیو کو بیان جاری کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی اور مرکزی حکومت خود بیان دیتی۔ ٹرمپ امریکی صدر ہے (وہاں وزیراعظم نہیں ہوتا) لیکن پاکستان میں سربراہِ حکومت وزیراعظم ہے۔ اس لیے یہاں سے مؤثر جواب وزیراعظم کو دینا چاہئے، ادارے کو نہیں۔ حکومت کو اپنا کام خود کرنا چاہئے تھا۔
دنیا میں سب معاملات کہیں بھی اور کبھی بھی سو فی صد درست نہ رہے ہیں اور نہ رہ سکتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ کمزوریاں اور نقائص ہر جگہ ہوتے ہیں۔ مقدس ہستیوں کے زمانوں میں بھی مثبت اور منفی عوامل ہوتے تھے، لیکن انسانی سوچ کا یہ تسلیم شدہ فیصلہ ہے کہ منفی عوامل کی قوتوں کو مثبت اعمال و عوامل کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اگر منفی اثرات کے خاتمے کے لیے منفی اقدامات کئے جائیں، تو فساد مزید بڑھ جاتا ہے۔ چوں کہ ٹرمپ اور اُس کی حکومت کے بعض افراد منفی اقدامات کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے پالیسی سازوں، حکمرانوں اور با اثر طبقوں اور افراد کو فوری طور پر بیدار ہوجانے کی ضرورت ہے۔ مثبت طریقوں سے عوام کے اندر خطرات کا مقابلہ کرنے کی قوتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔




ٹرمپ صاحب کا نفسیاتی نقشہ حکمرانی کے لیے اجنبی نہیں ہے۔ (Photo: brettmasonmedia.com)

ٹرمپ صاحب کا نفسیاتی نقشہ حکمرانی کے لیے اجنبی نہیں ہے۔ تاریخ میں کئی ایک غیر متوازن حکمران گزرے ہیں، جنہوں نے اپنا نام تاریخ میں ثبت کیا ہے۔ کسی نے مثبت حوالہ سے اور کسی نے منفی حوالہ سے، لیکن منفی یا جذباتی شخصیت جتنی بڑی ذمہ داری کی مالک ہوتی ہے اتنی ہی خطرناک ہوتی ہے۔ اس لیے امریکہ کی موجود حکومت کے دورانئے میں تمام مسلمان ممالک کو عموماً اور پاکستان افغانستان بشمول بھارت کو اور ایران کو خصوصاً بہت محتاط رہنا چاہئے۔ ویسے بھی موجود مغربی جنگی حکمتی عملی یہی ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی افواج اور اپنی زمین کو استعمال نہ کیا جائے، لیکن دوسروں کے علاقوں میں دوسروں ہی کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر چلائی جائے۔ اپنے سپاہی بھی محفوظ اور اپنے ممالک اور املاک بھی۔ پاکستانی حکام نے بار بار کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوس کے ممالک میں امن و خوشحالی چاہتے ہیں اور یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے کہ یہ لوگ جنگ و جدل کی بات نہیں کرتے۔
یہ ایک عام انسانی کمزوری ہے کہ کوئی بھی شکست خوردہ قوم یا شخص اپنے آپ کو شکست کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا بلکہ اپنی ناکامیوں کو دوسروں کے گلے ڈالتا ہے۔ اس لیے اگر امریکہ نے اپنی ناکامیوں کو پاکستان کے گلے ڈال دیا، تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ قوم کو کسی بھی ناپسندیدہ حالات کے لیے تیار کیا جائے۔

امریکہ اپنی ناکامیوں کو پاکستان کے گلے ڈال رہا ہے۔

پاکستان میں گذشتہ چار دہائیوں سے الراشی والمرتشی اور اقربا پروری کے ماحول اور سفارش کے کلچرنے اداروں کو ترقی معکوس (تنزل) دی ہے۔ اس لیے اداروں کی اصلاح اور بحالی ضروری کام ہے۔ حکومت پر لازم آتا ہے کہ وہ اداروں کے استحکام کی طرف فوری توجہ کرے۔ اگرچہ ہمیں حکمران جماعتوں سے درست کام کی امید نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ جماعتیں بوجوہ دیمک زدہ ہوگئی ہیں۔ البتہ اخلاص کے ساتھ اگر یہ جماعتیں کام کریں، تو کئی اصلاحات ہوسکتی ہیں۔ اصلاحات کے لیے تین شعبوں کو اول ترین ترجیح دینا ضروری ہے۔ پہلے مارکیٹ کے لوگوں کی عمدہ تربیت، اس کے ساتھ میڈیا کے تمام شعبوں کی مثبت کردار کی ادائیگی کے لیے عمدہ تربیت، میڈیا کے شعبوں میں محراب و منبر، ملا، مبلغ، مدرس، مدرسہ، سکول، کالج، یونیورسٹی، ابلاغ عامہ کے دوسرے ادارے مثلاً اخبارات و رسائل ٹی وی، ریڈیو، سیمینار، ڈرامہ، وغیرہ وغیرہ سب آتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ آرمی، پولیس، رینجرز وغیرہ کے سابقہ افراد کی ری ایکٹیویشن اور تربیت۔ اِن سروس قانون کی تربیت برائے ایمرجنسی، منڈی اور مارکیٹ سے متعلق اشرافیہ اور دوسرے اہلِ ثروت حضرات کے ساتھ مناسب سطح کی بیٹھکیں اور اُن کو اعتماد میں لے کر مناسب پالیسی بنانا اور پارلیمنٹ میں پیش کرکے منظور کروانا۔ سرحد کو مزید سخت کرنا اور ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کا سختی کے ساتھ خاتمہ کروانا۔ ملک کے اندر حکمرانی کے معیار کو بہتر اور بلند کرنا اور قوانین کو متحرک کرکے لاگو کروانا، تاکہ عوام میں اعتماد اور سکون بڑھے۔ کیوں کہ غیر مطمئن اور مشکلات میں مبتلا عوام دشمن کے عزائم کو کامیاب بناتے ہیں۔ غرض ہر وہ طریقہ جس سے قوم کو اندھیرے میں رکھنے کی بجائے مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرسکے، اختیار کیا جائے۔ اگر چہ امریکی عوام اور اس کا دانشمند طبقہ حالات کو خراب نہیں کروانے دیں گے، وہ اپنے صدر صاحب اور حکمران ٹولے کی منفی سوچ کو اعتدال پر رکھیں گے لیکن پھر بھی احتیاط لازمی ہے۔
افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ زمین ہمیشہ دوسری طاقتوں کی جنگوں کا مرکز رہی اور عوام برباد ہوتے رہے۔ پاکستان کی زمین کی بھی تقریباً وہی تاریخ ہے، جنگوں اور ٹکراو کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے مثبت محنت کی جائے۔ اگر امریکہ یا کسی اور ملک نے یہاں نیا محاذ کھولا، تو فتح یہاں کی اقوام کی ہوگی۔ امریکہ کے خلاف بلاک مضبوط تر ہوجائے گا۔ امریکہ آخر افغانستان سے چاہتا کیا ہے؟ بھارت کو کتنا سکون ملے گا اگر یہ یہاں نئے محاذ پر خوش ہوتا ہو؟ اُسے تو بالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان ہی ہوگا۔
ایران میں موجودہ (جنوری 2018ء) اشتعال اور بدامنی کیوں ہے؟ مقامی اقوام و ممالک کو سوچنا چاہئے۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے