41 total views, 3 views today

میرے چند قارئین یہ کہتے ہیں کہ مَیں کبھی کبھی ٹیلی وِژن فلم یا کسی ناول افسانوں کے ریفرنس کے بہانے کسی اور کا مواد استعمال کرلیتا ہوں۔ گویا میرے اپنے پاس لکھنے کو کچھ نہیں۔
ان سے یہی عرض ہے کہ میرا مقصد اپنی اوقات کے مطابق معاشرے کی خرابیوں کی نشان دہی کرنا ہوتا ہے…… نہ کہ مجھے اپنی اہمیت اور شہرت کا شوق ہے۔ سو اس سلسلے میں جہاں سے بھی ترغیب مل جائے، اس کو استعمال کرنا بری بات نہیں۔
بہرحال آج بھی میں ٹیلی وِژن کے ہی ایک پروگرام سے استفادہ کروں گا۔ یہ پروگرام صبح کی نشریات میں مرحوم فاروق قیصر کے مزاحیہ خاکوں کا تھا، جس کے دو کردار تھے۔ ایک پاکستانی اور ایک گورا۔ اس میں گورا ہمیشہ اپنی کسی ایجاد یا کامیابی کا تذکرہ کرتا ہے اور پاکستانی اس کے جواب میں اپنی کوئی معاشرتی خامی بتاتا ہے۔ جس کو سن کر گورا کہتا ہے کہ ’’اُو نو……!‘‘ اور پاکستانی کہتا ہے: ’’اُو یس……!‘‘ تب گورا کہتا ہے: ’’وٹ اے کنٹری……!‘‘
مثلاً ایک دفعہ گورا کہتا ہے کہ اس نے فلاں گاڑی بنائی ہے…… جس میں یہ یہ صلاحیت ہے۔ تو پاکستانی ہنس کر کہتا ہے کہ ہمارے پاس تو ایسی گاڑیاں ہیں کہ جن کو اندھے ڈرائیور بھی چلا سکتے ہیں۔ گورا کہتا ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟ تم ہم کو بتاؤ! ہم تم کو ڈالر دے گا۔ تو پاکستانی اس کو ایک اشارے پر لے جاتا ہے، جہاں اشارہ بند ہوتا ہے لیکن کسی کو کوئی پروا نہیں ہوتی۔ گورا پوچھتا ہے کہ تم کو کیسے معلوم ہے کہ ڈرائیور اندھے ہیں؟ تو پاکستانی کہتا ہے کہ اگر یہ اندھے نہ ہوتے، تو ان کو سرخ بتی نظر آتی، جو اشارہ بند ہونے کا اعلان ہے…… لیکن یہ اندھے سرخ بتی کے جلنے کے باجود اشارہ توڑ رہے ہیں۔ اس پر گورا کہتا ہے: ’’اُو نو……!‘‘ اور پاکستانی کہتا ہے: ’’اُو یس……!‘‘ اور پھر گورا کہتا ہے: ’’وٹ اے کنٹری……!‘‘
یہ اور اس قبیل کے دیگر مزاحیہ خاکے آج مجھے یوں یاد آئے کہ ملک کے اندر زبردست افراتفری ہے۔ ایک طرف حزبِ اختلاف مہنگائی کے جواز پر سڑکوں پر ہے۔ دوسری طرف ایک کالعدم مذہبی جماعت بھرپور احتجاج میں ہے اور جب وزیرِ داخلہ سے اس پر سوال ہوا…… تو عزت مآب کا جواب تھا کہ ’’کچھ نہیں ہوا۔ بس ’’سکون ڈاٹ‘‘ کام ہے۔‘‘ اور اسی طرح اس دور میں سیکڑوں ایسے کام دن بھر ہو رہے ہیں…… لیکن حکومت کو ہر طرف ’’سکون ڈاٹ کام‘‘ ہی نظر آرہا ہے۔ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری نے عام لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے…… لیکن حکومتی اربابِ اختیار واسطے ’’سکون ڈاٹ کام‘‘ ہے۔
گورنر سٹیٹ بنک جو کہ ایک سرکاری ملازم ہوتا ہے…… لیکن وہ بھی حکومتی چمچہ گیری میں مصروف ہے۔ صاحب فرماتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اُوور سیز کو فائدہ مل رہا ہے، یعنی ’’سکون ڈاٹ کام‘‘ ہے۔
اسی طرح شوکت یوسف زئی کو کسی نے کہا کہ مہنگائی کا جن بے قابو ہے؟ محترم جواباً فرماتے ہیں: ’’اس کا بھی کسی کو تو فائدہ ہو رہا ہے!‘‘ یعنی ’’سکون ڈاٹ کام‘‘ ہے ۔
ایک اور عظیم ترین محب الوطن ترین جو حب الوطنی میں اتنی زیادہ قابلیت رکھتے ہیں کہ نہ صرف شہد کی صحت واسطے اہمیت سے آگاہ ہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈرکو غداری کا سرٹیفکیٹ عطا کر نے میں عار محسوس نہیں کرتے، فرماتے ہیں کہ ’’چینی کے دس دانے کم کھاؤ۔ روٹی کے چند نوالے کم کھاؤ!‘‘ یعنی بس کھانا کم کر دو، تو ہر طرف ’’سکون ڈاٹ کام‘‘۔
اُدھر مودی نے کشمیر کی حیثیت کو بدل کر رکھ دیا اور عرصہ ہوا کشمیر کے مظلوم عوام سخت مصیبت کا شکار ہیں…… لیکن وزیرِ خارجہ بشمول وزیر اعظم ’’سکون ڈاٹ کام‘‘ کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ملک میں سیاسی انارکی شدید سے شدید تر ہو رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ’’سکون ڈاٹ کام‘‘ ہے۔
لوگ مہنگائی اور بے روز گاری کی وجہ سے بچوں سمیت اجتماعی خود کشیاں کر رہے ہیں…… لیکن ہمارے ہینڈ سم وزیراعظم کی طرف سے ’’سکون ڈاٹ کام‘‘ ہے۔ سو ان حالات میں اگر آج مرحوم فاروق قیصر زندہ ہوتے، تو ان کے پاس ’’وٹ اے کنٹری والے‘‘ خاکے بنانے کے لیے یقینا بے تحاشا مواد ہوتا۔ مثلاً وہ خاکہ بناسکتے تھے کہ وفاقی وزیر ’’علی امین گنڈا پور صاحب‘‘ سے جو بوتل شہد نکلی ہے۔ اب آپ کو گورا کہتا کہ ہمارے پاس ایسی مشین ہے کہ جو انگور سے بہت سستی وسکی بنا سکتی ہے۔ تو یقینا کوئی پاکستانی یہ جواب دے سکتا تھا کہ ’’اوے گورا صاحب! یہ کیا کمال ہے! ہمارے پاس تو ایسا نظام ہے کہ ایک بوتل میں جادوئی شربت سٹاک ہو جاتا ہے۔ ایسا شربت کہ جو دوستوں کی محفل میں انگور کی بیٹی بن کر محفل کو مست کر دیتا ہے۔ عام عوام کے سامنے پانی بن کر پیاس بجھا دیتا ہے اور اگر کوئی سرکاری اہل کار ہاتھ ڈال لے، تو یہ فوراً شہد بن کر صحت کا ضامن بن جاتا ہے۔‘‘ اور جب گورا بولے کہ ہم کو دکھاؤ، تو آپ فوراً ڈالر کی ڈیل کرو اور اس کو محترم گنڈا پور کی گاڑی کے پاس لا کر دکھا دو۔ بس اس میں سے چند ڈالر آپ کو وزیر صاحب کو بھی دینا ہوں گے۔ پھر گورا بے شک سر پکڑ کر بولے: ’’وٹ اے کنٹری……!‘‘
اسی طرح آپ اس کو عثمان بزدار کی شکل میں وزارتِ اعلا پر براجمان عظیم شخصیات دکھا سکتے ہیں کہ جو بولتے ہیں اور نہ کام کرتے ہیں۔
آپ اس کو مزید وزیر اعظم ہاؤس میں موجود وہ عظیم یونیورسٹی دکھا سکتے ہیں کہ جہاں صرف ایک خاص قسم کا علم پایا جاتا ہے۔ اُس علم کے ثبوت کے طور پر آپ اس گورے کو وفاقی مشیر محترم شہباز گل کی وہ پریس کانفرنس دکھا سکتے ہیں کہ جو انہوں نے معروف صحافی عاصمہ شیرازی بارے کی…… اور جن کو علم نہ تھا ان تک بھی بات پہنچ گئی، بلکہ آپ بے شک وہ دھمکیاں اور گالیاں بھی ساتھ بتا سکتے ہیں کہ جو ہماری حکومت کے سرکاری میڈیا سیل کی جانب سے بشمول عاصمہ شیرازی، فرحت صاحبہ، ثنا مرزا اور ثنا بچہ جیسی خواتین صحافیوں پر نازل ہوئیں۔ مزید سلیم صافی، حامد میر، مظہر عباس، چیمہ اور کلاسرا وغیرہ کو بھی بطورِ گواہ شامل کیا جاسکتا ہے۔ اب جب سوئیاں چبھیں گی، پتلے جلیں گے اور مراقبہ میں عمران اسماعیل، عثمان بزدار، عبدالقیوم جتوئی اور عارف علوی کی نوکریاں نکلیں گی، تو تب بے شک گورا صاحب ’’وٹ اے کنٹری……!‘‘ بولے۔ آپ ڈالر لیں اور ’’سکون ڈاٹ کام۔‘‘
مزید آپ گورے کو ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا بھی بتا سکتے ہیں۔ یعنی آپ گورے کو کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ایسا نظام بنایا ہے کہ جہاں بنا ایک اینٹ رکھے ہم نے پچاس ہزار گھر بنائے ہیں اور بنا ایک شخص بھرتی کیے ہم نے ایک کروڑ نوکری دے دی ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے آپ کو گورے کو گنڈا پور کی گاڑی کے پاس بھی لے جانے کی ضرورت نہیں۔ اس کو آپ بس چنداخبارات کے تراشے اور کچھ محترم وزیراعظم صاحب کی سابقہ تقریروں کے کلپ دکھا کر ڈالر سمیٹ سکتے ہیں…… بلکہ آپ گورے کو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم یہ ڈالر محض خیرات واسطے مانگ رہے ہیں۔ وگرنہ ہم کو ڈالر کی ضرورت ہی نہیں۔ ہمارے پاس تو اب تک ان ڈالروں کا سٹاک اسی طرح موجود ہے جو محترم ’’وزیرِ ڈاک خانہ جات‘‘ مراد سعید نے خاں صاحب کے حکم پر اپنی کھوتا ریڑھی پر لاد کر بنی گالہ چھپا دیے تھے، تاکہ بارش سے خراب نہ ہوں۔
مزید ہمارے پاس وہ ذخائر بھی خفیہ موجود ہیں کہ جو کسی پاپڑ والے، کسی قلفی والے کے اکاؤئنٹ سے برآمد ہو چکے ہیں…… اور جو روز حزبِ اختلاف کے گھروں اور لانچوں سے برآمد ہوتے ہیں۔ وہ تو ابھی تک سامنے بھی نہیں آئے۔اب گورا آپ کو بے شک خیبر سے کراچی تک ہر طرف غربت اور مہنگائی کا علم دے۔ آپ کو عوام کی نفسیاتی اور جذباتی مایوسی کی طرف متوجہ کرے۔ آپ کو بے شک بولے کہ ملک میں قرضوں کے پہاڑ ہیں۔ کیوں کہ جو گیس کراچی کے سمندر سے نکلنی تھی…… وہ تو جاپان اور جرمنی کے بارڈر کے درمیان سے ہندوستان نے سازش کر کے، چھپ کر اُس کو بھی اسلام آباد سے لائی گئی ایک جادوئی سوئی چبھا کر لیک کر دیا ہے۔ سو ملک اس وقت بحیثیتِ مجموعی سخت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ اور اگر حالات یہی رہے، تو شاید یہاں بہت جلد سول وار کا اندیشہ ہے، تو اس کو کہہ سکتے ہیں کہ ’’شرم کرو! یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارا وزیراعظم ہینڈ سم بھی اور مقرر بھی…… پھر وہ پشاوری چپل بھی پہنتا ہے اور اس کی قمیص میں دو موریاں بھی ہیں۔ سو اسی وجہ سے ’’ستاں خیراں‘‘ بھی ہیں اور ’’سکون ڈاٹ کام‘‘ بھی۔‘‘
پھر گورا اگر سر پکڑ کر بولے کہ ’’وٹ اے کنٹری‘‘ تو محترم شہباز گل اس کی خوب صورت اور مثبت تشریح بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ جس طرح آپ نے عاصمہ شیرازی کی اور ان کے کالم کے تمام استعارہ کو خاتونِ اول سے کامیابی سے جوڑ کر رکھ دیا کہ ’’وٹ اے کنٹری‘‘ کوئی طنز نہیں بلکہ ہماری پالیسیوں پر بین الاقوامی خراجِ تحسین ہے۔ سو ہر طرف سکون ڈاٹ کام اور رہیں اہلِ حکومت مکمل عیش و آرام میں۔
رہے نام اللہ کا……!
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے