343 total views, 1 views today

حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور کے ایک نامور عالم دین حضرت عبدالرحیم بن علی عسقلائی جو اپنے نام سے زیادہ “قاضی فاضل” کے نام سے مشہور تھے۔ حضرت سلطان نے اپنے بارے میں مشہور اور تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: “تمہارا یہ گمان نہ ہو کہ میں نے تمہاری تلواروں سے ملکوں کو فتح کیا ہے! نہیں بلکہ یہ تو قاضی فاضل کے قلم سے ہوا ہے۔” یہ حضرت صلاح الدین ایوبی کا جملہ ہے جو جنگوں کے شیر ہیں، ملکوں کو فتح کرنے کے ماہر ہیں اور قلم کے مقام کو بھی جانتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے سنہری پنوں پر نظرِثانی کریں، تو بہت سی عظیم ہستیاں ہمارے سامنے آجائیں گی، جنہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے ایسے ایسے وار کیے کہ ظالموں کے تخت و تاج اُلٹ گئے۔ ہر طرف امن اور سچ کی فضا چل پڑی۔ بے شک قلم کا یہ راستہ طویل تر تھا لیکن روشنی سے بھرپور تھا۔ زندہ قومیں ہمیشہ قلم کو تلوار بنا کر آگے بڑھی ہیں اور خود ہم بھلا کہاں ناواقف ہیں۔ قیامِ پاکستان کے دوران میں قلمکاروں کے مثبت کردار سے جب تبدیلی کا نعرہ لگا ہے، تو ہمارے قلم کار ہی اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔

لوگوں کے شعور کو جگانے میں سب سے اہم کردار ہی قلم کے قدردانوں کا رہا ہے مگر بدقسمتی سے آج قلم کا استعمال ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور کچھ قلمکاروں کا قبیلہ ملک کی جڑوں کو کاٹنے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔ قلم کی حرمت کو داؤ پر لگانے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بگاڑ کی اہم وجہ بھی ایسے ہی قلم کار ہیں جو اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہیں اور خود کو نفع دینے کے عوض چوروں، ڈاکوؤں، لُٹیروں اور بدکار سیاست دانوں کو مسیحا بنا کر پیش کرتے ہیں۔




آج قلم کا استعمال ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے (Photo: Wonderful World)

ہمارے میڈیا و دیگر صحافی برادری کے کرداروں کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ قلم کی حرمت کے امین ہیں؟ کیا وہ قلم اُٹھاتے اور بولتے وقت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں؟ کیا وہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہیں؟ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ ان سے گزارش ہے کہ
قلم سے آگ بجھاؤ کہ جل رہا ہے چمن
خموش بیٹھے ہو، کیسے ادیب لگتے ہو

جب میں نے صحافت کے صحرائے خارزار میں عملی طور پر قدم رکھا، تو میرے ارد گرد قلم فرشوں کی ٹولیاں جمع تھیں، جو چند ٹکوں کی خاطر سیاستدانوں کے قصیدے لکھ کر اخبارات ان کی دہلیز پر پہنچاتے اور اپنے ذاتی مفادات اُٹھاتے۔ کچھ ایسے بھی پولیس کے ٹاؤٹ تھے جنہوں نے ضلعی انتظامیہ کی “خدمت” کا بیڑا اُٹھا رکھا تھا۔ ہر روز پولیس کی کارکردگی میں خبریں شائع کروا کر ان سے داد وصول کرتے اور صبح شام تھانے اور کچہریوں کے گرد منڈلاتے رہتے جونہی کوئی شکار ہاتھ آتا، انتظامیہ سے قلمی خدمت کے عوض ان کے کام کروا کر چند ٹکے وصول کرتے اور گھر چلے جاتے۔ ان کا یہ معمول آج بھی اُسی آب و تاب سے جاری ہے۔ فرق یہ پڑا ہے کہ پہلے وہ سائیکل پر، پھر موٹر سائیکل اور آج گاڑیوں پر آگئے ہیں۔ ان قلم فروشوں نے صحافت کے شعبہ کو داغدار کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے پلازے بھی بنا لیے، کوٹھیاں بھی بنوالیں۔ اپنی اولادوں کو سرکاری محکموں میں بھرتی بھی کروا لیا او رآج بھی قلم فروشی سے باز نہیں آتے۔ قلم کی حرمت کو داغدار کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ قلم کے غلط استعمال پر خدا کے ہاں پکڑ ہوگی۔ آپ کے لفظوں کا وہاں بھی حساب ہوگا کہ قلم کے ذریعے جہاد کا حکم خدا نے قرآن پاک میں جو واضح طور پر دیا ہے ،ایسے نام نہاد قلمکاروں کو سوچنا ہوگا کہ جس کی قسم خود خدا نے کھائی ہے، اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس کی حرمت کیا ہے اور بے حرمتی کرنے والے کو کیا سزا ہو سکتی ہے؟

جہاں معاشرے کے ناسور موجود ہیں، وہیں قلم کی شان و حرمت کا پاس رکھنے والے صحافی بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس قوم کے افق پر روشن ہیں، جن کے قلم کی روشنی ہمیں اور ہم جیسے سوچنے اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ قلم کی بے حرمتی پر کڑھتے ہیں اور اپنا حصہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ جہاں قلم کی حرمت کو داغدار کیا جا رہا ہے، وہیں قلم کی حرمت کے عین مطابق قلم کا استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں امن امید اور استحکام کا پیغام اپنے خوبصورت اورتاثیر سے لبریز لفظوں کے ذریعے ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ بلاشبہ یہی ہمارا غرور اور فخر ہیں۔ یہی ہیں جن کے لفظ موتی کہلاتے ہیں، یہی ہیں جن کو حق کا علمبردار بھی کہوں تو غلط نہ ہوگا۔

بدقسمتی سے علاقائی صحافت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ جہاں پر پرائمری پاس، مڈل پاس صحافی بنے ہوئے ہیں حتیٰ کہ ان پڑھ لوگ جو کل تک اخبارات بیچتے تھے، آج صحافی بنے ہوئے ہیں۔ اخبارات مالکان نے علاقائی صحافیوں کے لیے کوئی تعلیمی قید نہ رکھ کر زیادتی کی ہے جس کی وجہ سے علاقائی صحافت کاحشر نشر ہو گیا ہے۔ چپڑاسی کے لیے تو تعلیمی قابلیت کی حد مقرر ہے لیکن صحافی بننے کے لیے کسی اہلیت کا ہونا ضروری نہیں۔ کوئی بھی کچھ پیسوں کے عوض اخبار کا کارڈ لے کر دیارِ صحافت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ چھوٹے اخبارات تک محدود نہیں بلکہ بڑے ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔


بدقسمتی سے علاقائی صحافت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ جہاں پر پرائمری پاس، مڈل پاس صحافی بنے ہوئے ہیں حتیٰ کہ ان پڑھ لوگ جو کل تک اخبارات بیچتے تھے، آج صحافی بنے ہوئے ہیں۔
(Photo: Kenya Monitor)

میری تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز مالکان سے اپیل ہے کہ علاقائی صحافت کے حوالے سے صحافیوں کے لیے کچھ تو تعلیمی قابلیت کا معیار رکھیں، تاکہ قلم فروشوں کے گروہوں سے صحافت کو پاک کیا جا سکے۔ علاقائی صحافت کے لیے اگر تعلیم کا معیار میڑک ہی رکھ دیا جائے، تو میں اپنے ضلعے کے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ نوے فیصد نام نہاد ان پڑھ صحافیوں سے عوام کو نجات مل جائے گی جو اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر پریس کی پلیٹیں لگا کر جو مشکوک سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔

بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں منشیات فروشی سے لے کر جسم فروشی تک میں ملوث لوگ صحافت کی آڑ میں یہ گھناؤنے جرائم کر رہے ہیں۔ ان کے ان جرائم کا حساب روزِ قیامت اخبارات و ٹی وی مالکان کو بھی دینا ہوگا، جن کی آڑ میں یہ لوگ قلم کی حرمت کو پامال کر رہے ہیں۔ آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دلوں پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ہاں تلخیٔ ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہلِ ستم مشق ستم کرتے رہیں گے

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے