35 total views, 1 views today

(خصوصی رپورٹ) وزیرِ اعلا محمود خان کی خصوصی دلچسپی سے 813 ملین روپے کی لاگت سے زیرِ تعمیر صوبے کی اے کلاس ڈسٹرکٹ جیل سوات نے کام کا آغاز کردیا۔ اس کا افتتاح وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا خود کریں گے۔
جیل کے سپرنٹنڈنٹ محمد ایوب باچا کے مطابق: ’’8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں ریاستِ سوات دور کی اس جیل کو نقصان پہنچا تھا۔ وزیرِ اعلا محمود خان کی خصوصی دلچسپی سے اس کے ایک حصے کا کام مکمل ہوچکا ہے جس میں اس وقت 660 مرد اور 30 کے قریب خواتین قیدی موجود ہیں۔ جیل کی تعمیر سے پہلے ان قیدیوں کو بونیر یا تیمرگرہ جیل میں رکھا جاتا تھا۔ یہ اس وقت صوبے کی اے کلاس جیل ہے، جہاں صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اس میں قیدیوں کو اچھے کوالٹی کے کونگ آئل اور مسالوں میں صاف ستھرا کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ قیدیوں کو صبح ناشتہ میں انڈا پراٹھا اور کھانے میں آلو گوشت، گوشت چاول، مرغی، دال اور معیاری کھانے دیے جاتے ہیں، جن کا باقاعدہ معائنہ کیا جاتا ہے۔ اب جیل میں بزرگ قیدیوں کو خصوصی بارک دیا جائے گا، جس میں ان کو چارپائیوں سمیت خدمت گار بھی دیے جائیں گے۔ مرد قیدیوں کو مختلف ہنر سکھائے جائیں گے جب کہ خواتین قیدیوں کو سلائی کڑائی، خواتین کے زیرِ استعمال مختلف کریم اور بیوٹی پالر کے کورس کرائے جائیں گے، تاکہ قیدی باہر جاکر اچھے انسان بن سکیں اور محنت کرکے حلال روزی کما سکیں۔‘‘
سوات جیل میں تعمیراتی کام فنڈز کی موجودگی کے باوجود سُست رفتار سے جاری ہے، جس کی وجہ سے قیدیوں اور عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے لیے عمارت تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مردوں کی جیل کے ایک الگ بارک میں رکھا گیا ہے۔ جیل کے سیکورٹی واچ ٹاؤر تاحال تعمیر نہ ہوسکے جس کی وجہ سے سیکورٹی کو مکمل نہیں کہا جاسکتا۔ جیل کالونی تاحال تعمیر نہ ہوسکی جس کی وجہ سے جیل سٹاف باہر کرایہ کی عمارتوں میں رہائش پذیر ہے۔ اس میں 660 قیدیوں اور جیل کی سیکورٹی کے لیے صرف 60 اہلکار چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کے لیے تعینات ہیں۔ 30 سے زیادہ خواتین کے لیے صرف 3 خواتین اہلکار مامور ہیں۔ تعمیراتی کاموں کے ٹھیکیداروں نے ابھی تک سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگائے۔ جیل میں کوئی واک تھرو گیٹ نہیں جس کی وجہ سے اس اہم اور اے کلاس جیل کی سیکورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جیل میں مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے ایمبولینس اور پولیس اہلکار بھی نہیں۔ ایمرجنسی میں پولیس لائن کبل سے گاڑی منگوائی جاتی ہے، جس کے آنے میں کافی وقت لگتا ہے۔




تبصرہ کیجئے