54 total views, 1 views today

دورِ جدید میں کسی بھی ملک کی خود مختاری اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مضبوط معاشی ریاست کا ہونا ضروری ہے۔ یہ عمل مملکت کو فلاحی ریاست بنانے کے لیے اہم کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ 102 برس کی 3 جنگوں کے بعد افغانستان کو قیامِ امن کے لیے سنہرے دور کے آغاز کا ایک بہترین موقع ملا۔ عالمی برادری سے سفارتی تعلقات اور خطے میں افغانستان کی اہمیت کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ملک کے لیے عطیات دیں۔ انسانی ہمدردی کے تحت افغانیوں کی مدد کے لیے لاکھوں ڈالر کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف امریکہ نے اپنے زیرِ اثر بنکوں میں افغان حکومت کے 20 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔ اگر ان اثاثوں کو منجمد کرنے کی بجائے نئی افغان عبوری حکومت کا حق انہیں دے دیا جائے، تو افغان عوام کو پریشانی کم ہوسکتی ہے، لیکن عالمی برادری افغانستان کے ساتھ صدقے خیرات کے نام پر دی جانے والی مالی امداد کے نام پر دباؤ کی پالیسی کو اختیار کیے ہوئی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ طوعاً و کرہاً نئی افغان عبوری حکومت ان کے منشا کے مطابق چلے۔
گذشتہ دنوں امریکہ ہی نے افغانیوں کے لیے ڈونر کانفرنس کا انعقاد کرایا، جس میں افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک ارب 26 کروڑ ڈالر سے زائد امدادی رقوم کے وعدے کیے گئے۔ اسے مثبت اقدام قرار دیں گے، لیکن گھوم پھر کر بات وہیں پر آجاتی ہے کہ عالمی امدادی رقوم براہِ راست افغان حکومت کو نہیں ملیں گی، بلکہ عالمی امدادی تنظیموں کے توسط سے عوام پر خرچ کی جائے گی۔ اس کا پہلا تاثر یہی دیا جائے گا کہ افغان طالبان جنگ تو کرسکتے ہیں لیکن معاشی چیلنجوں کو دور کرنے کی صلاحیت ان میں موجود نہیں۔ اور اگر کچھ عرصہ یہی صورتِ حال رہی، تو عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق نئی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے۔
افغان حکومت نے طویل مشاورت کے بعد عبوری ’’سیٹ اَپ‘‘ میں جن شخصیات کا تقرر کیا، اُن سب کا تعلق تحریکِ اماراتِ اسلامیہ افغانستان سے ہے۔ نسلی بنیادوں پر کلیدی تقرر کرکے انہوں نے ظاہر کرنے کی کوشش ضرور کی کہ کابینہ میں ازبک، تاجک، ہزارہ اور پشتو ن ہیں لیکن وابستگی تو افغان طالبان ہی سے ہے۔
نئی عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے دو طرح کا لائحہ عمل ان کے سامنے تھا کہ ماضی کی طرح تنہا حکومت سازی کریں اور اپنے محدود وسائل کے ساتھ ملک کا انتظام و انصرام چلائیں۔ ملا عمر مجاہد مرحوم ایسا کر چکے تھے، گو کہ ان کی مالی امداد مسلم اکثریتی ممالک کررہے تھے، لیکن اس وقت افغانستان پر ان کا مکمل کنٹرول بھی نہیں تھا اور وہ چند حصوں تک ہی محدود تھے۔ اس لیے انہیں دنیا سے مالی امداد کی ضرورت نہیں پڑی۔ اب افغان طالبان نے جنگ کے نت نئے طریقے، سفارت اور سیاست بھی سیکھ لی ہے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر انہیں عالمی برداری سے تعلقات بحال رکھنے ہیں، تو عبوری دور کے تقاضوں کے مطابق چلنا ہوگا۔
طالبان نے کئی معاملوں میں ماضی کے بہ نسبت اپنا امیج مثبت ظاہر کرنے کے اقدامات کیے۔ جانی دشمنوں کو عام معافی دی، سرکاری ملازمین کو تحفظ اور تنخواہوں کی ادائی کی یقین دہانی کرائی، شخصی آزادی کی ضرورت پر زور دیا، کیمروں کے سامنے بیٹھ کر اپنا دفاع کیا، کابل ائیر پورٹ کو فعال کرانے کے لیے قطر اور ترکی سے تکنیکی امداد حاصل کی، چین کو گیم چینجر قرار دیا، ایران سے قربتیں بڑھائیں۔ ہاں، پنج شیر جھڑپ میں تحفظات سامنے آئے، لیکن یہ کسی بھی ریاست کے لیے اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ اُس کی رٹ کو تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ شمالی مزاحمتی اتحاد سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد رٹ قائم کی جس سے کچھ ممالک کو تکلیف بھی ہوئی۔
دوسری طرف این جی اُوز نے خواتین کا کندھا استعمال کرکے عبوری حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کرائے۔ چوں کہ اماراتِ اسلامی کی مسلح دستوں کی تربیت ہر ملک کے فوجی کی طرح بلکہ بڑھ کر ہے، ا س لیے انہیں عوام کے ساتھ گھل ملنے اور نصیحتوں کے لیے نہیں بلکہ دشمن اور مخالفین کے خلاف سخت گیر تربیت دی گئی ہے۔ اس لیے دو دہائیوں بعد مسلح فوجیوں کے نزدیک افغان روایات و ثقافت کے برعکس خواتین کے مظاہروں سے جو ردِعمل آ تا رہے گا وہ فطری ہوگا، ایسا دنیا بھر میں ہوتا ہے۔
افغان طالبان کا سیاسی ونگ ایک حکمتِ عملی کے تحت افغان باحجاب خواتین کو سڑکوں پر لایا اور اماراتِ اسلامی کے حق میں ریلی اور تقاریر ہوئیں، لیکن ان کی اس پیش رفت پر نئے برقعے کے عجیب ڈیزائن نے دنیا کی توجہ حاصل کی اور الٹا اثر ہوا۔ دنیا میں چہ میگوئیاں ہوئیں کہ ایسا پردہ تو پوری دنیا میں بالخصوص افغانستان کی ثقافت میں بھی نہیں۔ اصل مقصد گم ہوگیا، تو ایک مرتبہ پھر افغان روایت کے مطابق مروجہ توپ برقعے اور حجاب میں خواتین کی بہت بڑی ریلی نکالی گئی اور عالمی برداری کو باور کرایا گیا کہ لبرل اور سیکولر طبقے سے زیادہ ’’خواتین‘‘ اسلامی امارات کی خواہش مند ہیں، لیکن یہاں ان ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کے موازنے کرنے کا مقصد نہیں بلکہ افغان طالبان کی نئی فکر کو سمجھنا ہے کہ وہ عالمی سیاست کے تمام گر سمجھ گئے ہیں اور جو خواتین کی آواز بھی نامحرم کو نہ سنائی دینے پر یقین رکھتے تھے، اب سیکڑوں خواتین کی اخلاقی مدد اس لیے حاصل کی، کہ انہیں عالمی برداری میں تنہا نہیں رہنا اور افغانستان کی تعمیرِ نو اور بہتر مستقبل کے لیے ان سے مالی امداد کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف گذشتہ 102 برسوں سے لڑنا کسی کے بھی فائدے میں نہیں۔
اب جنگ ختم ہوگئی اور امن کا دور شروع ہوچکا، جرائم میں کمی آگئی، تشدد کا خاتمہ ہوا، خانہ جنگی اختتام کو پہنچی اور عالمی برداری کو خیر سگالی کے پیغامات بھیجے گئے، لیکن یہاں عبوری حکومت کی تشکیل میں ان سے ایک اجتہادی غلطی بھی ہوئی۔ غلطی اس لیے کہ جب عالمی برداری سے امداد اور سفارتی تعلقات کے طلب گار اور معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں دقت کا سامنا ہے، نیز کوئی ایک یا دو ممالک اب افغان مملکت کا اتنا بھاری بوجھ نہیں اٹھا سکتے کہ یومیہ 29 کروڑ ڈالرخرچ کریں۔ چین اپنے مفادات کے لیے کسی حد تک تعاون کرسکتا ہے، لیکن افغانستان کو گود لے کر امریکہ کے بعد پوری دنیا کو اپنا دشمن نہیں بناسکتا۔ اس لیے عبوری دور میں کم ازکم ایسی قابل قبول شخصیات بالخصوص دو تین خواتین کو شامل کیا جاسکتا تھا، جن کا تعلق کم ازکم افغان طالبان سے نہ ہوتا، تو یہ اُن کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے