37 total views, 1 views today

یہ تحریر پڑھ کر کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم کسی خاص جماعت یا دھڑے سے کوئی خاص ہمدردی اور کسی اور سے خاص نفرت رکھتے ہیں، بلکہ ہم بحیثیت ایک عام ذمہ دار پاکستانی کے ہر شخص کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی قوتوں اور جماعتوں کی مضبوطی چاہتے ہیں۔ کیوں کہ کسی بھی ملک میں موجود قومی سیاسی جماعتوں کی مضبوطی ملک کی سالمیت و یک جہتی کی علامت ہوتی ہے۔
ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ سنہ 71ء میں جہاں اور بہت عوامل تھے ملک کی تقسیم کے، وہاں ایک بڑی وجہ تب ملک میں قومی سطح پر کوئی مضبوط سیاسی جماعت کا نہ ہونا تھا۔ مَیں سوچتا ہوں کہ اگر تب مشرقی پاکستان سے پی پی کو دس سیٹیں یا عوامی لیگ کو مغربی پاکستان سے دس سیٹیں مل جاتیں، تو ملک کم از کم اس طرح دو لخت نہ ہوتا۔ بہرحال ماضی کو اب لوٹایا تو نہیں جا سکتا، لیکن حال کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی ہم نے ’’روزنامہ آزادی‘‘ کے انہی صفحات پر اس سے پہلے تحریکِ انصاف کو مشورہ دینے اور نصیحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے سابقہ کچھ فوجی افسران نے جو ’’فرسٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘‘ (ایف ڈی ایف) کے نام سے سیاسی جماعت بنائی ہے، اس پر مکمل کالم لکھا ہے۔ گو کہ آج ہمارا موضوع بے شک پی پی کے حوالے سے ہے، لیکن ہماری خواہش ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں تحریکِ انصاف پاکستان، مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی مضبوط ہوں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کبھی ملک کی سب سے بڑی عوامی قوت ہوا کرتی تھی۔ 9، 9 ستارے مل کربھی اس کو شکست نہیں دے سکتے تھے، لیکن اب وہ دور نہیں، بلکہ 2013ء کے الیکشن کے بعد عمومی سیاسی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے تھے کہ اب پی پی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کا دربارہ اجرا ہونا ناممکن ہے۔ لیکن جب سے محترمہ بینظیر بھٹو کا نوجوان بیٹا عملی طور پر باہر آیا، تو حیرت انگیز طور پر پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر نوٹ ہونا شروع ہوگئی۔ 2018ء میں بلاول نے کافی حد تک اس کا تاثر بہتر کر دیا۔ پھر گذشتہ گلگت اور کشمیر کے انتخابات میں پی پی کو پارلیمانی طور پر دوسری بڑی جماعت بنوا دیا۔فی الحال آپ بے شک کسی حد تک بہتری کی جانب ہیں لیکن یہ کافی نہیں۔ آپ کو مزید محنت کی شدید ضرورت ہے۔
بھٹو کی جماعت جب محترمہ کے پاس آئی تھی، تو ایک بہت بڑی عوامی طاقت ہونے کے باجود بھی محترمہ نے بہت سخت محنت کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ محترمہ کا جو جلوس اٹک سے سرگودہا ٹرک پر گیا تھا، اس میں محترمہ نے اٹک، راولپنڈی، چکوال، خوشاب اور سرگودہا کے بڑے جلسوں کے علاوہ مختلف جگہ 25 کے قریب تقریریں کی تھیں اور وہ بھی ٹرک پر کھڑے ہو کر۔ سو اَب تو اس سے بھی زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔
مزید پی پی کی قیادت کو یہ بات بھی سمجھنا ہوگی کہ پی پی کی تنزلی کی بڑی وجہ اپنے احساس سے دوری بھی ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پی پی کی مقبولیت کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ایک سیاسی طور پراس کا منشور جو غریب دوست تھا اور محروم و محکوم طبقوں کی امید تھا۔ دوسری وجہ انتظامی طور پر کارکنان کی اہمیت و عزت تھی۔ اب یہ بات پی پی کے ذمہ داران کو اچھی لگے یا بری، لیکن حقیقت یہی ہے کہ 2013ء کے بعد اگر پی پی کے بڑے جیسے شاہ محمود، فردوس عاشق اعوان، ندیم افضل چن، امتیاز وڑائچ، پرویز خٹک، نذر گوندل، بیرسٹر سلطان محمود، فواد چوہدری، لشکری رئیسانی، عظمیٰ بخاری وغیرہ ہجرت کرگئے، تو وہی پنجاب اور خیبر پختون خوا سے عام جیالوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی تحریکِ انصاف کا حصہ بن گئی۔ وگرنہ اس سے پہلے جیالے اگر بہت غصہ یا ناراضی کا اظہار بھی کرتے، تو زیادہ سے زیادہ گھر بیٹھ جاتے تھے۔ جیسا انہوں نے سنہ 97ء کے انتخابات میں کیا۔
یہ بات یاد رہے کہ کرپشن، مس گورننس کبھی جیالوں کا مسئلہ نہیں رہے۔ بھٹو صاحب پر کون سا الزام نہیں لگا۔ محترمہ پر تو ’’کرپشن کی رانی‘‘ اور ’’سیکورٹی رسک‘‘ تک کے الزامات لگے، مگر جیالوں نے ان الزامات کو قطعی کوئی اہمیت نہ دی۔ پھرجب جیالوں کو واضح طور پر ’’اگنور‘‘ کرنے، بے عزت کرنے کی روش پروان چڑھی، تو تب جیالوں نے ’’ریٹالیئشن‘‘ کی اور پہلی مرتبہ کھل کر بھٹو کی جماعت کے مقابل آکھڑے ہوئے۔ سو بلاول صاحب کو ان دو باتوں پر غور کرنا ہوگا۔
مَیں پوری ذمہ داری سے یہ بات کہتا ہوں کہ تحریکِ انصاف میں خاص کر پنجاب سے جیالوں کا جو جمِ غفیر تحریکِ انصاف میں شامل ہوا، اس کی محض وجہ یہی تھی کہ پی پی کی جو حکومت سنہ 2008ء میں بنی، اس میں وہ بالکل سائیڈ لائن ہوگئے تھے، بلکہ کر دئیے گئے تھے۔ کیا یہ بات قیادت کے لیے قابلِ غور نہیں ہونی چاہیے کہ آپ کا بنیادی احساس اور منشور پر پہرہ آپ کا کارکن دیتا ہے، اس کی ترویج میں مرکزی کردار آپ کا کارکن ادا کرتا ہے، لیکن جب آپ اس کارکن کو ہی اہمیت نہ دیں گے، تو آپ اپنی سیاسی احساس کو کیسے بحال رکھ سکتے ہیں؟ اور جب آپ کا سیاسی احساس ہی مضبوط نہ رہا، تو جماعت کس طرح قائم رہ سکتی ہے؟ یہ بات اتنی اہم ہے کہ بھٹو صاحب نے جیل جا کر یہ بات تسلیم کی کہ ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی یہی تھی کہ انہوں نے سامراجیت پسند حاکم طبقے اور محروم طبقے میں ایک سماجی معاہدہ کروانے کی کوشش کی، بالکل مغربی ممالک کی طرز پر۔ لیکن تجربہ سے ثابت ہوا کہ پاکستان کے مخصوص ثقافتی اور عمرانی حالات میں یہ عملی طور پر ممکن ہی نہیں۔ کیوں کہ اونچے طبقے کی ذہنی کیفیت پاکستان میں اس کو تسلیم کرنے کے لیے ایک بھی فی صد تیار نہیں، نہ اپنے ماحول کے تحت وہ اس پر تیار ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے کہا تھا کہ اب اگر خدا نے ان کو موقع دیا ہے، تو وہ بجائے ان دو طبقوں کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ کروائیں۔ وہ صرف پسے ہوئے اور کچلے ہوئے طبقہ کے ساتھ بطورِ ایک فریق کھڑے ہوں گے۔
بھٹو صاحب نے تو پھر بھی برابری کی سطح پر دونوں فریقین کے درمیان پل بننے کی کوشش کی۔ آپ نے تو 2008ء کی حکومت میں مکمل طور پر اس سامراجی طبقہ کے ہاتھ ڈور دے دی، جس نے جی بھر کر مخلص اور غریب جیالوں کو بے توقیر کیا، اور جب وقت آیا، تو خود ہجرت کرکے دوسری جماعتوں میں گھس گئے اور ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت کو بیچ منجدھار، بے یارو مدگار چھوڑ گئے۔
قارئین، میری اطلاع کے مطابق اب پیپلز پارٹی خصوصاً جب سے بلاول بھٹو کے ہاتھ اختیارات آئے ہیں، نے بہت حد تک اس غلطی کو نہ صرف سمجھا ہے بلکہ اس کو کسی تک درست کرنے کی سعی بھی کی ہے۔ گذشتہ کشمیر اورگلگت بلستان کے انتخابات میں بہت حد تک میرٹ پر ٹکٹوں کی تقسیم اور اب شمالی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اصل نظریاتی اور مخلص جیالوں کا بطورِ صدر تعین پیپلز پارٹی واسطے شاید بادِ صبا کا ایک خوشگوار جھونکا ہو، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس روش پر مکمل صبر اور دیانت سے قائم رہا جائے، تو یقینا پیپلز پارٹی بہت جلد اپنے عروج کی طرف گام زن ہوجائے گی۔
ہم پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ مشورہ مفت دیتے ہیں کہ وہ نظریاتی طور پر بائیں بازوں یعنی آزاد خیال لبرل سوچ جو مظلوم و محروم طبقے کے مفاد کی بات کرے، سے ایک انچ نہ پیچھے ہٹے اور سیاسی طور پر وہ اپنے مخلص کارکنان کو ہر صورت اہمیت دے۔ یعنی اگر پیپلز پارٹی کی قیادت مجھ سے مشورہ کرے، تو ہم اس کو یہ مشورہ دیں گے کہ ایک دور دراز کسی گاؤں میں بالکل غریب جیالے کو مطمئن کرنے کے لیے اگر آپ کو درجنوں فواد چوہدری، شاہ محمود وغیرہ کو چھوڑنا پڑے، تو چھوڑ دیں۔ یہ بحیثیتِ ایک ناقص سیاسی تجزیہ نگار میری رائے ہے کہ پھر بھی پی پی نقصان میں بالکل نہیں رہے گی۔ البتہ کسی آفتاب شیرپاؤ یا نذر گوندل کی خاطر اگر آپ نے کسی ایک جیالے کوبھی ناراض کیا، تو یہ آپ کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا ہوگا۔ ہم تو بہرحال ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی بحالی اور مضبوطی کے نہ صرف متمنی ہیں بلکہ اس کی مضبوطی کو قومی وحدت کا ضامن سمجھتے ہیں۔
قارئین، اب اس وقت بال تو بے شک پی پی کی قیادت، خاص کر بلاول بھٹو زرداری کے کورٹ میں ہے۔ وہ چاہیں، تو نانا کی میراث اور والدہ کی سیاست کو لے کر چلیں یا پھر وقتی تھوڑی بہت حکومت (وہ بھی بے اختیار و بے اعتبار) کے لیے دوسروں کی طرح روایتی انداز اختیار کریں اور بھٹو کی جماعت کو ختم کروا دیں۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے