1,347 total views, 1 views today

ابھی ڈیرہ غازی خان والے واقعہ کا زخم بھرا نہیں تھا کہ ظالم مزاج، بے حس اور ہوس زدہ معاشرے میں معصوم زینب کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ننھی کلی کا قصور کیا تھا؟ کیا قصور میں رہنا ہی اس کا قصور تھا؟ ننھی زینب کو کیا خبر تھی کہ جس درندے کا ہاتھ تھام کر وہ چل رہی ہے، وہ چند لمحوں بعد اسے گدھ کی طرح نوچ نوچ کر کھانے والا ہے۔




ننھی زینب کو کیا خبر تھی کہ جس درندے کا ہاتھ تھام کر وہ چل رہی ہے، وہ چند لمحوں بعد اسے گدھ کی طرح نوچ نوچ کر کھانے والا ہے۔ (Photo: NEO TV)

وہ ننھی کلی شاید گھر سے سیپارہ پڑھنے نکلی تھی؟ شاید یہی اس کا قصور تھا۔ نہیں نہیں! شائد اس مردہ معاشرے میں اس کی پیدائش ہی اس کا اصل قصور ہے۔ معذرت کے ساتھ قدرت کے کاموں میں دخل اندازی کرنے جا رہا ہوں۔ جی ہاں، وطنِ عزیز میں ایامِ حمل میں سائنس کی خدمات سے استفادہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ اب جب سائنس اتنی ترقی کرچکی ہے کہ پیدائش سے پہلے نومولود کے جنس کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ جی ہاں، میڈیکل سائنس اب یہ بتانے میں کوئی عار نہیں سمجھتی کہ حاملہ خاتون کے پیٹ میں مستقبل قریب میں پیدا ہونے والا لڑکا ہے یا لڑکی؟ یہاں ایک اور بات آپ کے گوش گزار کرتا چلوں۔ اگر آپ کے ہاں بیٹا ہوا ہے یا ہونے کی نوید ہے، تو خوشی منائیں اور مٹھائیاں بانٹیں۔ کیوں کہ آپ مستقبل میں ہونے والی شرمندگی سے بچ گئے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ کے ہاں خدا کی رحمت کی پیدائش متوقع ہے، تو اس معاملے میں عرب کے بدوؤں کی اس روایت کو زندہ کر دیں جو کہ ظہورِ اسلام پر ختم کر دی گئ تھی۔ اس حوالے سے ایک رائے اور بھی دیتا چلوں کہ جب سائنس کی مدد سے یہ پتا چل جائے کہ آپ ایک لڑکی کے والدین بننے جا رہے ہیں، تو  اسقاطِ حمل (Abortion) کروا لیں۔ وجہ تو آپ جان ہی گئے ہوں گے۔ نہیں معلوم تو بتائے دیتے ہیں۔ سب سے پہلا خطرہ جو لڑکی کی پیدائش پر لاحق ہوتا ہے، وہ یہ کہ لڑکے کے گھر والوں کو لڑکا چاہیے، تو آپ کیوں ایک لڑکی کو جن رہے ہیں؟ اور اگر بادلِ نخواستہ گھر والوں کو لڑکی کی پیدائش سے کوئی مسئلہ نہیں، تو ہسپتال میں ممکن ہے۔ آپ کی بچی یا تو اغوا ہو جائے یا پھر تبدیل ہوجائے۔ خوش قسمتی سے اگر آپ ان معاملات سے بچ نکلتے ہیں، تو کہاں سنبھالتے پھریں گے معصوم کلی کو؟ سیپارہ پڑھانے کے لیے کہاں بھیجیں گے؟
دنیاوی تعلیم کے لئے کس سکول کا انتخاب کریں گے؟
اور اس اسکول میں کوئی استاد مرد تو نہیں؟
سکول لے کر جانے والا مرد تو نہیں؟ اور اگر ان سب سے بچی کو بچا بھی لیا، تو گلی محلے کے غنڈوں اور بدمعاشوں سے کیسے بچائیں گے؟ انسان نما درندوں کو کیسے پہچانیں گے؟ اس سب کے باوجود اگر آپ تعلیم اور تربیت میں کوئی کمی اور کوتاہی نہیں چھوڑتے، تو ماحول سے بچانا تو بالکل بھی ممکن نہیں۔ یہاں یہ فرض کرلیں کہ آپ پر قسمت کی دیوی بہت مہربان ہے اور اب تک آپ کی بچی ان تمام خطرات سے بچ نکلی ہے، تو آپ اس کے لیے اچھا رشتہ کہاں سے تلاش کریں گے؟ جو کہ ملنا ممکن نہیں۔ اور جو ایک فیصد اچھے لوگ باقی ہیں، تو کیا بھروسا کہ شادی کے بعد وہ آپ کی پھول جیسی بیٹی کے ساتھ گھٹیا سلوک نہیں کریں گے؟ پتا نہیں اس معصوم کو سکھ کا سانس ملے گا بھی کہ نہیں؟ گھٹیا نظریں، ہوس زدہ مہربانیاں اور الزامات کے نا ختم ہونے والے سلسلوں سے کیسے نکالیں گے آپ اپنے جگر گوشے کو؟ ان تمام چیزوں کے پیشِ نظر بچیوں کو نوعمری یا پھر جوانی میں رسوا کرانے سے بہتر ہے کہ پیدائش سے پہلے ہی اسے مار دیں۔ اس مردہ معاشرے میں باپ ہونا کتنی بڑی اذیت ہے، پوچھ لیں ننھی زینب کے سرپرست سے۔

زینب کی فائل فوٹو (Photo: Dawn)

چوں کہ آپ میرے جیسے ضمیر کی عدالت میں کھڑا ہونا پسند نہیں فرمائیں گے، تو پھر “اشرف المخلوقات” کا لبادہ اوڑھے درندے آپ کی معصوم کلی کے ساتھ کھیلتے رہیں گے اور یہ نظام یوں ہی چلتا رہے گا۔ بانس رہے گا، تو بانسری بھی بجے گی کہ یہی مملکت خداداد میں حوا کی بیٹی کی قسمت ہے۔

…………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے