463 total views, 1 views today

تاریخی دستاویزات میں سوات کو طبعی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا لکھا گیا ہے۔ ان دو حصوں کو ’’کوز سوات‘‘ اور ’’بر سوات‘‘ کہتے ہیں ۔ میجر راورٹی نے سوات کے دو حصوں میں طبعی اور قدرتی تقسیم کے بارے میں لکھا ہے۔ وہ بھی ’’کوز سوات‘‘ اور ’’بر سوات‘‘ ہے۔ اس بارے میں آپ نے لکھا ہے کہ مانیار سے طوطہ کان تک کوزسوات ہے اور مانیار سے پیا تک برسوات ہے۔ سوات کے مختلف حصوں اور طبعی تقسیم کے بارے میں امپیرئل گزیٹیئر آف این ڈبلیو ایف پی میں اسی طرح لکھا گیا ہے (یاد رہے کہ یہ گزیٹیئر تقریباً 1901ء میں شائع ہو چکا ہے):
Swat is divided into two distinct tracts: one, the Swat Kohistan, or mountain country on the upper reaches of the Swat river and its affluents as far south as Ain; and the other, Swat proper, which is further subdivided into Bar (Upper) and Kuz (Lower) Swat, the later extending from Landakai to Kalangai, a few miles above the junction of the Swat and Panjkora rivers.
میک موہن نے اپنی رپورٹ میں کوز سوات کی حدود کو قلنگی تک بیان کیا ہے۔ وہ اس بارے میں یوں رقمطراز ہیں :
From the village of Ain commences Swat proper. The upper portion from there down to the Landakai spur, five miles above Chakdara, is known as Bar (Upper) Swat, while the lower portion from Landakai downwards as far as the village of Kalangai is called Kuz (Lower) Swat.
ادینزئی کا علاقہ جو تالاش تک پھیلا ہوا ہے یہ بھی وادی سوات کا حصہ تھا اور 1922ء تک ریاستِ سوات میں شامل تھا۔دریائے سوات کے دائیں جانب سوات کی حدود بڑنگولہ تک بیان کی گئی ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ وادئی سوات کی حدود طوطہ کان تک پھیلی ہوئی تھیں اور طوطہ کان سے آگے اتمان خیل کا علاقہ ہے جو تاریخی دستاویزات میں سوات سے باہر ایک جدا علاقہ بیان کیا گیا ہے۔ بونیر کو ریاست سوات میں تو شامل کیا گیا تھا، لیکن ریاست سوات سے پہلے یہ وادئی سوات میں شامل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ راورٹی نے اپنے مقالہ میں بونیر کو سوات سے ایک علیحدہ علاقہ یاد کیا ہے۔ انگریزوں نے ملاکنڈ کو 1895ء میں ایجنسی کا درجہ دیا۔ اس سے پہلے ملاکنڈ کے بعض علاقے وادئی سوات میں شامل تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ سوات اور ملاکنڈ کا ایک ہی تہذیبی پس منظر ہے۔ بیلیو نے اپنی کتاب (مطبوعہ 1864ء) میں سوات کی حدود کے بارے میں یہ لکھا ہے:
The Swat valley is a rich and fertile strip of land between the Ilam range and its extension westwards, as far as Hazarnao on the south, and the Laram mountains, with its western and eastern prolongations, the Kamrani and Munjai mountains, on the north. Its eastern limit is at the ghorband peak and towards the west at the Hatmankhail [utmankhail] hills and Bajawar.




ادینزئی کا علاقہ جو تالاش تک پھیلا ہوا ہے یہ بھی وادی سوات کا حصہ تھا اور 1922ء تک ریاستِ سوات میں شامل تھا۔دریائے سوات کے دائیں جانب سوات کی حدود بڑنگولہ تک بیان کی گئی ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ وادئی سوات کی حدود طوطہ کان تک پھیلی ہوئی تھیں اور طوطہ کان سے آگے اتمان خیل کا علاقہ ہے جو تاریخی دستاویزات میں سوات سے باہر ایک جدا علاقہ بیان کیا گیا ہے۔ بونیر کو ریاست سوات میں تو شامل کیا گیا تھا، لیکن ریاست سوات سے پہلے یہ وادئی سوات میں شامل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ راورٹی نے اپنے مقالہ میں بونیر کو سوات سے ایک علیحدہ علاقہ یاد کیا ہے۔

وادئی سوات کی چوڑائی اور لمبائی کے بارے میں بیلیو نے لکھا ہے کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک لمبائی تقریباً ستر میل ہے۔ اور اوسطاً چوڑائی تقریباً دس میل ہے۔ سید عبدالغفور قاسمی نے لکھا ہے کہ ریاستِ سوات کے مشرق میں اباسین، مغرب میں تھانہ اور ادینزئی کا علاقہ، شمال میں دیر ریاست اور جنوب میں ضلع مردان اور دربند کی ریاست واقع ہے۔ محمد نواز طائر نے سوات کی حدود کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک زمانے میں قلنگئی ترئی سے لے کر مدین تک یہ تمام علاقہ سوات کہلایا جاتا تھا، لیکن جب ریاست بنی، تو علاقائی حدبندیوں میں تبدیلیاں آئیں اور اسی طرح بائیزے رانڑیزے کے علاقے ملاکنڈ ایجنسی میں شامل ہوئے اور ادینزئی دیر ریاست میں شامل ہوا۔ اس طرح گوڑے کی ٹاپ اور لنڈاکی کی پنگھٹ سے اوپر کا علاقہ سوات رہ گیا۔ ریاست سوات کی حدود کے بارے میں جارج گٹلے نے یوں لکھا ہے:
It is bordered on the North by Chitral State and Gilgit, on the North west by Dir state, on the South by the District of Mardan on the east by the District of Hazara and on the West by Malakand Tribal Area of Pakistan. It runs 10 0miles from North to South and 5 0miles from East to West at its longest and widest points, with a total area of 40 0square miles.
ریاست سوات میں جو علاقے شامل تھے ان کے بارے میں مخدوم تصدق احمد یوں لکھتے ہیں :
The actual position today is that the area lying south of Landakai is not referred to as Swat. What is called Swat today consists of (I) the valleys lying between Landakai and Kalam and certain adjacent areas, (II) the valleys of Chamla and Buner which are separated from the Swat valley by Mount Ilam, (III) the mountainous region known as the Indus Kohistan which is bounded by the river Indus on the one hand, and the high hills situated to the east of Kalam on the other hand, (IV) Kalam valley which territorially is not a part of Swat State but is administered by the ruler (Wali) on behalf of the Government of Pakistan.
اس تاریخی تجزیہ سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کوہستان، بونیر اور شانگلہ کے علاقے تاریخی دستاویزات میں طبعی طور پر سوات کا حصہ نہیں تھے۔ اسی طرح لنڈاکی سے ملاکنڈ (قلنگئی) تک یہ علاقے طبعی سوات کا حصہ تھے لیکن جب انگریزوں نے ملاکنڈ ایجنسی بنائی، تو ان کو سوات کی طبعی جغرافیہ سے جدا کر کے ملاکنڈ ایجنسی کا حصہ بنایا۔ اس طرح ادینزئی کا علاقہ ریاست سوات سے جدا کر کے ۱۹۲۲ء میں ایک معاہدے کے تحت دیر کی ریاست کے ساتھ شامل کیا گیا۔ اگر موجودہ وقت میں سوات کو انتظامی سہولت کی خاطر دو اضلاع یعنی کوز سوات اور بر سوات میں تقسیم کیا جائے، تو اس سے سوات کی تاریخی حیثیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کیوں کہ دونوں اضلاع کا نام سوات ہوگا، مگر صرف ایک سابقہ ان کے ساتھ لگایا جائے گا یعنی کوز سوات اور بر سوات۔ ویسے بھی تاریخی دستاویزات میں اسی قسم کے لاحقوں کو مؤرخین نے استعمال کیا ہے۔ اگر طبعی جغرافیہ کو مدنظر رکھا جائے، تو آبادی میں اضافہ کی وجہ سے موجودہ ضلع سوات تین اضلاع میں بھی تقسیم ہوسکتا ہے اور پھر ان اضلاع کے نام کوز سوات، برسوات اور سوات کوہستان ہوں گے اور اسی طرح یہ تینوں اضلاع ایک ہی ڈویژن پر مشتمل ہوں گے جسے سوات ڈویژن کہا جائے گا ۔




تبصرہ کیجئے