604 total views, 1 views today

امجد علی نامی صحافی کی ایک ویڈیو رپورٹ نظر سے گزری سوات کی دو ضلعوں میں تقسیم کے حوالے سے۔ اسی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا ہے ذیل کے مضمون میں۔ رپورٹ تو اچھی ہے لیکن اس میں چند مفروضات پربہت انحصار کیا گیا ہے۔
٭ مفروضہ نمبر 1:۔ سیدو شریف کی حیثیت بطور ملاکنڈ ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر کی ختم ہو جائے گی۔ ویسے کمشنریٹ کی وہ حیثیت نہ رہی جو ماضی میں تھی۔ واضح رہے کہ یہ ہیڈ کوارٹر چترال جیسے دور دراز ضلع کا بھی ہے۔ ان کے لئے یہاں آنا جانا کیا کم مشکل ہے، مگر وہ ایسا کوئی مطالبہ نہیں کریں گے۔ کیوں کہ ڈویژن کی انتظامی حیثیت وہ نہ رہی جو ہوا کرتی تھی۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ دو ضلعے بنانے سے سیدو شریف کی حیثیت ختم ہوجائے گی۔ میرے خیال میں اس حیثیت کو مزید تقویت ملے گی کہ اس ہیڈکوارٹر کے گرد ضلعوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔
٭ مفروضہ نمبر 2:۔ ضلع شانگلہ اور بونیر اس وجہ سے ترقی نہ کر سکے کہ وہ سوات سے جدا ہوکر الگ ضلعے بن گئے۔ یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ سوات کب ترقی کر چکا ہے کہ ہم شانگلہ اور بونیر کو موردِ الزام ٹھرائیں۔ سوات کے حالات ان ضلعوں سے بہتر نہیں ہیں۔

مفروضہ نمبر 2:۔ ضلع شانگلہ اور بونیر اس وجہ سے ترقی نہ کر سکے کہ وہ سوات سے جدا ہوکر الگ ضلعے بن گئے۔ یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ سوات کب ترقی کر چکا ہے کہ ہم شانگلہ اور بونیر کو موردِ الزام ٹھرائیں۔ سوات کے حالات ان ضلعوں سے بہتر نہیں ہیں۔

٭ مفروضہ نمبر 3:۔ ویڈیو میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ گویا لوئر سوات میں شورش اَپر سوات کے لوگوں کو استعمال کرکے کی گئی۔ اگر مام ڈھیرئی کو اَپر سوات مانا جائے، تو شائد بات بن جائے گی لیکن میرے نزدیک فضل اللہ کا آبائی گاؤں لوئیر سوات میں تھا اور ان کے پاس وہاں قریب سے اس وقت کے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن آیا کرتے تھے۔ اَپر سوات میں مدین، بحرین اور کالام بھی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں طالبان صرف فروری 2009ء کے امن معاہدہ کے بعد ہی آسکے تھے۔ کالام میں مزاحمت بھی ہوئی تھی جبکہ مدین میں تو یہ لوگ اپنا کوئی ٹھکانہ بنانے میں ناکام ہوئے تھے۔ بحرین میں ان کا ٹھکانہ تھا مگر یہاں کے لوگوں نے ان کو مذاکرات میں الجھائے رکھا۔ مام ڈھیرئی میں جب فضل اللہ کے مدرسے پر لوگ رضاکارانہ کام کر رہے تھے، تو بحرین کا علاقہ پورے سوات میں واحد علاقہ تھا جہاں سے کسی نے بھی اس کام میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس پر طعنے بھی کھائے تھے فضل اللہ کی جانب سے۔ ماضی میں خصوصاً ریاستِ سوات کے خلاف اَپر سوات سے مزاحمت آئی تھی جس میں میاں دم کے خان پیش پیش تھے، مگر اس کے بعد اَپر سوات کے لوگوں نے کبھی کوئی مزاحمت نہ کی۔




مام ڈھیرئی میں جب فضل اللہ کے مدرسے پر لوگ رضاکارانہ کام کر رہے تھے، تو بحرین کا علاقہ پورے سوات میں واحد علاقہ تھا جہاں سے کسی نے بھی اس کام میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس پر طعنے بھی کھائے تھے فضل اللہ کی جانب سے۔ ماضی میں خصوصاً ریاستِ سوات کے خلاف اَپر سوات سے مزاحمت آئی تھی جس میں میاں دم کے خان پیش پیش تھے، مگر اس کے بعد اَپر سوات کے لوگوں نے کبھی کوئی مزاحمت نہ کی۔

٭ مفروضہ نمبر 4:۔ اگر سوات دو ٹکڑے ہوا، تو اَپر سوات کی حیثیت بھی شانگلہ جیسی ہوجائے گی۔ کیا اب اس علاقے کی حالت بہتر ہے کہ خراب ہوجائے گی؟ میں دوسرے ضلعے کی حمایت صرف اس لئے کرتا ہوں کہ ایسا کرنے سے مینگورہ اور سیدو شیریف پر دباؤ کم ہوجائے۔ کوہستان، ریاستِ سوات سے ہی الگ ہوکر ضلع بنا تھا۔ یہ علاقہ ضلع سوات سے الگ نہیں ہوا ہے بلکہ ریاستِ سوات سے الگ ہوا ہے۔ اس کو ریاستِ سوات کا حصہ 1939ء میں بنایا گیا تھا اور وہ بھی صرف مغربی کوہستان جبکہ مشرقی کوہستان گلگت ایجنسی کے تحت تھا۔
٭ مفروضہ نمبر 5:۔ سوات سے اب تک کوئی وزیراعلیٰ وغیرہ اس لئے نہیں آسکا کہ اس کو شانگلہ اور بونیر میں تقسیم کیا گیا۔ مزید اس بات کا امکان ہے کہ آئندہ وزیراعلیٰ سوات سے لیا جائے گا۔ ماضی میں سوات سے اور اَپر سوات سے وفاقی وزرا آتے رہے ہیں۔ اسی طرح یہاں سے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا سوات سے نہ ہونے کی وجہ یہاں سے کسی سیاسی پارٹی کے لئے اہم لیڈر کا نہ ہونا ہے۔ آئندہ اگر وزیر اعلیٰ کا کوئی امکان ہے، تو وہ شائد پھر شانگلہ سے ہی ہوگا کہ اس کے لئے تیاری کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کسی ضلع کی تاریخی حیثیت یا قدرتی حسن کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں کے اندورنی فیصلوں سے ہوتا ہے۔ ورنہ ضلع نوشہرہ یا ضلع ڈی آئی خان شائد سوات کی طرح حیثیت نہ رکھتے ہوں۔ یہ دلیل نہیں مانی جاتی کہ سوات کو یوں ایک ہی ضلع رہنے دیا جائے، تاکہ یہاں سے صوبے کا وزیر اعلیٰ آجائے۔ ایسا کوئی امکان نہیں۔ موجودہ سیاسی سیٹ اَپ میں سوات سے وزیر اعلیٰ کا نہ ہونا ان ایم پی ایز کی نااہلیت نہیں بلکہ ان کی سیاسی تاریخ ہے۔ یہ لوگ سیاست میں نئے ہیں۔ اس لئے پارٹیوں میں وہ پوزیشن نہیں جو دوسرے منجھے ہوئے سیاست دانوں کی ہوتی ہے۔ منجھے ہوئے سیاست دان اگر دوسری پارٹیوں سے بھی نئے نئے آئے ہوں، تو ان کو اعلیٰ مقام دیا جاتا ہے۔ پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی مثال ہمارے سامنے ہیں۔ پی ٹی آئی اس سلسلے میں کسی اور پارٹی سے مختلف نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں کہیں بھی تعلیمی بورڈز کو ضلع کی سطح پر نہیں بنایا جاتا بلکہ بورڈ سے منسلک آبادی کی وجہ سے انہیں بنایا جاتا ہے۔ بونیر اور شانگلہ کے لئے بھی تعلیمی بورڈ بنائے جائیں، مگر ان کی سوات بورڈ کے ساتھ ہونے کی دلیل سوات کی تقسیم کے خلاف نہیں دی جاسکتی۔
یہ کوئی زمین کی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی تقسیم ہوتی ہے جس سے کلچر پر فرق نہیں پڑتا۔ ضلع شانگلہ اور بونیر کے عوام اب بھی اس تقسیم پر خوش ہوں گے۔

