646 total views, 1 views today

بیس اکتوبر2017ء کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مدین میں ایک جلسہ میں بر سوات کے عوام کا مطالبہ مانتے ہوئے سوات کو دواضلاع میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد مختلف لوگوں کا رد عمل سامنے آیا۔ ان میں برسوات کے لوگوں نے اس کے حق میں سوشل میڈیا اور اخبارات میں لکھنا شروع کیا اور کوز سوات کے بعض لوگوں نے اس انتظامی تقسیم کے خلاف لکھنا شروع کیا۔ اسی دوران میں جب مَیں ان مختلف قسم کی تحاریر کو پڑھتااور تقاریر کو سنتا ہوں، تو ان میں بے شمار تاریخی غلطیاں میری نظر سے گزرتی ہیں۔ لہٰذا اس قسم کی تاریخی غلطیوں کی تصحیح کیلئے میں نے سوات کے انتظامی تقسیم کا تاریخی جائزہ لیا ہے، تاکہ تاریخی تناظر میں اس بات کو غور سے دیکھا جائے۔ تاریخی جائزہ کے بعد میں اس نتیجہ پہ پہنچا ہوں کہ برسوات کو ایک الگ ضلع کی حیثیت دینے سے سوات کی تاریخی، تہذیبی اور سیاسی اہمیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ اس انتظامی تقسیم سے سوات مزید ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا۔ کیوں کہ سیاستدان، سول سوسائٹی اور سماجی کارکن اپنے علاقے کی ترقی پر زیادہ توجہ دیں گے۔ اس انتظامی تقسیم سے اگر ایک طرف برسوات کے عوام کوآسانی ہوجائے گی، تو کوز سوات کے عوام کو بھی بعض آسانیاں مل جائیں گی۔ کم ازکم یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس انتظامی تقسیم سے کوز سوات کے عام لوگوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ شائد بعض سیاسی لوگوں کو اپنے کچھ ذاتی نقصانات نظر آتے ہوں، اس لئے وہ اس عوامی سہولت، ترقی اور آسانی کے خلاف ہیں۔بہرحال میری اس تحریر کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے بلکہ تاریخ اور تحقیق کے طالب علم ہونے کے ناتے میں تاریخی غلطیوں کی تصحیح کی خاطر یہ تحریر پیش کر تا چلوں۔
جب ہم سوات کی حدود اور طبعی جغرافیہ کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں، تو ہم سوات کی تاریخ کو تین ادوار میں بانٹتے ہیں ۔
پہلا دور: قبل از ریاستِ سوات۔
دوسرا دور: ریاستی دور۔
تیسرا دور: ریاست کے انضمام کے بعد کا دور۔
جب ریاستِ سوات وجود میں نہیں آئی تھی، تو سوات کی اپنی طبعی حدود ہوا کرتی تھیں۔ جب سوات کی ریاست وجود میں آئی، تو ہمسایہ ریاستوں سے بعض علاقوں پر لڑائی جھگڑے شروع ہوئے۔ اس وجہ سے بعض ایسے علاقے جو سوات کا طبعی حصہ تھے، ان کو سوات سے الگ کر کے دوسری ریاستوں کے ساتھ ملحق کیا گیا اور اس طرح ان علاقوں سے سوات کا نام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوا۔ اس کے برعکس ریاستِ سوات کے حکمرانوں نے ریاست کی حدود ایسے علاقوں تک پھیلائیں جو اس سے پہلے سوات کا طبعی حصہ نہیں تھیں۔ ان علاقوں کو قبضہ کرنے کے بعد انہیں ریاستِ سوات میں شامل کیا گیا۔ ایسے علاقوں میں بونیر، کوہستان اور شانگلہ شامل تھے۔ اسی طرح اگر ہم دیکھیں، تو طبعی سوات کے شمال کی طرف ادینزئی کا علاقہ اور مغرب کی طرف لنڈاکی سے قلنگی تک یہ علاقے جدا کرلئے گئے۔ ادینزئی کا علاقہ 1922ء میں ایک معاہدے کے تحت دیر کی ریاست کے ساتھ شامل کیا گیا۔ اس طرح لنڈاکی سے قلنگی تک ان علاقوں کو انگریز کنٹرول والے علاقے ’’ملاکنڈ پروٹکٹیڈ ایریا‘‘ میں شامل کیا گیا۔ یوں سوات نے ایک طرف اپنے ان طبعی علاقوں کو کھویا، تو دوسری طرف ریاست کے حکمرانوں نے ریاست کی حدود کو توسیع دے کر بونیر، کانڑا، غوربند اور کوہستان کے علاقوں کو قبضہ کرکے انہیں ریاستِ سوات میں شامل کرلیا۔ ریاستِ سوات کے حکمرانوں نے سب سے آخر میں جن علاقوں کو قبضہ کرنے اور ان کو ریاستِ سوات میں شامل کرنے کی ناکام کوشش کی، وہ کالام اور ملحقہ علاقے تھے۔ چودہ اگست 1947ء کو جب برطانوی حکومت ان علاقوں کو چھوڑ کر جانے والی تھی، تو اس نے سوات کے حکمران کو 14 اگست کی رات کو کالام پر قبضہ کرنے کا اشارہ دے دیا، لیکن جب پاکستان بنا، تو انہوں نے اس قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور سوات کے حکمران کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ بعد میں ایک معاہدے کے تحت سوات کے والی کو پاکستان کی حکومت کی طرف سے کالام کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا اور اس کے بدلے میں حکومتِ پاکستان آپ کو سالانہ مقرر کردہ رقم (چوبیس ہزار روپیہ) دیا کرتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ رقم سالانہ دس ہزار روپیہ تھی۔ کالام اور ملحقہ علاقوں کو انگریزوں نے اس لئے سوات کی ریاست کا حصہ بننے نہیں دیا کہ ان علاقوں پر تینوں ریاستوں یعنی چترال، دیر اور سوات کا دعویٰ تھا، تو اس لئے انگریزوں نے ان علاقوں کو آزاد چھوڑ دیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کالام کے جنگلات وغیرہ کی وجہ سے انگریز حکومت ان علاقوں کو کسی کے قبضہ میں نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ جغرافیائی اہمیت کو مدنظر رکھ کر بھی ان علاقوں کو آزاد رکھا گیا ہو۔ بہرحال جو کچھ بھی تھا لیکن کالام اور ملحقہ علاقے ریاست سوات کا حصہ نہیں رہے۔




کالام، سوات

کالام اور ملحقہ علاقوں کو انگریزوں نے اس لئے سوات کی ریاست کا حصہ بننے نہیں دیا کہ ان علاقوں پر تینوں ریاستوں یعنی چترال، دیر اور سوات کا دعویٰ تھا، تو اس لئے انگریزوں نے ان علاقوں کو آزاد چھوڑ دیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کالام کے جنگلات وغیرہ کی وجہ سے انگریز حکومت ان علاقوں کو کسی کے قبضہ میں نہیں دینا چاہتی تھی۔

جب 1969ء میں ریاستِ سوات کو پاکستان کے ساتھ ضم کیا گیا اور اس ریاست کو ایک ضلع کی حیثیت دی گئی، تو اس وقت کالام کو بھی اس ضلع میں شامل کیا گیا اور اسی طرح ریاست سوات کے علاقوں بشمول کالام کو ایک ضلع بنایا گیا جو کہ ضلع سوات کہلایا جانے لگا۔ بعد ازاں 1976ء میں اباسین کوہستان کے جو علاقے ضلع سوات میں شامل تھے، ان کو علیحدہ کر کے کوہستان کے نام سے ایک جدا ضلع بنا یا گیا اور 1991ء میں بونیر اور ملحقہ علاقوں کو جدا کر کے بونیر ضلع بنایا گیا۔ اس طرح 1995ء میں کانڑا، غوربند اور پورن چکیسر وغیرہ علاقوں کو شانگلہ کے نام سے ایک الگ ضلع بنایا گیا۔ یاد رہے کہ کوہستان، بونیر اور شانگلہ کو علیحدہ علیحدہ ضلع بنانے کیلئے اس وقت کے لوگوں نے بھی کافی تحریکیں چلائی تھیں اور انتظامی سہولت کی خاطر ہی حکومت نے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان علاقوں کو الگ الگ ضلع بنایا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کوہستان، بونیر اور شانگلہ کے علاقے جو بعد میں علیحدہ علیحدہ ضلعے بنے، ان علاقوں کو تاریخی دستاویزات میں ریاستِ سوات میں شامل کرنے سے پہلے سوات کے نام سے یاد نہیں کیا گیا ہے بلکہ زیادہ تر مذکورہ بالا علاقوں کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اباسین کوہستان، بونیر اور شانگلہ کو علیحدہ ضلعوں کی شکل دینے کے بعد اب سوات کے طبعی علاقوں پر مشتمل جو علاقہ باقی رہ گیا، ان میں کالام اور ملحقہ علاقے شامل کرکے سوات کے نام سے ایک جدا ضلع باقی رہ گیا۔ لیکن یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنی چاہئے کہ طبعی سوات کے ان علاقوں کو ضلع سوات میں شامل نہیں کیا گیا جنہیں یا انگریزوں نے 1897ء میں ’’ملاکنڈ پروٹیکٹڈ ایریا‘‘ میں شامل کیا تھا (لنڈاکی سے قلنگی تک علاقے) اور یا انہیں 1922ء میں ایک معاہدے کے تحت دیر کے ساتھ شامل کیا گیا تھا یعنی ادینزئی کا علاقہ۔

جیسا کہ اوپر واضح ہوگیا کہ سوات کی حدود اور سرحدات میں وقتاً فوقتاً سیاسی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر تبدیلیاں آئی ہیں، تو اسی وجہ سے مختلف ادوار میں سوات کی حدود کو سمجھنے کیلئے ہم سوات کے ساتھ تین قسم کے سابقے لگا تے ہیں یعنی وادئی سوات، ریاستِ سوات اور ضلع سوات۔ ان ہی سابقوں سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مختلف ادوار میں سوات کی حدود کیا تھیں، اس میں کون کون سے علاقے شامل تھے اور کون کون سے علاقے اس میں شامل نہیں تھے؟ ریاست سوات کی طبعی حدبندی سے پہلے والی سرحدات اور علاقوں کو ہم وادئی سوات کہتے ہیں۔ وادئی سوات میں بعض وہ علاقے شامل نہیں تھے جنہیں بعد میں ریاست کی حدود کو توسیع دیتے ہوئے شامل کیا گیا۔

اس طرح ریاستِ سوات کے دور میں دو طرح کی تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ ایک طرف بعض ایسے علاقے جو طبعی وادئی سوات کا حصہ تھے، ان کو وادئی سوات سے جدا کیا گیا، مثلاً ادینزئی علاقہ اور دوسری طرف ایسے علاقوں کو سوات کی ریاست میں شامل کیا گیا جو طبعی وادئی سوات کا حصہ نہیں تھے یعنی کوہستان، بونیر اور شانگلہ کے علاقے۔

جب سوات، ریاستِ پاکستان کے ساتھ 1969ء میں ضم ہوگیا اور ریاست پر مشتمل علاقوں کو ایک ضلع کی حیثیت دی گئی، تو عین اسی وقت کالام کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ اس طرح ضلع سوات کی حدود 1976, 1991 اور 1995ء میں بالترتیب کوہستان، بونیر اور شانگلہ ضلع بننے کی وجہ سے گٹھنے لگیں۔ 1995ء کے بعد سے اب تک سوات کی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ چینی زائرین کے بعد جو اہم شخص سوات آیا ہے اور جس نے سوات کی حدود کو بیان کیا ہے، وہ خوشحال خان خٹک ہے۔ اس نے سوات کی سرحدات کو ان اشعار میں بیان کیا ہے:
و شمال و تہ ئے غر بلورستان دے
شرق کشمیر غرب ئے کابل او بدخشان دے
د چترال سرحد د سوات سرہ قریب دے
غر او سم ئے ابادان جریب جریب دے
و چترال و تہ ئے لار د کوہستان زی
تر چترالہ پہ پینزہ ورزے کاروان زی
بلہ لار چے د پٹن زی تر کاشغرہ
بلہ لار کہ پہ مورنگ زی لرہ برہ

چینی زائرین کے بعد جو اہم شخص سوات آیا ہے اور جس نے سوات کی حدود کو بیان کیا ہے، وہ خوشحال خان خٹک ہے۔

سوات سے چترال کو دو راستے جاتے ہیں ایک دیر کی طرف اور ایک سوات کوہستان کی طرف۔ خوشحال خان خٹک نے اکوڑہ خٹک اور سوات کے درمیان تیس کرو فاصلہ بیان کیا ہے:
سرائے لہ سواتہ فاصلہ لری دیرش کروہہ
چے ورکوز شی تر دریا د سوت تر کوہہ
خوشحال خان خٹک نے وادئی سوات کی چوڑائی کو تقریباً تیس کروہ بیان کیا ہے:
طولانی درہ تر دیرشو کروہو ڈیرہ
عرض ئے دوہ کروہہ یا یو یا تیر و بیرہ
اہم مستشرق میجر راورٹی نے سوات کے آخری گاؤں کا نام پیاــ لکھا ہے۔ پیا سے آگے آپ نے کوہستان کے علاقے کی حد شروع ہونے کا ذکر کیا ہے۔ چورڑئی (مدین) اور تیرات کے علاقے اخون کریم داد ابن اخون درویزہ کے دور میں سوات میں شامل ہوئے ہیں۔ سوات میں شامل ہونے سے پہلے یہ علاقے (سوات) کوہستان میں شمار ہو تے تھے۔ تواریخ حافظ رحمت خانی نے قبلہ کی جانب سوات کی سرحد ملاکنڈ ٹاپ کو بیا ن کیا ہے اور جنوب کی طرف سوات کو مورہ کنڈاو تک بیان کیا ہے۔ تواریخ حافظ رحمت خانی میں ایک جگہ سوات کے بارے میں ایسا لکھا گیا ہے: ’’درست سوات تر توروالہ تر تیراتہ تر پنجکوڑے تر نیاکہ۔‘‘ میک موہن طبعی وادئی سوات اور (سوات) کوہستان کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں:
The upper portion of its valley and the drainage area of its affluents as far as down as the village of Ain, near Baranial [Bahrin], is known by general term of Swat Kohistan. The inhabitants of Swat kohistan are Torwals and Garhwis, who are non Pathan races.

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ مغرب کی طرف وادئی سوات کی حدود ملاکنڈ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ بٹ خیلہ اور مضافات جو ریاستِ سوات کا حصہ بھی نہیں رہے ہیں اور ضلع سوات میں بھی شامل نہیں تھے لیکن ایک وقت ایسا تھا کہ یہ علاقے وادئی سوات کی طبعی حدود میں شامل تھے۔ اس بات کا پتا ہمیں پشتو زبان کے ایک معروف شاعر عبدالعظیم سواتی (صواتی) کے کلام سے چلتا ہے۔ عبدالعظیم سواتی 1127 ہجری کو خار (بٹ خیلہ) میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ پشتونوں کے رانڑیزئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے لیکن آپ نے اپنے آپ کو ’’سواتے‘‘ لکھا ہے۔ کیوں کہ یہ علاقے اس زمانے میں سوات میں شمار ہوتے تھے۔ اس حوالے سے آپ کا ایک شعر عرض ہے:
زہ صواتے عظیم لہ اصلہ رانڑیزے یم
دروغ نشتہ دے پہ دے کے وائم سچ
(جاری ہے)

…………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے