46 total views, 1 views today

نسلِ نو کو خطرناک پولیو وائرس کے سبب معذوری سے بچانے اور دنیا بھر سے پولیو وائرس کا خاتمہ یقینی بنانے کے لیے اس مرض سے آگاہی انتہائی ضروری ہے ۔
اس خطرناک مرض کا علاج صرف حفاظتی تدابیر کے تحت پلائے گئے پولیو ویکسین کے دو قطرے ہی ہیں، جو کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کو باقاعدگی کے ساتھ پلانے سے اس مرض کا ممکنہ وائرس مر جاتا ہے اوربچے اس مرض سے ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ جب کہ پولیو کے خطرناک وائرس کے حملہ آور ہونے کے بعد اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔ اس مرض کا شکار زندگی بھر کے لیے اپنے خاندان اور معاشرے پر بوجھ بن کے رہ جاتا ہے۔ اگر متاثرہ فرد بیٹی ہو، تو ماں باپ سارے عمر رونے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق خطرناک پولیو وائرس (Poliomyelitis) اعصابی (نروس) سسٹم کو برباد کرتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے ٹانگوں سے معذور کرکے انسان کو زندگی بھر کے لیے اپاہج بنا ڈالتا ہے۔
پولیو متعدی بیماری ہے۔ اس کا وائرس منھ کے راستے انسان کے جسم میں داخل ہو کر انتڑیوں میں پرورش پاتا ہے۔ اس کی تعداد جسم میں جا کر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ متاثرہ مریض کے گلے اور آنتوں میں موجود رہتا ہے۔
عام طور پر یہ وائرس ایک متاثرہ شخص کے پاخانہ (Poop) کے ساتھ رابطے کے ذریعے (پیٹ سے خارج ہونے والی گیس) سے پھیلتا ہے،جو ہر چیز کو آلودہ کر دیتا ہے اور متاثرہ فرد کے جسم سے خارج ہو کر با آسانی کسی دوسرے انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ متاثرہ فرد کی چھینک یا کھانسی کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔
پولیو کا موذی وائرس متاثرہ شخص یا بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس وائرس کا شکار زیادہ تر 5 سال عمر تک کے بچے ہوتے ہیں۔ 90 فیصد مریضوں میں اس مرض کے شروع ہونے کا معلوم ہی نہیں ہوپاتا، باقی 10 فیصدمیں ابتدائی طور پر اس سے بخار، سر درد، اُلٹیاں، گردن کا اکڑنا اور ٹانگوں میں درد ہونا عام علامات ہیں۔
اس مرض سے بچنے اور لوگوں کو اس مرض کے سبب معذوری سے بچانے کے لیے 25 اپریل 1954ء کو پہلی دفعہ امریکہ میں پولیوویکسین کاوسیع پیمانے پر تجربہ کیا گیا۔ 12 اپریل1955ء کومشی گن یونیورسٹی میں ڈاکٹر تھامس فرانسز جونیئر نے اپنے رفقا کی موجودگی میں اس کی کامیابی کا اعلان کیا اور بتایا کہ یہ حفاظتی ویکسین 80 سے90 تک کامیاب رہی ہے۔
اسی دن امریکی حکومت نے اس کے عام استعمال کی اجازت دے دی۔ یونیسف، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، سی ڈی سی اور روٹری انٹرنیشنل دنیا کے چار سب سے بڑے ڈونرز ہیں۔ انہوں نے 1988ء میں طے کیا کہ جلد از جلد دنیا سے پولیو کا خاتمہ کیا جائے گا۔ 1988ء میں 125 ملکوں میں 350,000 سے زائد بچے پولیو سے معذور ہوئے جب کہ ان عالمی اداروں کی کاوشوں کی بنا پر 2013ء میں صرف تین ملک (پاکستان، افغانستان اورنایجیریا) میں یہ مرض باقی رہ گیا تھا، جہاں اس سال میں ان تین ملکوں میں کل 160 مریض کنفرم ہوئے…… جب کہ پوری دنیا میں اس سال 406 مریض سامنے آئے۔ اسی پولیو ویکسین کی بدولت 1988ء سے 2020ء میں دنیا سے پولیو کا 99 فیصد تک خاتمہ ہوچکا ہے اور اس طرح ایک کروڑ بچوں کو معذور ہونے بچالیا گیاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پاکستان سے پولیو کی مکمل خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے۔ حکومتِ پاکستان 5 سال سے کم عمر تمام بچوں کے لیے ہر 3 ماہ بعد ’’قومی مہم برائے انسدادِ پولیو‘‘ (NIDs) کا انعقاد کر رہی ہے۔ یونیسف، عالمی ادارۂ صحت، روٹری، ریڈ کراس، ہلالِ احمر اور انسانی ہم دردی رکھنے والے اور سول سوسائٹی کے دیگر گروپوں سمیت بہت سے غیرملکی اور مقامی ادارے ان مہموں کی منصوبہ بندی اوران پر عمل درآمد کے لیے مدد کر رہے ہیں۔ اُن بچوں تک بھی پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جو سیکورٹی خدشات، گھر والوں کے انکار یا دیگر وجوہات کی بنا پر ماضی میں قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے۔ ایسے بچوں میں پولیو کی بیماری ہونے کے سب سے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
عالمی اداروں کے تعاون سے یہ مہمات اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک پاکستان اور دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ ممکن نہیں ہوجاتا۔ انسدادِ پولیو کے لیے سرکاری سطح پر کاوشوں کے ساتھ عوام کو بھی پولیو کے خاتمے میں تعاون کرنا چاہیے۔ ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے علما کو بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کے ذہنوں میں موجود مختلف غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہیے۔ یہ ویکسین تمام بچوں کے لیے محفوظ ہے اور ہر خوراک پولیو کے خلاف بچے کی قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتی ہے۔ اس مرض کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ہر 5 سال کے بچے کو پولیو ’’ویکسی نیشن‘‘ لازمی کروائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت و صفائی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ بلاشبہ صفائی کے بہتر انتظام کے باعث بہت سی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔
……………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے