504 total views, 1 views today

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر ادارہ اور ہر چیز ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہر دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتری کی طرف سفر جاری ہے۔ انسان نے پچھلے کئی صدیوں سے ہر شعبے میں بہت ترقی کی ہے۔ خاص طور پر جب سے پہیہ ایجاد ہوا ہے، تب سے انسان نے مڑ کر نہیں دیکھا اور آئے دن نئی نئی چیزیں ایجاد ہوتی جا رہی ہیں، جو انسان کی زندگی کو آسان سے آسان تر بناتی جا رہی ہیں۔
نئی دور کی ترقی کی اس راہ پر کرنسی بھی ترقی کی منازل طے کرتے ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ کرنسی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حالت اور قیمت تبدیل کر رہی ہے۔ ابتدائی دور میں خرید و فروخت کا عمل بارٹر سسٹم کے ذریعے ہوتا تھا ( یعنی ایک چیز کے بدلے دوسری چیز)۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خرید و فروخت سونے چاندی کے عوض ہونے لگی۔ بعد میں سونے چاندی کے بدلے ایک رسید (ٹوکن) دیا جانے لگا جو سونے چاندی کے برابر کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے بعد ہر ملک نے اپنی کرنسی بنانا شروع کی۔ اس طرح ہر ملک نے اپنی کرنسی بنائی جسے پہلے سکے اور پھر کاغذ کا روپ دے دیا گیا۔یوں کرنسی کے مختلف قسم کے نوٹ بننے لگے اور ہر ایک نوٹ کو الگ الگ قیمت دی گئی۔ بعد میں پلاسٹک کرنسی بھی ایجاد ہوئی جو ڈیبٹ کارڈ کی صورت میں اب موجود ہے۔ اب دھیرے دھیرے اس کی جگہ ڈیجیٹل کرنسی (جسے الیکٹرانک کرنسی بھی کہا جاتا ہے) لے رہی ہے۔ موجودہ دور میں نیٹ بینکنگ اس کی طرف ایک پیش قدمی ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی فزیکل کرنسی کے بالکل متضاد ہے جس کا کوئی فزیکل وجود نہیں لیکن اس کی قیمت فزیکل کرنسی کے برابر ہوتی ہے۔ اس سے ہر وہ کام ممکن ہے جو کسی بھی فزیکل کرنسی سے ممکن ہے۔
اس کرنسی کے متعلق سب سے پہلے ڈیوڈ چام (David Chaum) جو کہ ایک امریکن سائنٹسٹ تھا اور کمپیوٹر میں مہارت رکھتا تھا، نے دنیا کو بتایا تھا۔ اس نے 1983ء میں اپنے ایک ریسرچ میں بتایا کہ ’’اگر ہم فزیکل کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل کرنسی کو اپنے روز مرہ کے استعمال میں لائیں، تو بینک دیوالیہ ہونے سے بچ جائیں گے اور ملک آئے دن بحران کی دلدل میں بھی نہیں دھنسے گا۔‘‘




ڈیجیٹل کرنسی فزیکل کرنسی کے بالکل متضاد ہے جس کا کوئی فزیکل وجود نہیں لیکن اس کی قیمت فزیکل کرنسی کے برابر ہوتی ہے۔ اس سے ہر وہ کام ممکن ہے جو کسی بھی فزیکل کرنسی سے ممکن ہے۔ (Photo: Laissez Faire Books)

چوں کہ یہ ایک نئی تحقیق تھی، اس لیے اسے زیادہ پزیرائی نہیں ملی۔ بعد میں اس کو کئی ممالک اور بینکوں نے زیر غور لایا لیکن اس کا کوئی مؤثر نتیجہ نہ نکل سکا۔
اس طرح 2008ء میں ستوشی ناکاموٹو (Satoshi Nakamoto) نے بٹ کوائن (Bit Coin) کے نام سے ڈیجیٹل کرنسی کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔ اس وقت اس کی قیمت تقریباً دس پاکستانی روپے کے برابر تھی۔ اسے ایک طرح سے فراڈ سمجھ کر زیادہ تر لوگوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی جبکہ کچھ لوگوں نے اس میں تھوڑی رقم لگا دی۔ پھر سنہ 2013ء میں اس کی قیمت تین لاکھ روپے تک پہنچی۔ یوں جن لوگوں نے اس میں پیسے لگائے تھے، اس وقت ان کی رقم کئی سو گنا زیادہ کی قیمت کی حامل ہوگئی۔ کیوں کہ اس کوائن کی قیمت 2009ء میں پاکستانی دس روپے کی برابر تھی، دوہزار تیرہ میں تین لاکھ جبکہ آج کل ساڑھے آٹھ لاکھ پاکستانی روپیہ تک اس کی حیثیت پہنچ گئی ہے۔

2008ء میں ستوشی ناکاموٹو (Satoshi Nakamoto) نے بٹ کوائن (Bit Coin) کے نام سے ڈیجیٹل کرنسی کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔ (Photo: VOA News)

ڈیجیٹل کرنسی کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی قیمت سپلائی اور ڈیمانڈ کے تحت بڑھتی اور کم ہوتی رہتی ہے۔ اس کرنسی کو ماڈل بنا کر بہت سارے ممالک اور بینکوں نے اپنی ڈیجیٹل کرنسی بنانے پر غور و فکر شروع کر دی ہے۔ آج کل آٹھ سو سے زائد کرنسی کی اقسام موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال نئی نئی کرنسی بن رہی ہے جس کے بہت سارے فوائد ہیں۔
سب سے بڑا فائدہ یہ کہ اسے کوئی آپ سے چھین نہیں سکتا۔ دوسرا فائدہ اس کے گم ہو جانے کا ڈر نہیں۔ تیسرا،آپ جہاں جاتے ہیں، یہ آپ کی پہنچ میں رہتی ہے۔
اس کرنسی کی سب سے بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی قیمت دن بہ دن بڑھتی رہتی ہے اور چوں کہ یہ بلاک چینی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس کے ذریعے اس کی ابتدا سے آخر تک کا ریکارڈ موجود رہتا ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی کے مد مقابل فزیکل کرنسی کی قیمت دن بدن کم ہوتی رہتی ہے اور اس کے برعکس ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت بڑھتی رہتی ہے جس کی ایک خاص وجہ ہے۔ کیوں کہ نوٹ لاکھوں کی تعداد میں نئے بنتے رہتے ہیں جبکہ ڈیجیٹل کرنسی کی تعداد فکس ہوتی ہے جو کمپنی کی ابتدا میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے فیکس کی جاتی ہے اور ایک بار اسے فیکس کرنے کے بعد اسے زیادہ یا کم کیا جاسکتا ہے۔
جاتے جاتے نوٹ کرنے والی بات بتاتا چلوں کہ جس کرنسی کا ذکر کیا گیا ہے، اس کی قیمت سپلائی اور ڈیمانڈ کے تحت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا کرنسی خریدنے سے پہلے مارکیٹ کو اچھی طرح جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔ اس کالم کو لکھنے کا مقصد صرف اور صرف قارئین کو نئی کرنسی بارے معلومات دینا ہے۔ اس لئے بعد میں لکھنے والے پر کسی قسم کی زمہ داری عائد نہیں ہوگی۔

……………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے