36 total views, 2 views today

(خصوصی رپورٹ) خام مال کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پشاور، مردان اور سوات سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں جستی چادروں سے صندوق بنانے کے کار و بار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ٹرنک کا کار و بار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنا کار و بار ختم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ 1977ء سے ٹرنک کا کام کرنے والے نور البشر کا کہنا ہے کہ آج سے تین سال پہلے جستی چادر 120 روپے کلو ملتی تھی، لیکن پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر میں اضافہ کی وجہ سے اب 260 روپے فی کلو گرام مل رہی ہے۔ اب ڈالر 170 روپے تک پہنچنے کے بعد نیا آنے والا مال اس سے بھی مہنگا ہوگا۔ تین سال پہلے ایک ڈبا دستہ کی قیمت 70 روپے تھی، جو اَب 140 ہے۔ اس طرح کیل (رِپٹ) کی فی ڈبا قیمت 2 سو روپے سے 6 سو ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے صندوق کی قیمت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ ایک طرف لوگوں میں قوتِ خرید نہیں اور دوسری طرف صندوق کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے بعض لوگوں نے اپنا کار و بار ختم کردیا ہے۔ بعض ختم کرنے والے ہیں۔
جستی چادر سے بننے والے صندوق زیادہ تر بستروں کو محفوظ رکھنے، آٹا، چینی، چاول ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر لوگ ان میں بستر رکھ کر جہیز کے ساتھ سامان میں بھیجتے ہیں۔
ٹرنک کا کار و بار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جستی چادر سے صندوق بنانے والا تمام سامان چین سے آتا ہے۔ چین میں تمام خریداری ڈالر کے عوض ہوتی ہے۔ پاکستان تک کا کرایہ بھی ڈالر میں دیا جاتا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے یہ سامان مسلسل مہنگا ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے اب ٹرنک کا کار و بار آخری سانسیں لے رہا ہے۔
یہ کار و بار کرنے والوں کا کہنا کہ پچھلے تین سالوں سے صندوق کی قیمتوں میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ نور البشر کے مطابق سات فٹ کا صندوق 12 ہزار سے 20 ہزار روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ 6 فٹ کا صندوق 8 ہزار تا 16 ہزار، 5 فٹ کا 4 تا 8 ہزار اور آٹا، چینی، چاول محفوظ کرنے کا صندوق 8 سو تا 18سو روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ کے ساتھ یہ قیمتیں مزید بڑھیں گی۔
ٹرنک کا کام کرنے والے بیشتر کاریگر بے روزگار ہوچکے ہیں۔ یہ کام کرنے والے رحمان غنی کہتے ہیں کہ ان کی دکان میں دس کاریگر کام کرتے تھے۔ اب کام نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ کاریگروں کو انہوں نے فارغ کردیا ہے۔ چند دنوں میں وہ ایک اور کاریگر کو فارغ کرنے والے ہیں۔ اس طرح تمام دکان داروں نے 80 فیصد تک مزدوروں کو فارغ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مَیں اب دکان اور گودام کا کرایہ دینے کے قابل نہیں ہوں۔ اس لیے اپنا کار و بار ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔




تبصرہ کیجئے