632 total views, 1 views today

صوبہ خیبر پختون خوا کے تیسرے بڑے ضلع سوات میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں میں سے 2013ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی دونوں اور صوبائی اسمبلی کی پانچوں نشستوں پر تحریک انصاف نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ صوبائی اسمبلی کے ایک حلقہ پر مسلم لیگ (ن) اور ایک پر اے این پی کا اُمیدوار کامیاب ہوا تھا۔ 2013ء کے انتخابات میں سوات کے اہم شہری حلقہ این اے 29 پر تحریک انصاف کے مراد سعید نے 88513 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس حلقہ پر دوسری پوزیشن ن لیگ کے سید محمد علی شاہ باچا لالا نے 24212 ووٹ لے کر حاصل کی تھی جبکہ تیسری پوزیشن جے یو آئی کے مولانا نظام الدین 21026 ووٹوں کے ساتھ لی تھی۔ 2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب سے مراد سعید کو ٹکٹ دئیے جانے کا امکان ہے، تاہم آئندہ انتخابات میں اُن کے جیتنے کی اُمید نہیں۔ کیوں کہ مراد سعید کامیابی حاصل کرنے کے بعد سے اسلام آباد میں مقیم ہے اور نیوز چینلز پر ٹاک شوز میں ہی نظر آتا ہے۔ علاقہ کے لوگ اور تحریک انصاف کے کارکن اس حوالہ سے اس سے سخت ناراض ہیں۔ اس حلقہ پر ن لیگ کے سابق اُمیدوار باچا لالا علالت کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے جبکہ ن لیگ نے بھی ابھی تک اُمیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ن لیگ سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے شہزادہ شہریار امیر زیب پیپلز پارٹی کے متوقع اُمیدوار ہیں۔ شہریار امیر زیب کا اپنا ووٹ بینک ہے لیکن پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک اس حلقہ میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اے این پی کے ٹکٹ کے لئے سابق ایم این اے مظفر الملک کاکی خان، حضرت معاذ اےڈووکیٹ اور شیر شاہ خان (برہ بانڈئی) مضبوط اُمیدوار ہیں۔ جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے اتحاد کی صورت میں یہ نشست جے یو آئی کو دی جائے گی۔

2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب سے مراد سعید کو ٹکٹ دئیے جانے کا امکان ہے، تاہم آئندہ انتخابات میں اُن کے جیتنے کی اُمید نہیں۔ کیوں کہ مراد سعید کامیابی حاصل کرنے کے بعد سے اسلام آباد میں مقیم ہے اور نیوز چینلز پر ٹاک شوز میں ہی نظر آتا ہے۔ علاقہ کے لوگ اور تحریک انصاف کے کارکن اس حوالہ سے اس سے سخت ناراض ہیں۔

قومی اسمبلی کے دوسرے حلقہ این اے 30 پر پچھلے انتخابات میں تحریک انصاف کے سلیم الرحمان نے 49976 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر ن لیگ کے موجودہ صوبائی صدر امیر مقام تھے جنہوں نے 33027 ووٹ حاصل کیا تھا۔ تیسرے نمبر پر جے یو آئی کے حفیظ الرحمان تھے جن کو 16704 ووٹ ملا تھا۔ آئندہ انتخابات میں اس حلقہ سے تحریک انصاف کے متوقع اُمیدوار سلیم الرحمان ہیں۔ ن لیگ کی جانب سے امیر مقام اس حلقہ سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ اے این پی نے اس نشست پر قوم پرست اور بزرگ سیاست دان افضل خان لالا مرحوم کے صاحبزادے بریگیڈئیر (ر) ڈاکٹر سلیم خان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے اس حلقے میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔
صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی کے 80 مینگورہ کا شہری حلقہ ہے۔ اس حلقہ پر پچھلے انتخابات میں تحریک انصاف کے فضل حکیم نے 18080 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر سابق ایم پی اے جماعت اسلامی کے محمد امین تھے، جنہوں نے 11863 ووٹ حاصل کیا تھا۔ تیسری پوزیشن پر جے یو آئی کے مولانا حجت اللہ تھے جنہوں نے 9410 ووٹ حاصل کیا تھا۔ آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف اپنے موجودہ ایم پی اے اور ڈیڈک چیئرمین فضل حکیم کو دوبارہ ٹکٹ دینے کے موڈ میں ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے اُمیدوار محمد امین کو دوبارہ نامزد کر دیا ہے۔ اے این پی کے ٹکٹ کے لئے درخواستیں تو زیادہ ہیں، لیکن امکان ہے کہ سابق وزیر جنگلات واجد علی خان کو ٹکٹ دیا جائے۔ جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کی صورت میں یہ حلقہ جماعت اسلامی کے حصہ میں آئے گا۔ اس حلقے کے بارے میں عام ووٹروں کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کے محمد امین جو پچھلے انتخابات میں بھی بھاری ووٹ کے ساتھ دوسری پوزیشن پر آئے تھے، باآسانی کامیابی حاصل کر لیں گے، تاہم اس حلقہ پر اصل مقابلہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے درمیان ہوگا۔

پی کے 80 کے بارے میں عام ووٹروں کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کے محمد امین جو پچھلے انتخابات میں بھی بھاری ووٹ کے ساتھ دوسری پوزیشن پر آئے تھے، باآسانی کامیابی حاصل کر لیں گے، تاہم اس حلقہ پر اصل مقابلہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے درمیان ہوگا۔

پی کے 81 سوات پر پچھلے انتخابات میں تحریک انصاف کے عزیز اللہ گران نے 13067ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر جے یو آئی کے حبیب علی شاہ آئے تھے، جنہوں نے 11656ووٹ حاصل کیا تھا۔ تیسرے نمبر پر ن لیگ کے شہزادہ شہر یار امیر زیب تھے جنہوں نے 10453ووٹ حاصل کیا تھا۔ اس حلقہ پر تحریک انصاف کے موجودہ ایم پی اے عزیز اللہ گران یا صوبائی رہنما عدالت خان میں سے کسی ایک کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام نے اس حلقہ سے خود الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے یو آئی کی جانب سے پچھلے انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے حبیب علی شاہ کو ٹکٹ دینے کا امکان ہے۔ اے این پی کی ٹکٹ کے لئے درخواستیں تین ہیں۔ تاہم ٹکٹ قوی امکان ہے کہ پارٹی کے ضلعی صدر شیرشاہ خان کو دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی ضلعی صدر عرفان چٹان کو ٹکٹ دے گی۔
پی کے 82 میں پچھلے انتخابات میں تحریک انصاف کے موجودہ معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے 15086 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے سابق ایم پی اے وقار خان تھے جنہوں نے 9059 ووٹ لیا تھا۔ تیسرے نمبر پر ن لیگ کے امیر مقام تھے جنہوں نے 7932 ووٹ حا صل کیا تھا۔ آئندہ انتخابات میں اس حلقہ میں تحریک انصاف کے متوقع اُمیدوار ڈاکٹر امجد علی ہوں گے۔ اے این پی کی ٹکٹ سابق ایم پی اے وقار خان کو ملنے کا قوی امکان ہے۔ پیپلز پارٹی نے مختیار رضا خان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ باقی جماعتوں نے ابھی تک اُمیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے، تاہم اس حلقہ پر اے این پی کے وقار خان اور تحریک انصاف کے ڈاکٹر امجد کے درمیان کانٹے دار مقابلے کا امکان ہے۔




حلقہ پی کے 82 پر اے این پی کے وقار خان اور تحریک انصاف کے ڈاکٹر امجد کے درمیان کانٹے دار مقابلے کا امکان ہے۔

پی کے83 پر پچھلے انتخابات میں تحریک انصاف کے موجودہ مشیر برائے لائیو اسٹاک محب اللہ خان نے 10995 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ ن لیگ کے حاجی جلات 8772 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور جماعت اسلامی کے سابق صوبائی وزیر حسین احمد کانجو 5753 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ٹھہرے تھے۔ اس حلقہ میں آئندہ انتخابات کے لئے جماعت اسلامی نے سابق صوبائی وزیر حسین احمد کانجوکے بجائے حافظ اسرار احمد کو ٹکٹ دیا ہے۔ حلقہ کے عوام اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اس فیصلے کو جماعت اسلامی کی بڑی غلطی قرار دیا ہے۔ کیونکہ حسین احمد کانجو کا اس حلقہ میں اپنا ووٹ بنک موجود ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے موجودہ ایم پی اے محب اللہ خان، اے این پی کے سابق ایم پی اے رحمت علی خان کو ٹکٹ دینے کا امکان ہے۔ باقی جماعتوں نے اپنے اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان ابھی تک نہیں کیا، لیکن اس حلقہ پر اصل مقابلہ ن لیگ، تحریک انصاف اور اے این پی کے درمیان ہوگا۔

حلقہ پی کے 83 میں آئندہ انتخابات کے لئے جماعت اسلامی نے سابق صوبائی وزیر حسین احمد کانجوکے بجائے حافظ اسرار احمد کو ٹکٹ دیا ہے۔ حلقہ کے عوام اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اس فیصلے کو جماعت اسلامی کی بڑی غلطی قرار دیا ہے۔ کیونکہ حسین احمد کانجو کا اس حلقہ میں اپنا ووٹ بنک موجود ہے۔

پی کے84 پر پچھلے انتخابات میں موجودہ صوبائی وزیر کھیل محمود خان نے 11071 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے سابق صوبائی وزیر ایوب خان اشاڑے تھے جنہوں نے 8038 ووٹ حاصل کیا تھا۔ تیسرے نمبر پر ن لیگ کے سابق صوبائی وزیر دوست محمد خان تھے جنہوں نے 6480 ووٹ لیا تھا۔ آئندہ انتخابات میں اس حلقے سے تحریک انصاف کے متوقع اُمیدوار محمود خان ہی ہوں گے۔ اے این پی کے اُمیدوار بھی ایوب خان اشاڑے ہوں گے۔ باقی جماعتوں نے اپنے اُمیدواروں کا اعلان ابھی تک نہیں کیا، تاہم اس حلقے پر تحریک انصاف اور اے این پی کے درمیان دنگل سجے گا۔ پی کے85 پر پچھلے انتخابات میں اے این پی کے سید جعفر شاہ نے 14344 ووٹ حاصل کرکے دوسری بار کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر ن لیگ کے میاں شرافت علی تھے جنہوں نے 13765 ووٹ حاصل کیا تھا اور تیسرے نمبر پر تحریک انصاف کے نثار احمد تھے جنہیں 10504 ووٹ ملا تھا۔ اس حلقہ پر اے این پی کی جانب سے سید جعفر شاہ اُمیدوار ہوں گے۔ جماعت اسلامی نے غفار کریمی کو اُمیدوار نامزد کیا ہے۔ ن لیگ کے سا بق اُمیدوار میاں شرافت علی کو خدشہ ہے کہ اس حلقہ سے صوبائی صدر امیر مقام خود انتخابات میں حصہ نہ لیں، اس لئے انہوں نے اپنے ساتھیوں سے رابطوں کا آغاز کردیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس حلقہ پر اے این پی، ن لیگ اور جماعت اسلامی کے درمیان زبردست مقابلے کی توقع ہے۔

پی کے 85 پر پچھلے انتخابات میں اے این پی کے سید جعفر شاہ نے 14344 ووٹ حاصل کرکے دوسری بار کامیابی حاصل کی تھی۔

سوات کے آخری اور ساتویں صوبائی حلقہ پی کے 86 میں 2013ء کے انتخابات میں ن لیگ کے قیموس خان نے 10687 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر جے یو آئی کے علی شاہ خان اےڈووکیٹ تھے جنہوں نے 10302 ووٹ حاصل کیا تھا اور تیسری پوزیشن اے این پی کے ڈاکٹر حیدر علی خان کی تھی جنہوں نے 10028 ووٹ حاصل کیا تھا۔ ن لیگ کے ایم پی اے قیموس خان کے نااہل ہونے کے بعد 24 اپریل 2014ء کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں ن لیگ نے قیموس خان کے بھائی سردار خان کو ٹکٹ دیا۔ اے این پی کے ڈاکٹر حیدر علی خان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے اور ضمنی انتخابات میں انہیں 17438 ووٹ ملا اور کامیاب قرار پائے۔ دوسرے نمبر پر ن لیگ کے سردار خان تھے جنہوں نے 16353 ووٹ حاصل کیا جبکہ تیسرے نمبر پر جے یو آئی کے علی شاہ خان ایڈووکیٹ تھے جن کو 10078 ووٹ ملا۔ اس حلقہ پر امکان ہے کہ تحریک انصاف موجودہ ایم پی اے ڈاکٹر حیدر علی خان، ن لیگ قیموس خان اور جے یو آئی علی شاہ خا ن ایڈووکیٹ کو ٹکٹ دے اور ان تینوں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع بھی ہے۔
ابھی سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کی نامزدگی کا اعلان بھی نہیں کیا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد بھی ہونے کا امکان ہے جس کے بعد صورتحال، اُمیدوار اور مقابلے تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔




تبصرہ کیجئے