40 total views, 1 views today

سوات میں آئے دن ٹریفک حادثات میں اضافہ کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ڈھیر سارے جوان عمر بھر یا ایک عرصہ کے لیے حادثات میں معذور ہو جاتے ہیں۔
قارئین، سوات میں 4 سال اور 8 ماہ کے دوران میں ٹریفک کے 1991 حادثات ہوئے جن میں 482 افراد انتقال کرگئے اور 3179 زخمی ہوئے۔ مذکورہ انتقال کرنے والوں میں 393 مرد، 22 خواتین اور 67 بچے شامل ہیں۔ ان حادثات میں 1344 عام گاڑیوں اور 915 موٹر سائیکل سواروں کے ہوئے ہیں۔
قارئین، یہ بھی وہی حادثات ہیں جن کی رپورٹ پولیس تھانوں میں درج ہوئی ہے۔ جن کی رپورٹ پولیس تھانوں میں درج نہیں ہوئی، وہ اس کے علاوہ ہیں۔
سوات کے مختلف پولیس تھانوں میں درج حادثات کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء کے 8 ماہ یعنی یکم جنوری تا 31 اگست 2021ء سوات میں 421 ٹریفک حادثات ہوئے، جن میں 103 افراد انتقال کرگئے جب کہ 906 زخمی ہوئے۔ ان 8 ماہ میں ہونے والے حادثات میں انتقال کرنے والے افراد میں 84 مرد، 5 خواتین اور 14 بچے شامل ہیں۔ حادثات میں زخمی ہونے والے افراد میں 752 مرد، 41 خواتین اور 113 بچے شامل ہیں۔ ان حادثات میں 320 موٹر سائیکل اور 177 عام گاڑیوں کے ہوئے ہیں۔
سال 2020ء میں سوات میں ٹریفک کے 469 حادثات ہوئے ہیں جن میں 116 افراد انتقال کرگئے جب کہ خواتین اور بچوں سمیت 565 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں 342 حادثات عام گاڑیوں اور 127 موٹر سائیکلوں کے ہیں۔
سال 2019ء میں سوات میں 382 ٹریفک حادثات ہوئے، جن میں 84 افراد انتقال کرگئے اور 585 زخمی ہوئے۔ ان میں 421 حادثات عام گاڑیوں اور 158 موٹر سائیکلوں کے ہوئے ہیں۔
سال 2018ء میں سوات میں 366 حادثات ہوئے جن میں 79 افراد انتقال کرگئے اور 470 زخمی ہوئے۔ ان حادثات میں 192 عام گاڑیوں کے جب کہ 170 موٹر سائیکلوں کے ہوئے۔
سال 2017ء میں سوات میں 354 ٹریفک حادثات ہوئے، جن میں 109 افراد انتقال کرگئے جب کہ 595 زخمی ہوئے۔ ان حادثات میں 212 عام گاڑیوں اور 140 موٹر سائیکلوں کے ہیں۔
قارئین، ٹریفک پولیس کے حکام نے حادثات کی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں زیادہ حادثات موڑ کاٹتے ہوئے ڈرائیور کی غفلت سے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ڈرائیورموڑ کاٹتے وقت دوسرے لین میں چلا جاتا ہے جو حادثے کا سبب بنتا ہے۔ میدانی علاقوں میں حدِ رفتار کے سائن بورڈ کا نہ ہونا اور حد رفتار کی پابندی نہ کرنا بھی حادثات کی وجہ ہیں۔
اس طرح سوات میں زیادہ تر آبادی مین سڑکوں کے کنارے ہے، یہ بھی حادثات کا سبب ہے۔ لوگ اپنے کم سن بچوں کو گاڑیاں اور خاص کر موٹر سائیکل خرید کر دیتے ہیں جن پر وہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ بھی حادثات کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔
اس حوالہ سے ایس پی ٹریفک کا کہنا ہے کہ آگاہی کے بغیر ٹریفک حادثات میں کمی لانا ممکن نہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ کم سن بچوں کو گاڑیاں نہ دیں۔ ڈرائیور حضرات رفتار کو حد میں رکھیں اور آبادیوں میں تیز رفتاری سے پر ہیز کریں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ سوات میں حادثات کے اضافہ میں سب سے بڑی وجہ کم سن موٹرسائیکل ڈرائیوروں کی ہے۔ سمجھ دار نہ ہونے کی وجہ سے وہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے موٹر سائیکل حادثات میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اس طرح کم ماہانہ قسطوں پر مو ٹر سائیکلوں کی فروخت بھی ان حادثات کی وجہ ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوربس اسٹینڈ جلدی پہنچنے اور نمبر حاصل کرنے کے لیے انتہائی تیز رفتاری کرتے ہیں جو حادثات کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔
نان کسٹم پیڈ اور خاص کر نان کسٹم پیڈ (کٹ) گاڑیاں جن پر ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی ہے، وافر مقدار میں تیار ہورہی ہیں۔ یہ دراصل کم قیمت میں ملتی ہیں اور اکثر اناڑی ڈرائیور اس کو خرید کر چلاتے ہیں، یہ بھی ان حادثات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
سوات میں مختلف قسم کی ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی گاڑیاں اور اناڑی ڈرائیور بھی ان حادثات کی وجہ ہیں۔
آخر میں سب سے بڑی وجہ ٹریفک پولیس خود ہے۔ باقی ممالک میں ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ٹکٹ دیا جاتا ہے۔ ایک ٹکٹ کے باوجود دوبارہ غلطی کرنے پر اُسے اُس سے بڑا ٹکٹ دیا جاتا ہے۔ کچھ ممالک میں تو پوا ئنٹس ہوتے ہیں۔ یوں کئی بار غلطی کرنے والوں کا لائسنس منسوخ کردیا جاتا ہے۔ یہاں لائسنس یافتہ ڈرائیور آٹے میں نمک کے برا بر ہیں۔ اس طرح جب کسی ڈرائیور کو ایک بار ٹریفک پولیس ٹکٹ دیتی ہے، تو ایک ہفتہ تک وہ پولیس کو ملنے والا ٹکٹ دکھا کر اپنی گلوخلاصی کراتا ہے۔ اکثر اوقات سوزوکی، رکشا اور فلائنگ کوچ والے صبح کسی ٹریفک آفیسر سے سو، دو سو روپے والا ٹکٹ لے کر آزادی حاصل کرتے ہیں اور پھر پورا ہفتہ ٹریفک کی دھجیاں اُڑاتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی ٹریفک پولیس اس کو غلطی سے روک بھی لے، تو وہ ملنے والا ٹکٹ دکھاکر ٹریفک پولیس سے جان چھڑا لیتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کوئی دوسری مرتبہ ٹریفک کی خلاف ورزی کرے، تو اس کو زیادہ جرمانہ کیا جائے، تاکہ آئندہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی ہمت نہ کرے۔
قارئین، یہ وہ وجوہ ہیں جن سے ٹریفک حادثات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگر یہی حال رہا، تو آگے ان میں مزید اضافہ ہوگا اور ہم اپنے بچوں، ہم عصر اور بڑوں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے