35 total views, 1 views today

کوئی قوم ہو یا معاشرہ، علم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا اور علم کا حصول اساتذہ کے بغیر ممکن نہیں۔
انسانیت کی تعمیر و علمی ارتقا میں اساتذہ کا کردار بنیادی ہے۔ اساتذہ نوجوانوں کی سیرت کو سنوارنے، انہیں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ان کی کردار سازی میں اہم ترین فریضہ سر انجام دیتے آئے ہیں۔ اساتذہ نے اپنے علم کے ذریعے عقل کو علم سے روشن کرنے کا ہنر سکھایا اور اپنی اَن تھک محنت سے نوجوانوں کو محقق، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، سیاست دان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں منصب پر فائز کرتے چلے آئے ہیں۔
اساتذہ انسان کو ربّ رحمان سے آشنا کرتے، دنیا میں انسانیت سے محبت، امن اور اخوت کا پرچار کرتے اور جہالت کے اندھیروں کو علم کی روشنی سے ختم اور علم کی قندیلوں سے قندیلیں روشن و منور کرتے چلے آئے ہیں۔ بلاشبہ درس و تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے، لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے معلم کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو معلم کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔
اسلام نے معلم کو بے حد عزت و احترام عطا کیا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔ خود خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے۔‘‘
خالقِ کائنات نے انسانیت کی رہنمائی اور تعلیم کے لیے کم و بیش 1 لاکھ 24 ہزار انبیائے کرام کو معلّم بنا کر بھیجا۔ ہر نبی، شریعت کامعلّم ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ایک فن کا ماہر اور معلّم بھی ہوتا تھاجیسا کہ حضرت آدمؑ دنیا میں زراعت، صنعت کے معلّم اوّل تھے۔ کلام کو ضبط تحریر میں لانے کا علم سب سے پہلے حضرت ادریسؑ نے ایجاد کیا۔حضرت نوحؑ نے لکڑی سے چیزیں بنانے کا علم متعارف کروایا۔حضرت ابراہیمؑ نے علمِ مناظرہ اور حضرت یوسفؑ نے علم تعبیر کی بنیاد ڈالی۔ خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معلّم کو انسانوں میں بہترین شخصیت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔‘‘
اس سے ظاہرہوتا ہے کہ اسلام میں معلم کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلا و ارفع ہے۔ اسلام نے استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔ حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے کہ ’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا، مَیں اس کا غلام ہوں، وہ چاہے مجھے بیچے، آزاد کرے یا غلام بناکررکھے۔‘‘
پانچ اکتوبر کا دن دنیا بھر میں ’’ورلڈ ٹیچرز ڈے‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن جہاں اساتذۂ کرام کی قدر و منزلت کے پہچاننے کا دن ہے۔ وہیں اساتذہ کے لیے غور کرنے کا دن ہے کہ وہ اپنے فرائضِ منصبی کو احسن طور پرسر انجام دے رہے ہیں یا نہیں؟ وہ اپنے طلبہ کی صحیح سمت میں رہنمائی کررہے ہیں یا اپنی خدمات کو محض ایک ڈیوٹی سمجھ کر انجام دے رہے ہیں!
ایک استاد کے لیے طلبہ کی تربیت،ا نہیں صحیح راستہ دکھانا، زندگی کے نشیب و فراز سے آشنا کرنا، مشکلات سے نمٹنے کا سلیقہ سکھانا، آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا اور معاشی و اقتصادی ترقی کے لیے ہنر مندی کی اہلیت پیدا کرنا، بطورِ معلم اہم ترین فریضہ ہوتا ہے۔ اور نہ صرف طالب علم بلکہ والدین، رشتہ دار اور سب سے بڑھ کر ملک و قوم اساتذہ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کردار سے سماجی اور قومی قدروں میں اضافہ کریں گے۔ بلاشبہ اساتذہ کی محنت سے قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے لیے رکھے گئے اساتذہ کوپیشہ ورانہ اور معاشی نقصان پہنچا کر ان کا استحصال کیا جاتارہا ہے۔ اساتذہ کو فریضۂ تدریس کی ادائیگی کی بجائے گھروں سے بچے اکٹھے کرنے، پولیو کے قطرے پلانے، ووٹنگ لسٹ بنانے، مردم شماری کرنے، اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں کے والدین کو لے جا کر ان کے کارڈ بنوانے کا کام لے کر بچوں کو تعلیم کے حقیقی ثمرات سے محروم کیا جا رہا ہے۔ پھر ان حالات کی ذمہ داری اساتذہ پر ڈال کر ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرکے اساتذہ کی تذلیل کی جاتی ہے۔
اس طرح افسرانِ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کو بلاجواز سزائیں دی جاتی ہیں۔ پنجاب میں ’’ایگزامی نیشن کمیشن‘‘ کے غیر معیاری امتحان کے غیر معیاری نتائج کی بنیاد پر اساتذہ کی ’’انکریمنٹس‘‘ سلب کرلی جاتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو پُرسکون طریقہ سے تدریسی عمل جاری رکھنے کے لیے ان کے خلاف ’’پیڈا ایکٹ‘‘ کی انتقامی کارروائیاں بند کی جانی چاہئیں، تاکہ اساتذہ بہتر طور پر تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے