23 total views, 1 views today

باہمی روابط کے لیے ڈاک کا نظام ایک تاریخی اور عالمگیر نظام ہے جس کے ذریعے ہی سے دنیا بھر میں معاشی و اقتصادی ترقی ممکن ہوسکی۔
ترسیلِ ڈاک کا حوالہ آج سے سات ہزار سال پہلے فرعون مصر کے ابتدائی دور سے ملتا ہے۔ جب گھڑ سواروں کے ذریعے بہت دور تک پیغامات بھیجے جاتے تھے۔ بعد میں سیکڑوں سال تک پیغام رسانی کا کام کبوتروں سے بھی لیا گیا، جب خط کبوتر کی گردن پر باندھ دیا جاتا اور وہ اسے منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا۔ پھر جب سائنسی دور کا آغاز ہوا، تو دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ مواصلات میں بھی خاصی ترقی آئی۔ موٹر اور ریل گاڑیوں کی ایجاد کے بعد یہ ڈاک بھیجنے کا ذریعہ بنیں۔
پھر ٹیلی فون کے نظام کے ذریعے ٹیلی گراف کی ایجاد نے موٹر اور ریل گاڑی کی محتاجی بھی ختم کر دی۔ اس کے بعد وائرلیس ایجاد ہو گیاجو کسی تار کو واسطہ بنائے بغیر فضا میں پائی جانے والی ر یڈیائی لہروں کے ذریعے پیغام رسانی کے لیے کام آیا۔ اس کے ذریعے پیغام صرف بھیجا ہی نہیں بلکہ وصول بھی کیا جاسکتا تھا۔ وائرلیس کو سب سے پہلے بحری جہازوں کے درمیان پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا گیا اور اس کو عام انسان کے استعمال میں لانے کے لیے جگہ جگہ تار گھر قائم کیے گئے۔
پھر انٹرنیٹ اور موبائل فون کی ایجاد کے بعد تو برقی لہروں نے دنیا بھر کے مواصلاتی فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا جب کہ ڈاک کا نظام جوکہ ماضی میں باہمی روابط کا واحد ذریعہ رہا ہے، خطوط کے ذریعے عوام کو آپس میں ملانے میں موثر ترین کردار ادا کر تا آیا ہے۔
خط کوآدھی ملاقات تصور کیا جاتا تھا۔ سخت گرمی اور سردی میں میلوں کی مسافت طے کرکے پیغام پہنچانے والا ڈاکیا جو محبت کا امین کہلاتا تھا، آج اس کی رومانوی حیثیت اور تاریخی کردار کو بھی لوگ ہر گزرتے دن کے ساتھ بھولتے جا رہے ہیں۔
آج زیادہ تر سرکاری ادارے اور عدالتیں ہی ڈاک کے نظام سے استفادہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
’’یونیورسل پوسٹل یو نین‘‘ ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں ڈاک کا 5 سے 11 فیصد حصہ عام لوگوں کی جانب سے جب کہ 80 فیصد حصہ حکومتی اداروں کی جانب سے بھیجے گئے خطوط اور کاغذات پر مشتمل ہوتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی تنظیم یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کے زیرِ اہتمام 9 اکتوبر کے دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈاک کا عالمی دن منانے کا مقصد ملکوں کے درمیان ڈاک کے ترسیلی نظام کے بارے میں قانون سازی کرنا اور دورِ جدید کی جدت کے باوجود ڈاک کی اہمیت اور اِفادیت کو اجاگر کرنا اورنظام ڈاک کی ترقی کے لیے کاوشیں کرنا ہے۔ اس روز ’’یونیورسل پوسٹل یونین‘‘ کی ایگزیکٹو کونسل کے 40 ارکان اور پوسٹل اسٹڈیز کی مشاورتی کونسل کے 35 ارکان کی بھی نامزد کرتی ہے۔
گذشتہ 5 سال کے عرصے میں ہونے والے کام سے متعلق اپنے متعلقہ اہم شعبوں کی رپورٹوں کا جائزہ بھی لیتی ہے اور اپنے نئے ڈائریکٹر جنرل اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کا تقرر کرتی ہے۔’’یونیورسل پوسٹل یونین‘‘ کے سالانہ اخراجات اور اس کے مختلف شعبوں کی سرگرمیوں کا تعین کرتی ہے۔ ہر وہ ملک جو اقوامِ متحدہ کی خصوصی تنظیم یونیورسل پوسٹل یونین کے ممبران میں شامل ہے، اس موقع پر خصوصی ڈاک ٹکٹ کا اجرا کرتا ہے۔
قارئین، اس روز محکمۂ ڈاک کے زیر اہتمام مختلف تقریبات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔
بلاشبہ پوسٹ آفسوں کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اور ان میں دورِ جدید کی مناسبت سے جدت پیدا کرکے ہی ڈاک کے نظام کی بقا کو یقینی بنایا جاسکتاتھا ۔ اس کے علاوہ پاکستان پوسٹل سروس میں موجود کالی بھیڑوں سے نجات پاکر ہی ڈاک کے نظام پر عوام کا اعتماد مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔
’’پاکستان پوسٹل سروسز‘‘ کے مونو گرام میں تحریر بانیِ پاکستان قائد اعظم پاکستان کے فرمودہ تین سنہری اصول اتحاد، تنظیم، یقینِ محکم، ان سنہری اصولوں پر کار بند ر ہ کر ہم ملک بھر کے روشن مستقبل اور پائیدار ترقی کے ضامن بن سکتے ہیں۔
آج کے اس جدید دور میں جہاں برانچ لیس بینکنگ، موبائل فون سروسز، فیکس، انٹرنیٹ اور ای میل سروسز کی بہتات ہے، ان سہولیات کے باوجود صداقت اور امانت کے پیکر پوسٹ مین کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جو ہر روز میلوں کی مسافت طے کرکے عوام کے درمیان باہمی روابط کو استوار رکھتا آیا ہے۔
آج ڈاک کے نظام کو جدید دور سے ہم آہنگ اور ڈاک و سامان کی ترسیل کے لیے پوسٹ مینوں کو موٹر سائیکل سمیت ہر ممکن سہولت فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے