51 total views, 4 views today

یہ کالم میرا سنہ 2021ء کا آخری کالم ہے جو سال کے آخری دن یعنی 31 دسمبر بروزِ جمعہ کو لکھا جا رہا ہے…… لیکن جب آپ اسے پڑھ رہے ہوں گے، تو ہم الحمد اللہ سب بخیر و عافیت نئے سال یعنی 2022ء میں داخل ہوچکے ہوں گے۔ اس حکومت نے لیکن نئے سال کا ایک تحفہ ’’مِنی بجٹ‘‘ کی صورت میں ہمیں دیا ہے۔ لہٰذا اس پر کچھ گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔
قارئین! ’’پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے فرمایا: ’’غریبوں پر اثر نہیں پڑے گا!‘‘ ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ ’’عوام پر صرف 2 ارب کا بوجھ پڑے گا!‘‘
قارئین! آپ کو معلوم ہے کہ اس مِنی بجٹ میں 17 فیصد ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے…… جو کہ مجموعی طور پر تقریباً 340 ارب روپے سے زیادہ کا بنتا ہے۔ جن اشیا پر ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے…… اُن میں گاڑیوں سے لے کر بچوں کے دودھ تک، موبائل فون سے لے کر لیپ ٹاپ تک، خوردنی تیل سے لے کر گھی تک، ادویہ کے خام مال سے لے کر ماچس کی ڈبیا تک مختلف اشیا شامل ہیں۔ اب نہیں معلوم وہ کون سے غریب ہیں جو بغیر گھی یا خوردنی تیل کے کھانا بناتے ہیں؟
وہ کون سا غریب ہے جو بیمار نہیں ہوتا…… اور اگر کہیں غلطی سے بیمار پڑ بھی جائے، تو دوا نہیں خریدتا؟ ظاہری سی بات ہے کہ یہ ناممکن ہے۔ کیوں کہ غریب بے چارہ تو ہر صورت میں پھنسے گا۔ خواہ ماچس کی ڈبیا مہنگی ہو رہی ہو یا ادویہ کا خام مال…… بہر صورت سفید پوش طبقہ کی مزید تباہی ہوگی۔
وزیرِ خزانہ خود (ماشاء اللہ) ایک بینکر ہیں۔ وہ دھڑلے سے فرماتے ہیں کہ غریبوں پر اثر نہیں پڑے گا۔ اب اگر موصوف کی اس بات کو درست مان بھی لیا جائے، تو نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ شاید وزیرِخزانہ کے مطابق اس ملک میں غریب صرف ’’حکمران طبقہ‘‘ ہے…… یا اگر کھل کے بات کی جائے، تو غریب شائد ’’آصف علی زرداری‘‘، ’’نواز شریف‘‘، ’’عمران خان‘‘، ’’اسفندیار ولی خان‘‘، ’’مولانا فضل الرحمان‘‘ اور’’سراج الحق‘‘ ہی رہ گئے ہیں…… یا پھر ’’ملک ریاض‘‘ سمیت دیگر جاگیردار اور سرمایہ دار ہی غریب ہیں۔
قارئین! ممکن ہے ایسا ہی ہو…… کیوں کہ جو سفید پوش طبقہ ہوتا تھا، وہ تو اس حکومت کے پہلے ہی سال ختم ہوچکا ہے۔ اگر کسی کو شک ہے، تو وہ خیبر پختونخوا میں حالیہ بجلی بلوں کا جایزہ لے۔ وہ صوبہ جہاں 4 ہزار سے زیادہ میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے…… وہ بھی پن بجلی…… انتہائی سستی اور ماحول دوست…… اس کے باوجود ’’فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘‘ کے نام پر ’’بھتا‘‘ وصول کیا جا رہا ہے۔
کوئی بھی یہ نہیں پوچھتا کہ جب بجلی پانی سے پیدا ہو رہی ہے، تو ’’فیول سرچارج‘‘ کے نام پر یہ بھتا کیوں لیا جا رہا ہے؟
قارئین! آپ کو آگاہ کرنے کے طور پر بتاتا چلوں کہ پشاور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق خیبر پختونخوا میں ’’فیول سرچارج‘‘ لینا غیر قانونی ہے۔ اب چوں کہ ’’تبدیلی سرکار‘‘ آئی ہے…… اس لیے عدالتی فیصلوں پر بھی عمل درآمد ندارد ہے۔
قارئین! کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بجلی بلوں نے پہلے ہی سے سفید پوش اور غریب طبقے کی درگت بنا دی ہے۔ اب اوپر سے ’’منی بجٹ‘‘ کا یہ عذاب سر پر الگ ٹوٹ پڑا۔ اس لیے شاید وزیرِ خزانہ کی غریبوں سے مراد ’’اشرافیہ‘‘ اور ’’مال دار و خوش حال‘‘ طبقہ ہی ہوسکتا ہے!
قارئین، اس پریس کانفرنس کے بعد مجھے ایک کہانی یاد آگئی جو برمحل ہے۔ اس لیے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
پچھلے ہفتے ایک طالب علم میرے آفس آیا اور کہنے لگا: ’’سر! مجھے ایک نجی ٹی وی کی طرف سے اسائنمنٹ ملا ہے۔ اس میں آپ تعاون کیجیے۔‘‘
پوچھا: ’’موضوع کیا ہے؟‘‘
اس نے جواباً کہا: ’’کوئٹہ میں لوگ سردی سے کیسے نبرد آزما ہو رہے ہیں؟‘‘
مَیں نے کہا، ٹھیک ہے آپ کچھ لکھ کر لائیں۔ پھر بات کرتے ہیں۔
اس کے بعد وہ چلا گیا۔ چند لمحوں بعد ایک کاغذ لیے حاضر ہوا۔ کہنے لگا: ’’سر! یہ رہا سکرپٹ……!‘‘ مَیں نے سکرپٹ پڑھا، تو موصوف نے جو لکھا تھا وہ کچھ یوں تھا: ’’کوئٹہ میں شدید سردی پڑی ہوئی ہے۔ اس سردی سے بچنے کے لیے لوگ لاندھی، سجی اور دیگر گرم کھانے کھاتے ہیں۔ ڈرائی فروٹس کا استعمال کرتے اور گرم کپڑے پہنتے ہیں۔‘‘ یہ پڑھ کے مجھے ہنسی بھی آئی اور افسوس بھی ہوا۔خیر،اس بچے کو سمجھایا کہ ’’دیکھو بیٹا! کوئٹہ میں کتنے فیصد لوگ لاندھی کھاسکتے ہیں؟‘‘ (واضح رہے کہ لاندھی ایک سال پرانے خشک محفوظ شدہ گوشت سے بننے والی خوراک ہے، جسے عموماً موسمِ سرما میں کھایا جاتا ہے) اس طرح کتنے فیصد لوگ ڈرائی فروٹس کی عیاشی برداشت کرسکتے ہیں؟ اور رہے گرم کپڑے وہ کتنوں کو میسر ہیں؟ اُن لوگوں بارے کیا خیال ہے جن کو گھر ہی میسر ہے، نہ بجلی، کپڑے اور نہ دو وقت کی روٹی ہی میسر ہے۔
یہ رام کہانی سن کے وہ طالبِ علم خود اپنے اوپر ہنسنے لگا اور معذرت خواہانہ انداز میں واپس چل دیا۔
قارئین! مذکورہ بچہ بے قصور اس لیے ہے کہ وہ ایک متمول خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ اس کے لیے غربت کے پیمانے الگ ہیں۔ بالکل جیسے ہمارے وزیرِ خزانہ اور حکمرانوں کے لیے الگ ہیں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