یہ کوئی زمین کی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی تقسیم ہوتی ہے جس سے کلچر پر فرق نہیں پڑتا۔ ضلع شانگلہ اور بونیر کے عوام اب بھی اس تقسیم پر خوش ہوں گے۔

ہماری بدقسمتی کہ ترقی کہیں بھی نہیں ہو رہی اور نہ ہی سوات کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے سے ایسی کوئی توقع کی جاسکتی ہے۔ سوات کو اگر دو ضلعوں میں انتظامی طور پر تقسیم کیا جائے، تو شائد مینگورہ شہر کی حالت بہتر ہوجائے کہ اس پر ٹریفک بھی کم ہو اور ساتھ دوسرا ضلع بنانے سے شائد اس پوری وادی کو زیادہ فنڈز مل جائیں۔ وادئی سوات کی حیثیت ان ضلعوں کی تقسیم سے نہیں بدل سکتی۔
آخری بات کالام کو ضلع بنانے اور بحرین کو ضلعی ہیڈکوارٹر بنانے کی کی گئی ہے۔ یہ بات میرے دل کو بھاتی ہے لیکن دل پر دماغ غالب آتا ہے، اس لئے میں یہ مطالبہ دو وجوہ کی وجہ سے نہیں کرتا ہوں۔
نمبر 1:۔ ضلع کالام بہتر نام ہے۔ اس کا متبادل ضلع سوات کوہستان ہوسکتا ہے لیکن میں یہ مطالبہ اس لئے نہیں کرتا ہوں کہ کہیں ہمارے پشتون دوست ہم پر لسانی عصبیت کا الزام نہ دھریں۔ لسانی تنوع کا حامی ہوں لیکن اس کو کسی عصبیت سے دور رکھنا چاہتاہوں کہ ہم مزید نفرتیں برداشت نہیں کرسکتے۔ البتہ اپنا جائز حق لسانی شناختی حق مانگنا اور اپنے کلتور اور زبان کی ترویج اور ترقی کے لئے کام کو بہت حیثیت دیتا ہوں۔
نمبر 2:۔ دوسری وجہ یہ کہ میں سوات وادی کو اپنا آبائی علاقہ مانتا ہوں۔ ہمارا سوات سے ایک تاریخی رشتہ ہے۔ اس لئے ضلع کے نام کے ساتھ لفظ سوات کا ہونا پسند کرتا ہوں۔ اگر میرا علاقہ اپنے حسن کے لحاظ سے منفرد ہے اور اس پر میں فخر کرتا ہوں، تو میری تاریخ سوات کے قدیم کھنڈرات میں کہیں پڑی ہوئی ہے۔ اس لئے مجھے دونوں سے یکساں پیار ہے۔ پورا سوات بشمول سوات کا خوبصورت پہاڑی علاقہ ہم سب سواتیوں کے لئے باعث فخر ہے۔
ویسے ہمارا بھلا تو اس میں ہوگا کہ سوات کو تین ضلعوں میں یعنی لرسوات، برسوات اور سوات کوہستان میں تقسیم کیا جائے۔ تینوں ناموں کے ساتھ لفظ سوات برقرار رہے گا اور یہ تقسیم صرف انتظامی ہوگی۔ واضح رہے کہ سوات کا کوہستان (یعنی بحرین، مدین اور کالام کے علاقے) ابھی پورے سوات کے رقبے کے نصف سے زیادہ بنتا ہے۔

…………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری اور نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے