28 total views, 1 views today

جنوبی ایشیا معاشی لحاظ سے دنیا کا کم زور خطہ ہے جس کی علاقائی تجارت، عالمی تجارت کا محض 5 فی صد ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دائمی عدم اعتماد کی فضا تصور کی جاتی ہے۔
یورپ کی طرح جنوبی ایشیا کے ممالک بھی مشترکہ تہذیب و تمدن، رہن سہن، بود و باش، تاریخ اور زبان و ثقافت کے باوجود تقریباً یکساں مسائل اور خطرات کا شکار ہیں، مگر اس سب یکسانیت کے باوجود جنو بی ایشیا میں علاقائی تعاون کی روایت اور تاریخ یورپی ممالک سے یکسر مختلف ہے۔
دوسری جنگِ عظیم نے دنیا بھر کے ممالک پرگہرے اثرات مرتب کیے جس کے نتیجے میں تمام ممالک کسی ایسے حل کے بارے غور کرنے لگے جس سے تجارت کے ساتھ دنیا میں امن کو فروغ ملے۔
1980ء کی دہائی کے بعد دنیا بھر میں علاقائی تعاون کی سوچ زیادہ تقویت اور مقبولیت اختیار کرنے لگی۔ نتیجتاً یہ نظریہ بیشتر دیگر فکریات کی طرح جنوبی ایشیا تک پہنچا اور 1985ء میں سارک کی بنیاد رکھی گئی۔ ’’ساپٹا‘‘ معاہدے پر 1993ء میں دستخط کیے گئے اور سافٹا (آزاد تجارت کا معاہدہ) پر 2006ء میں عمل درآمد کا آغاز ہوا۔
علاقائی تعاون کے لیے ان تمام اقدامات کے باوجود جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی فضا حوصلہ افزا نہیں رہی۔
سارک تنظیم ایک تنظیمی ڈھانچے کے علاوہ غیر فعال ہے اور جنوبی ایشیا کے مسائل کو حل کرنے کی سکت، ارادہ اور وسائل سے محروم ہے۔
سارک تنظیم جنوبی ایشیا کے لیے سافٹا (آزاد تجارت کا معاہدہ) پر عمل درآمد کروانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ خطے میں علاقائی تعاون کی کمی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں معاشی، غیر معاشی اور غیر علاقائی عناصر کی مداخلت قابل ذکر ہے۔
جنوبی ایشیا کے دیگر ان گنت مسائل کی طرح ایک بڑا مسئلہ معاملات میں لچک دکھانے کاشدید فقدان ہے جس پر خطے کی معاشی ترقی کا انحصار ہے۔ غیر علاقائی عناصر جنوبی ایشیا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ وقت کی نزاکت اور ایشیا میں امن اور تعاون کی ابتر صورتِ حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے جنوبی ایشیا میں ایک متحدہ بلاک بنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔
سال2003-8ء جنوبی ایشیا میں معاشی ترقی کے عروج کا عرصہ تصور کیا جاتا ہے جب اوسطاً سالانہ ترقی کا تناسب 7.8 فی صد رہا۔ اس عرصے کے دوران میں مشرقِ وسطیٰ کے بعد جنوبی ایشیا کی ترقی دوسری نمبر پر تھی۔ یہ خطہ ہنگامی توجہ اور تعاون کا منتظر ہے۔ کیوں کہ جنوبی ایشیا میں دنیا کے 40 فی صد سے زیادہ غریب آباد ہیں۔ دنیا کی تقریباً چوتھائی آبادی جنوبی ایشیا میں بستی ہے اوریہ خطہ عالمی جی ڈی پی میں 3.3 فی صد مقامی خام مال کی پیداوار کی شراکت سے موجود ہے۔
جنوبی ایشیامیں باہمی تعاون کے تحت مربوط تجارت میں 2008ء میں 4.5 فی صد سے بڑھ کر2015ء میں 7.6 فی صد تک پہنچ گئی جو 2018ء میں متوازن نوعیت اختیار کرتے ہوئے6.9 فی صد تک رہی۔ اگر یورپ اور ایشیا پیسیفک کی مربوط علاقائی تجارت کا موازنہ جنوبی ایشیا کی تجارت سے کیا جائے، تو یہ شر ح ناکافی ہے۔
جنوبی ایشیائی ریاستیں غیر لچک دار تجارتی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے تمام تر کوششوں کے باوجود روایتی اختلافات کی وجہ سے تجارت کو محدود کر دیتے ہیں۔
سال 2016ء میں جنوبی ایشیا کا اوسطاً ٹیرف 13.6 فی صد تھا، جو عالمی پیمانے پر اوسطاً 6.3 فی صدسے زیادہ ہے۔ جہاں تک حساس نوعیت کی تجارت کا تعلق ہے، جنوبی ایشیا میں سارک ممالک کی برآمدات میں سے 44 فی صدسے 45 فی صد تجارتی ایشیا حساس فہرست میں شامل ہیں۔ مثلاً انڈیا کی 39 فی صد سے زیادہ برآمدات جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی حساس فہرست میں شامل ہیں۔
علاقائی تعاون کی قلت کے مسئلہ سے ’’نپٹنا‘‘ بلاشبہ نہ صرف بہت زیادہ وقت کا طلب گار ہے، بلکہ یہ سفر کافی کٹھن، سست اور تھکا دینے والا ہونے کے ساتھ ساتھ بیورو کریسی کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا علاقائی تعاون اور باہمی مربوط تجارت کے لیے تمام ریاستوں کا غیر روایتی تعاون کی طرف ٹھوس اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ہمیں دنیا میں موجود دیگر جدید تجارتی اور شراکت داری کے نظریات پر غور کرنے کی ضرور ت ہے، تاکہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح جنوبی ایشیا بھی پُرامن بننے کے علاوہ معاشی اور دیگر شعبوں میں تیزی سے ترقی کرے۔ غیر علاقائی عناصر کی مداخلت روکنے اور خطے کے معاملات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف ایک متحدہ اور مضبوط محاذ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
جنوبی ایشیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرز پر چلتے ہوئے مرکزی اختیارات کی صوبوں کو تقسیم کے فارمولے پر بھی عمل درآمد کرسکتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں تمام تر مسائل کی جڑ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرنہ مسئلہ کشمیر ہے جسے حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں کسی صورت بھی امن اور خوشحالی ممکن نہیں۔ دونوں ممالک کشمیر پر کئی جنگیں لڑ چکے ہیں، اب دونوں ممالک کو اس رسہ کشی سے نکل کر کشمیر کو آزاد ریاست کے طور پر آزاد چھوڑ دیں۔
دوسری طرف غیر علاقائی عناصر جنوبی ایشیا میں مداخلت کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ خطے میں کسی مضبوط علاقائی تعاون کی تنظیم کی عدم موجودگی ہے۔ خطے کے تمام ممالک کو اپنی پالیسیوں میں بدلاو اور لچک کے علاوہ باہمی تعاون کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنا بھی اشد ضروری ہے۔
جنوبی ایشیا کے مسائل کو حل کرنے کی ماضی کی کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طریقۂ کار کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔ علاقائی ریاستوں کے زیادہ ترمسائل جغرافیائی اور سیاسی نوعیت کے ہیں۔ اس لیے علاقائی تعاون اور باہمی مربوط اور پائیدار تعلقات کی بحالی اور بقا کے لیے آسان سے مشکل کی طرف جانے کی ابتدا کی جائے۔
ایک اور بڑی وجہ جنوبی ایشیائی ممالک کے مابین رابطہ سڑکوں اور ذرائع کی قلت بھی ہے جس کی وجہ سے باہمی تجارت اور دیگر معاملات احسن طریقے سے سرانجام نہیں ہوپاتے۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کا عدم توازن، رابطوں کی کمی اور تحفظ سے متعلق خدشات کی وجہ سے علاقائی تعاون کی طرف ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاسکے۔
خطے کے بیشتر ممالک معاشی، دفاعی اور ڈپلومیٹک لحاظ سے مغربی ممالک پر انحصار کرتے ہیں اور خطے میں موجود متنوع تناو میں علاقائی تعاون کی بجائے غیر علاقائی عناصر کا سہارا لیتے ہیں جس نے جنوبی ایشیا کے مسائل کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔
عدم اعتماد کی اس فضا کی وجہ سے جنوبی ایشیا کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔
تمام ممالک کو مسائل کی نوعیت او ر نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کر کے ان میں مطلوبہ تبدیلیوں اور باہمی تعاون کے لیے لچک اور اعتماد کی بحالی کی فضا کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
خطے میں باہمی رابطہ کے لیے انفراسٹرکچر کی کمی ایک بہت بڑی رکاٹ ہے۔
ذرائع نقل و حمل اور ذرائع رسل و رسائل کی قلت علاقائی تعاون اور باہمی مربوط تجارت کے گراف کو بہت نیچے لے جاتی ہے۔ مثلاً بھارت اور نیپال میں کل 22 سے زیادہ تجارتی پورٹس ہیں۔ 15 محض ٹرانزٹ ٹریفک کے لیے ہیں۔ اس کے باوجود ان میں سے صرف 6 زیرِ استعما ل ہیں۔
ایک اور وجہ بھارت کا اجارہ دارانہ اور سامراجی رویہ ہے جس کی وجہ سے خطہ معاشی، سیاسی، دفاعی اور سماجی میدانوں میں ترقی سے محروم ہے۔
سارک ممالک کی کل آبادی میں سے 75 فی صد آبادی بھارت کی ہے جو تقریباً جی ڈی پی کا 80 فی صد بنتی ہے جب کہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے دونوں ممالک کی کل آبادی 10 اور جی ڈی پی میں شرح 7 فی صد بنتی ہے۔ خطے میں بھارتی دھمکیوں اور سامراجی نظریات کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی دیگر ریاستوں میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔
ایک اور وجہ مختلف ممالک کی سرحدوں کا بھارت کے ساتھ ہونا بھی ہے۔ بھارت کی جانب سے سرحدوں پر کشیدگی اور جنوبی ایشیا کی چھوٹی ریاستوں کے اندرونی معاملا ت میں بے جا مداخلت ہے۔
قارئین، ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی ایشیائی ممالک اپنی پالیسیاں علاقائی تعاون کے بجائے اپنی سلامتی اور دفاعی نقطۂ نظرسے ترتیب دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔
جنوبی ایشیا سے نوآبادیات کے جغرافیائی خاتمے کے بعد اس خطے میں مغربی سامراجیت نے اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ جنوبی ایشیا، مغربی ممالک کے اسلحہ کی فروخت کی بہت بڑی منڈی ہے اور خطے میں امن اور باہمی مربوط تعاون و تجارت ان کے لیے تجارتی نقطۂ نظر سے درست نہیں۔ اس لیے مغربی ممالک جنوبی ایشیا اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر موجود دیرینہ مسئلہ کشمیر حل کرنے سے گریزاں ہیں۔
کالم بارے رائے کے لیے رابطہ 03214756436۔
…………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے