285 total views, 1 views today

صاف پانی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ افسوس کہ کس طرح اس کا ضیاع ہو رہا ہے۔کون اس میں ذمہ دار ٹہھرائے جا سکتے ہیں؟ پانی کے بغیر زندگی کا وجود ناممکن ہے۔ کائنات کی تمام اشیا میں پانی کا عنصر بھرا گیا ہے۔ اگرچہ پانی کا مسئلہ ساری دنیا میں سر اٹھا رہا ہے، لیکن ترقی یافتہ ممالک نے اس کا حل نکال لیا ہے۔ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لئے فلٹر پلانٹ اور تالاب وغیرہ بنائے گئے ہیں۔ ہمار ا وطن پانی اور زراعت سے بھرپور ہے لیکن بدقسمتی سے ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور عوام میں شعور و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں بہترین زراعت ممکن ہے اور نہ صاف پانی کی ترسیل یقینی بنائی گئی ہے۔ ہزاروں لاکھوں کیوسک صاف پانی سمندر برد ہو جاتا ہے۔ اور ہماری صورتحال یہ ہے کہ عوام بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ درحقیقت یہ سب کچھ ناقص انتظامات ہی کے طفیل ہے۔

ترقی یافتہ ممالک نے اس کا حل نکال لیا ہے۔ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لئے فلٹر پلانٹ اور تالاب وغیرہ بنائے گئے ہیں۔

مینگورہ سوات کے مکینوں کا ایک دیرینہ مطالبہ صاف پانی کی فراہمی ہے۔ ضلع سوات، خصوصاً مینگورہ میں ناقص پانی کی وجہ سے مختلف اقسام کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ناقص پانی کے علاوہ زنگ آلود پائپ اور گندی نالیوں میں لگے پائپ بھی اپنا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ مینگورہ کے بالائی علاقوں کے علاوہ میدانی علاقوں میں بھی تقریباً تمام کنویں خشک ہوچکے ہیں۔ ٹیوب ویلز کی ناقص کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ رہی سہی کسر کمپریسر کے ذریعے پانی کو کھینچ کر غریبوں کے لئے مسائل پیدا کرکے پوری کی جاتی ہے۔ یہ یاد رہے کہ پانی کی ترسیل کے لئے علاقہ مکین ٹی ایم اے کو باقاعدہ طور پر فی کنکشن کے حساب سے پیسوں کی ادائیگی کرتے آ رہے ہیں۔ تحصیل انتظامیہ کو پانی کی سہولیات کی فراہمی کے عوض کافی ریونیو ملتا ہے۔ لیکن بہتر سہولیات کس کو ملتی ہیں؟ وہ آپ سب کو پتا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بنایا فلٹر بوتلوں کا پانی سرمایہ دار ہی پیتے ہیں۔ غریبوں کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آئینی اور قانونی طور پر ریاست صحت، علاج، تعلیم اور صاف پانی کی ترسیل کی ذمہ دار ہے۔
اس ساری صورتحال میں دریائی پانی بھی انسانی فضلات، ٹی ایم اے کی گندگیوں، کرش مشین، ہوٹلز اور دیگر آلودگیوں سے ناکارہ ہوکر پینے یا غسل کرنے کے لائق تک نہیں رہا۔ اس طرف بھی صاحبانِ حکومت عوام میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی توجہ مرکوز کریں، تاکہ دریائے سوات کہ جس پر جنت کے نالہ کا گمان ہوتا ہے، کی صفائی کا خاص طور پر خیال رکھا جاسکے۔ ضمنی طور پر عرض ہے کہ اگر دریائے سوات کا خیال رکھا گیا، تو سوات کے نالوں (خوڑ) اور دریا کے پانی کے علاوہ مچھلیوں، بجری وغیرہ سے لاتعداد اور بے شمار منافع بخش فوائد سمیٹے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک قطعہ زمین سے ایک ڈائنا بجری تقریباً آٹھ سو روپے میں ملتی ہے، تو سوچئے کہ ایک ہی جگہ سے ہزاروں ڈائنے کی بجری بیچی جا سکتی ہے۔ اس کا متبادل یہ ہے کہ دریائے سوات یعنی قدرت وقتاًفوقتاً اس کو بھر دیتی ہے۔ مچھلی، پانی اور آب پاشی کے فوائد اس سب کے علاوہ ہیں۔ دریائی پانی ایک طرف زراعت میں مدد دے رہا ہے، تو دوسری طرف مختلف موزوں جگہوں پر ہائیڈل پاور پلانٹ لگا کر بجلی بھی بنائی جا سکتی ہے۔ اس طرح سوات کے علاوہ پورا خیبرپختونخوا اس سے استفادہ کرسکتا ہے۔ زراعت کے علاوہ سیاحتی ترقی میں بھی دریائے سوات اپنا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پر (علاوہ فضاگٹ پارک اور ایک دو جگہوں کے) سیاحوں کے لئے پکنک سپاٹ یا پارک نہیں بنائے گئے ہیں۔




اگر دریائے سوات کا خیال رکھا گیا، تو سوات کے نالوں (خوڑ) اور دریا کے پانی کے علاوہ مچھلیوں، بجری وغیرہ سے لاتعداد اور بے شمار منافع بخش فوائد سمیٹے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک قطعہ زمین سے ایک ڈائنا بجری تقریباً آٹھ سو روپے میں ملتی ہے، تو سوچئے کہ ایک ہی جگہ سے ہزاروں ڈائنے کی بجری بیچی جا سکتی ہے۔

یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ صوبائی حکومت نے دریائے سوات کے پانی کی صفائی اور مینگورہ تک ترسیل کے لئے جاپان کی ایک کمپنی ’’جیکا‘‘ یعنی جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی سے (Gravity Flow Water Supply Scheme Mingora District Swat) معاہدہ کرلیا ہے۔ صوبائی حکومت نے ’’جیکا‘‘ سے معلومات کی شئیرنگ کے لئے فیزیبلیٹی رپورٹ تیار کرکے ان کے حوالہ کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت ’’جیکا‘‘ کے ساتھ باہمی ترقی کے اہداف سر کرے گی۔ فیزیبلیٹی رپورٹ اور پی سی ون پراجیکٹ پر خطیر لاگت، یعنی بارہ کروڑ روپے خرچہ آیا ہے۔ منصوبے کی منظوری کی خاطر تیرہ انچ پائپ لائن کی منظوری دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے عوام کا دیرینہ مطالبہ آخر کار پورا کر ہی دیا۔ سالانہ ترقیاتی فنڈ 2017/2018ء میں اس منصوبے کو شامل کیا گیا ہے۔ منصوبے کے خدوخال کے مطابق باغ ڈھیرئی میں فلٹریشن پلانٹ لگا کر مینگورہ تک مذکورہ پائپ کے ذریعے پانی لایا جائے گا۔ بعد ازاں پانی کو سٹور کرکے آب پاشی کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ ضلع سوات میں پانی کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کی خاطر مینگورہ میں صاف پانی کی ترسیل اور بروقت فراہمی حکومتِ وقت کا کارنامہ تصور ہوگا۔

یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ صوبائی حکومت نے دریائے سوات کے پانی کی صفائی اور مینگورہ تک ترسیل کے لئے جاپان کی ایک کمپنی ’’جیکا‘‘ یعنی جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی سے (Gravity Flow Water Supply Scheme Mingora District Swat) معاہدہ کرلیا ہے۔ صوبائی حکومت نے ’’جیکا‘‘ سے معلومات کی شئیرنگ کے لئے فیزیبلیٹی رپورٹ تیار کرکے ان کے حوالہ کی ہے۔

’’جیکا‘‘ اسکیم، پانی فلٹر کرکے سالانہ معاہدے کی بنیاد پر اپنے طور پر سوات کے صاف شدہ دریائی پانی کو بوتلوں میں بند کرکے بازار میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ البتہ صوبائی حکومت صرف یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح اس ڈسٹرکٹ اسکیم میں مینگورہ میں صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہوسکے۔ مطلب یہ ہے کہ’’جیکا‘‘ ایک منافع بخش اسکیم بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ پانی کس کو کتنے داموں بیچا جاتا ہے؟ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس کا ریونیو کس کو اور کتنا ملے گا؟ اس کا پتا بعد میں چلے گا۔

واٹر سپلائی منصوبہ 3534.50 ملین روپے کی خطیر لاگت سے بنایا گیا ہے۔ جسے سالانہ ترقیاتی پراجیکٹ میں پینے کے صاف پانی کے سیکٹر میں ڈالا گیا ہے۔’’جیکا‘‘ کے علاوہ صوبائی حکومت نے صاف پانی کی فراہمی کی مد میں (Water and sanitation services (company نامی ادارے کی بنیاد ڈالی ہے۔ جس کے مقاصد بھی تجرباتی طور پر مینگورہ میں پانی، گندی نالیوں اور فضلات کی آلودگی کی صفائی ہیں۔ مذکورہ پروگرام کو لانچ کردیا گیا ہے۔ یہ پروگرام اور کمپنیاں دیگر اضلاع جیسے مردان، بنوں، ایبٹ آباد اور سوات وغیرہ میں بنائے جانے ہیں۔ جس کی ساری کمپنیوں کے فیصلے اور مشاورت بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹر کی سربراہی چیئرمین کرتا ہے جبکہ اس کے علاوہ اس کے ایگزیکٹوز ممبران میں ڈسٹرکٹ ناظم اعلیٰ، تحصیل ناظم، ڈی سی اور ٹی ایم او شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد ممبران جس میں وکلا اور سول سوسائٹی ممبرز بھی ہوتے ہیں، اس میں شامل ہیں جو کہ بغیر تنخواہ رضا کارانہ طور پر معاشرے کی ترقی کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ پانی کی صفائی اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لئے ٹی ایم اے کے واٹر اور سینی ٹیشن ڈپارٹمنٹ کے اہلکار کام کریں گے۔ ٹیکنو کریٹ، جیو لوجیکل آفیسرز اور اس سبجیکٹ سے متعلقہ افسران کو دگنی تنخواہیں دینا اس مقصد کو کامیاب بنانے کے لئے ہے۔ تاکہ کسی طرح یہ کارپوریٹ ادارہ اپنے قدم جماکر اپنے اخراجات پوری کرسکے اور عوام کو پانی اور صفائی کی مد میں بہتر سہولیات دئیے جاسکیں۔

واٹر سپلائی منصوبہ 3534.50 ملین روپے کی خطیر لاگت سے بنایا گیا ہے۔ جسے سالانہ ترقیاتی پراجیکٹ میں پینے کے صاف پانی کے سیکٹر میں ڈالا گیا ہے۔

اس اسکیم کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی طرح مینگورہ میں صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔ اور کم از کم ہرگھر اس اسکیم سے استفادہ کرسکے۔ مینگورہ میں تجرباتی طور پر یہ اسکیم لانچ کی جاچکی ہے۔ مینگورہ اسکیم کی کامیابی کے بعد سوات کے دیگر علاقوں تک اسے پھیلایا جائے گا۔ یہ اسکیم کامیابی کے حصول کے لئے خیراتی اداروں، مخیر حضرات اور مختلف ڈونرز کے ساتھ اپنے طور پر معاہدات بھی کرسکتی ہے۔ اسکیم عام عوام کے مشوروں، تحفے تحائف جیسے گاڑی، رقم یا سروسز کو قبول کرتی ہے۔ مذکورہ اسکیم میں صفائی کے لئے ہر محلے میں چھوٹے بڑے ڈسٹ بن اور چھوٹے محلوں میں چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے گندگی کو اٹھایا جا ئے گا۔
دنیا میں تازہ پانی صرف2.5 فیصد پر موجود ہے۔ پانی انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ حیوان، چرند پرند، پھل پودوں اور درختوں کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاہم بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پانی ہماری معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ قدرتی ماحول اور ارد گرد کے ایکو سسٹم کے علاوہ پانی پر انسانی زندگی کا دار و مدار ہے۔ اگرچہ نیلی دنیا میں 7 5 فیصد پانی موجود ہے لیکن وہ گندہ یعنی آلودہ ہے، یا گندہ کیا جا چکا ہے۔ برف کا پانی اور بارانی پانی بھی نسبتاً صاف ہوتا ہے۔ مطلب دریائے سوات کے پانی کو اگر آلودگی سے پاک رکھ کر اس کا خیال رکھا جائے، تو یہ ایک بیش قیمت خزانہ ہے اور آئندہ نسلوں کی میراث اور امانت ہے۔ اس لئے یہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ تازہ پانی جو سمندر میں ویسے ہی گرتا ہے، کو انسانی ضروریات کے لئے کام میں لایا جائے۔ ایک ایک بوند کو انسانیت کے لئے بچایا جائے۔ عوام میں پانی کے متعلق شعور اجاگر کرنا اور اس کی اِفادیت سمجھانا انسانیت پر احسان تصور ہوگا۔

……………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے