460 total views, 1 views today

ملک کے دیگر حصوں کی طرح سوات میں بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ ورکرز کنونشنز، جلسے جلوس اور شمولیتیں زوروں پر ہیں۔ ایک بارپھر سے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سبز باغات دکھانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ موجودہ صاحب ِاختیار بھی عوام کی غمی خوشی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کا پہیہ بھی تیز ہونے لگا ہے۔ گلی کوچوں کی پختگی کرکے عوام کو شیشے میں اتارنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ ماضی کی طرح جھوٹے سچے وعدے کئے جا رہے ہیں۔ چار سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے، مگر خیبر پختونخواہ کے عوام کی قسمت اب تک نہیں بدلی۔ عوام کو ’’وہ والی تبدیلی‘‘ دیکھنے کو نہیں ملی جن کا ان سے تبدیلی سرکار نے الیکشن کے دوران میں وعدہ کیا تھا۔ جیسے کہ نوے د ن میں انقلابی تبدیلی، سونامی بلین ٹریز پراجیکٹ، تین سو پچاس ڈیمز اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی وغیرہ۔
سوات میں گذشتہ چند مہینوں میں بڑی سیاسی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ سب سے زیادہ ’’تبدیلی‘‘ پاکستان مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی میں دیکھنے کو ملی۔ مسلم لیگ کے بڑے بڑے عہدیدار پی ٹی آئی کی کشتی میں سوار ہوگئے، جن میں انجینئر عمر فاروق جو کہ پی ایم ایل این ضلع سوات کے جنرل سیکر ٹری اور میاں شرافت علی جوکہ مسلم لیگ پی کے پچاسی کے امیدوار تھے، پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ افضل شاہ باچا بھی قومی وطن پارٹی سے راہیں جدا کرکے پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں۔ محض ’’ٹکٹ‘‘ کی خاطر سیاسی وفاداریاں تبدیل ہو رہی ہیں، مگر جو حضرات پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پی ٹی آئی میں پہلے سے ہی ٹکٹ کے ’’امیدوار‘‘ اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے ’’ٹکٹ‘‘ کی امید پر دیگر پارٹیوں سے برسوں کا ناتا توڑ کر پی ٹی آئی جوائن کی ہے۔

1. افضل شاہ باچا 2۔ میاں شرافت علی 3۔ انجینئر عمر فاروق (فوٹو: لکھاری)

اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی میں کھل کر اختلافات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق کچھ دن پہلے ظفر خان جو کہ انصاف یوتھ ونگ سے تعلق رکھتے ہیں، کی رہائش گاہ میں تقریب کے دوران میں پی ٹی آئی کارکنان اور ورکرز کی تقاریر سے پتا چل رہا تھا کہ ان میں کافی اختلافات ہیں اور یہی اختلافات ان کے آنے والے الیکشن پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہوسکنے کا امکان ہے۔ دوسری طرف محمد زیب خان کے بیان کو دیکھیں: ’’اگر محب اللہ خان کایہ رویہ رہا، تو پی ٹی آئی کو جیتنے میں کافی مشکل ہوگی۔‘‘




بقول ڈسٹرکٹ کونسلر محمد زیب خان: ’’اگر محب اللہ خان کایہ رویہ رہا، تو پی ٹی آئی کو جیتنے میں کافی مشکل ہوگی۔‘‘

پی ٹی آئی کارکنان نے یہ بھی کہا ہے کہ پارٹی قائدین کا ورکرز کے ساتھ جو رویہ ہوناچاہئے، اس طرح ہمارے ساتھ نہیں برتا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی میں اگر اندرونی اختلافات اس طرح جاری رہے، تو باقی سیاسی پارٹیوں کے لئے میدان ہموار ہوتا جائے گا۔
یہی حال مسلم لیگ ن کا ہے، جس نے ابھی تک کسی بھی حلقہ میں پارٹی ٹکٹ تقسیم نہیں کی ہے۔ اس عمل سے پارٹی کارکنان میں تشویش پائی جارہی ہے۔ یہ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ زیادہ تر حلقوں سے امیر مقام خود الیکشن لڑیں گے، جس میں پی کے اکیاسی اور پی کے پچاسی سرِفہرست ہیں۔ ٹکٹوں کو الیکشن سے کچھ دیر قبل تقسیم کیا جائے، تو پارٹی کو اپنی پوزیشن معلوم ہوجاتی ہے اور الیکشن کی تیاریوں میں تیزی لائی جاتی ہے۔
اس صورتحال میں اے این پی مقابلتاً سب پر بازی لے گئی ہے۔اے این پی سوات کے تمام حلقوں میں ٹکٹیں دے چکی ہے۔ ساتھ میں پارٹی کی پوزیشن بھی واضح ہوچکی ہے جس کے بعد اے این پی انتخابات کی تیاریوں میں دل کھول کر لگ چکی ہے۔

عدالت خان کے علاوہ اے این پی کے ان تمام امیدواروں کو ٹکٹ مل چکے ہیں۔ (فوٹو: لکھاری)

اے ین پی نے این اے انتیس کا ٹکٹ شیرشاہ خان آف بانڈئی، این اے تیس ڈاکٹر سلیم خان، پی کے اسّی واجد علی خان، پی کے اکیاسی شیر شاہ خان، پی کے بیاسی وقار خان، پی کے تریاسی رحمت علی خان، پی کے چوراسی ایوب خان اشاڑے، پی کے پچاسی سید جعفر شاہ اور پی کے چھیاسی عبدالوہاب عرف قجیرخان کو دیا ہے۔ قابل تحسین بات یہ ہے کہ تما م پارٹی ورکرز نے پارٹی کے فیصلہ کو قبول کیا ہے، ماسوائے پی کے چھیاسی کے کارکنان کے، جنہوں نے پارٹی سے فیصلہ پر نظرِ ثانی کی درخواست کی ہے۔ پی کے چھیاسی سے عدالت خان نے بھی پارٹی کیلئے درخواست جمع کی تھی۔
پیپلز پارٹی بھی شہزادہ شہریار امیر زیب کی شرکت سے سوات میں کافی بہتر پوزیشن پر آچکی ہے۔ تاہم پی پی پی کے یومِ تاسیس کے موقع پر علاقائی قیادت نے چند سازشیوں کا ذکر ضرور کیا کہ پارٹی میں اب بھی کچھ سازشی عناصر موجود ہیں۔ اب یہ کون ہیں اور کیا سازشیں کرتے ہیں؟ یہ پی پی پی سوات کے قائدین ہی بہتر جانیں۔
اس طرح جماعت اسلامی نے بھی کئی حلقوں میں ٹکٹ تقسیم کیے ہیں۔ مذکورہ جماعت سیاسی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہے۔ دوسری طرف جے یو آئی نے بھی ابھی تک کسی حلقے میں ٹکٹ تقسیم نہیں کیے۔
اب یہ فیصلہ الیکشن کے دن ہی ہوگا کہ کون سی پارٹی کتنی سیٹیں لینے میں کامیاب ہوتی ہے اور کون سی ناکام؟ ہماری دعا ہے کہ اللہ کرے کہ اس دفعہ اہلِ سوات کو ایسے صاحبِ اختیار نصیب ہوجائیں جو کم از کم پچاس فی صد وعدے تو پورے کرنے میں کامیاب ہوں، آمین۔

………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے