42 total views, 3 views today

افغانستان میں بیرونی مداخلت اور خانہ جنگیوں نے ملک کا انفراسٹرکچر تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ جنگ میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی بے گناہ کو تو اس حملے سے نقصان نہیں پہنچا…… بلکہ حملہ آور کوئی بھی ہو، اس کا پہلا ٹارگٹ اپنے دشمن کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔اس حملے کی زد میں ایسے افراد بھی آجاتے ہیں جن کو نشانہ حملہ آور نہیں بناتا۔
افغانستان چار دہائیوں سے مسلسل جنگ سے نبر آزما ہے۔ پہلے عسکری جنگ تھی، تو اب بحالیِ معیشت کی جنگ ہے۔ پہلے بھی افغانی عوام پر استعماری طاقتوں کے غول حملہ آور ہوئے تھے اور اب بھی انخلا کے بعد معاشی طور پر افغانستان کے لیے سب سے دشوار گذار مرحلہ عوام کو امن کے ساتھ روزگار کا یقینی بنانا ہے۔ دنیا کو افغانستان میں تشدد کے خاتمے کا انتظار تھا۔ لہٰذا آج اس موقع پر کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان ماضی کے مقابلے میں پُرتشدد واقعات میں امن کے راستے کی جانب گام زن ہوچکا ہے۔ داعش اور دیگر افغان طالبان مخالف جنگجوؤں کی پسپائی کے جواب میں شدت پسندی اور انتقامی کارروائی بھی ہو رہی ہے، لیکن مجموعی طور افغان طالبان اپنے ملک میں حیرت انگیز طور پر امن کو قائم کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ جرائم کی کمی اور سزا کا خوف ایسے عناصر پر بیٹھا ہوا ہے، جو عوام کے اِغوا برائے تاوان سمیت بھتا خوری اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں کی جانب سے تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں انسانی ہمدردی کی ضروریات اس حد تک بڑھ گئی ہیں جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں۔ تنازع سے متاثرہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی 22.8 ملین افراد کو نومبر سے ’’شدید غذائی عدم تحفظ‘‘ کا سامنا ہوگا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس خطرے میں مبتلا 32 لاکھ بچوں کی تعداد پانچ سال سے کم ہے۔ جو سال کے اختتام تک غذائیت کی شدید قلت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام، ڈبلیو ایف پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’افغانستان کا بحران اس وقت اگر دنیا کا بد ترین بحران نہیں، تو دنیا کے بد ترین بحرانوں میں ضرور شامل ہے۔ وہاں خوراک کی شدید قلت ہے۔‘‘ بیسلی نے کہا کہ اگر ہم افغانستان میں جان بچانے والی امداد نہ بڑھا سکے اور وہاں معیشت بحال نہ ہوسکی، تو اس موسمِ سرما میں لاکھوں افغان ہجرت اور فاقہ کشی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تباہی کی الٹی گنتی پر ہیں اور اگر ہم نے اس وقت کوئی اقدام نہ کیا تو ہمیں ایک مکمل تباہی درپیش ہو گی۔
دوسری جانب اگر افغانستان کی جنگ میں امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی جنگی مہم کا تخمینہ عالمی اداروں کی جانب سے سامنے لایا گیا ہے، اس کے مطابق کھربوں ڈالر ز جنگ میں جھونکے گئے اور اس وقت کی حاشیہ بردار کابل انتظامیہ نے مبینہ غبن اور فراڈ کے ذریعے رقوم کا بیشتر حصہ اپنے خزانوں میں جمع کیا اور عوام کو محروم رکھا۔ سابق کابل انتظامیہ کی کرپشن کی داستانون کی دنیا میں گونج تھی…… لیکن عالمی قوتوں کے مفادات نے انہیں بہرا بننے پر مجبور کیا اور تباہی کی وجہ سے آج امن آنے کے بعد افغان آبادی کی نصف تعداد بدترین غذائی قلت کے بحران سے دوچار ہے۔ چوں کہ امریکہ نے افغان عبوری حکومت کے اثاثے بھی منجمد کردیے ہیں، اس لیے افغان انتظامیہ کے لیے دوہری مشکلات کا سامنا ہے۔ افغان طالبان کی حکومت نے خوراک کی کمی کے شکار خاندانوں کے لیے کام برائے خوراک کی مہم شروع کی ہے، جس میں رقم کے بجائے بھوک سے بچنے اور بچوں کو غذائی قلت کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے غذائی اجناس دینے کی منصوبہ بندی اختیار کی گئی ہے۔
2016ء سے 2018ء کے درمیان سالانہ اخراجات 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھے۔ 2019ء (ستمبر تک) کے لیے خرچ کا تخمینہ 38 ارب ڈالر ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق افغانستان میں (اکتوبر 2001ء سے ستمبر 2019ء تک) مجموعی فوجی اخراجات 778 بلین ڈالر تھے۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ، امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) اور دیگر سرکاری ایجنسیوں نے تعمیرِ نو کے منصوبوں پر 44 ارب ڈالر خرچ کیے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2001ء میں جنگ کے آغاز سے اب تک آنے والی مجموعی لاگت 822 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
’’براؤن یونیورسٹی‘‘ کے ’’کاسٹ آف وار‘‘ منصوبے میں ایک تحقیق کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی جنگ کے بارے میں امریکہ کے سرکاری اعداد و شمار کافی حد تک کم ہیں۔ جنگ کے بعد امدادی فنڈ اور غذائی قلت سے بچاؤ کے لیے امریکہ اور نیٹو ممالک کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا گیا اور نت نئے تحفظات سامنے لا کر افغان عوام کے خوف میں اضافہ کررہے ہیں۔
امریکی حکام نے ایک بار پھر اس امر کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان میں داعش خراساں دو برس کے اندر امریکہ پر حملے کیے جانے کی استعداد حاصل کرلے گی۔ امریکی اداروں کی یہ رپورٹ خود اقوام عالم کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا اب بھی افغان حکومت کو دنیا کے بڑے فتنے سے بچاؤ کے لیے اخلاقی بنیادوں پر اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ کھربوں ڈالر جب امن کے بجائے جنگ پر خرچ کیے جاسکتے ہیں، تو پھر چند ارب افغان عوام کو غذائی قلت کے بدترین بحران سے نمٹنے کے لیے بھی دیے جاسکتے ہیں۔ امریکہ سمیت کوئی بھی عالمی قوت کی جانب سے این جی اُوز کے ذریعے امداد کی ترسیل کھوکھلے وعدے ظاہر کررہے ہیں کہ اب بھی افغان مخالف قوتیں، تباہی کا تماشا دیکھنا چاہتی ہیں۔
امریکہ سمیت نیٹو ممالک جنہوں نے اپنی افواج کے لیے افغانستان مشن میں اربوں ڈالر خرچ کیے، وہاں بدترین غذائی قلت کے بحران کو مزید سنگین ہونے سے بچانے کے لیے انسانی بنیادوں پر کام کرسکتی ہے۔
روس، چین، پاکستان سمیت کئی ممالک اقوامِ عالم پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ افغانستان کی عبوری حکومت کو مزید مشکلات کا شکار نہ کرے اور انہیں تسلیم کرنے کی پیش رفت کریں، لیکن صورتِ حال روز بہ روز ابتر ہوتی جا رہی ہے اور اب تو اقوامِ متحدہ کے اداروں کی خوف ناک رپورٹ نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے کہ اس وقت افغانستان کی نصف آبادی غذائی قلت کا شکار ہوچکی ہے۔ موسمِ سرما سے بہار آنے تک یہ بحران شدت اختیار کرلے گا اور مزید لاکھوں افغانی غذائی قلت کے باعث سنگین صورتِ حال کا سامنا کررہے ہوں گے۔
چین، روس، پاکستان سمیت افغانستان سے ہمدردی رکھنے والے ممالک کو پہلے ہی امریکہ اور مغربی بلاک کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ ان کی جانب سے افغان حکومت کو تسلیم کرنے میں پہل سے مسئلے کا حل نکلنے کے بعد ضد کا شکار ہوجائے گا، جس کے بعد امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک ایک نئے اتحادی بن کر ان ممالک پر دباؤ میں مزید اضافہ کردیں گے جس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر عالمی قوتوں کے بلاکوں میں کچل جائے اور اس کے نتائج سے بعد ازاں مغربی ممالک کو کوئی خوشی ملے یا نہ ملے…… لیکن ان کے خلاف نفرت میں بے تحاشا اضافہ ہوسکتا ہے۔اس کے ردعمل میں کوئی بھی کارروائی کا ہونا افغان عوام کو موردِ الزام ٹھہرانے سے نہ بچ سکے گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس جی ٹوینٹی کے رہنماؤں کے افغانستان سے متعلق ایک غیر معمولی اجلاس میں دنیا کو باور کراچکے کہ اگر ہم نے اس ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے افغان باشندوں کی مدد نہ کی، تو جلد ہی اس کی بھاری قیمت نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا کو چکانی پڑے گی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ افغان شہریوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ان کے پاس روزگار نہیں ہے، انہیں اپنے حقوق کا تحفظ حاصل نہیں ہے، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ افغان باشندے اپنے ملک سے فرار ہو کر دوسرے علاقوں کی طرف جائیں گے۔ موجودہ صورت حال میں وہاں غیر قانونی منشیات، مجرمانہ سرگرمیاں بڑھنے اور دہشت گرد نیٹ ورکس مضبوط ہونے کے خطرے میں اضافہ ہوگا۔
یہ امن پسند اور انسانیت کا درس دینے والے تمام ممالک کے لیے نوشتۂ دیوار ہے کہ اب انہیں کیا کرنا چاہیے……؟
افغان حکومت کو تسلیم کرکے انہیں مہلت دیں کہ اپنے نظام کے ثمرات سے داعش جیسے شدت پسندوں کی سرکوبی کریں یا پھر بھوک سے بدحال نوجوان مجبور ہوکر شدت پسندی کا حصہ بنیں۔
……………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے