73 total views, 1 views today

پشتون بہترین دوست اور بدترین دشمن کے طور پر مشہور ہیں۔ سکندراعظم، برطانیہ، روس اور اب امریکہ یہاں آکر زخموں سے چور ہو کر نکلے۔
تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین سلطنتوں کا قبرستان ثابت ہوئی ہے۔ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کے لیے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دو بڑی غلطیوں کا ارتکاب کیا جن کی وجہ سے 90 دن کی مزاحمت کی امید خاک میں مل گئی اور طالبان نے چند دن میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔
پہلی غلطی ایمرجنسی منصوبے کا فقدان تھا اور دوسری غلطی امریکہ نواز افغانیوں اور اتحادی عملے کو وقت سے پہلے افغانستان سے نکالنا تھا۔ دوسری غلطی میں کورونا اور بیوروکریسی نے کلیدی کردارادا کیا۔ امریکہ جتنی عجلت میں آیا تھا، اب اس سے زیادہ عجلت اور بدحواسی میں فرار ہوچکا۔ امریکہ کی روانگی کے بعد پاکستان اور بھارت مختلف انداز میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔
پاک افغان تعلقات دیرینہ ہیں اورہم کئی لحاظ سے ایک دوسرے سے ایسے رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں جسے ختم کرنا ناممکن ہے۔ پاک افغان مذہبی، ثقافتی، معاشی، جغرافیائی، سیاسی، سماجی اور دفاعی بندھن اتنے مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کے مقابلے میں بھارت، افغانستا ن میں ایک نومولود کی حیثیت رکھتا ہے، جو اپنے آقا امریکہ کے جاتے ہی رفو چکر ہو چکا ہے۔ بظاہر پاکستان، افغانستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر تسلیم کروانے میں بھر پور مدد کرے گا، کیوں کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی امریکی پالیسی غیر واضح ہے۔ تعجب اس بات پہ ہے کہ اگر امریکہ طالبان سے مذاکرات کر کے خلاصی طلب کرسکتا ہے اور جنگ میں ہار کر بھاگ چکا ہے، تو اب طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے؟
اس ساری صورتِ حال میں بھارتی امیدوں پر پانی پھر چکا ہے۔ اب وہ من گھڑت پروپگنڈا کے ذریعے اپنے رنج و الم کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب بھارت کے لیے ایک ہی چارہ ہے کہ وہ آرام سے بیٹھے اور طالبان کے رویے کے مطابق چلنے کو تیار رہے۔ یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کہ مستقبل میں امریکہ کے کہنے اور پاکستان میں دوبارہ سے دہشت گردی پھیلانے کے لیے طالبان حکومت کو تسلیم کر لے۔ یہ عمل صرف تین صورتوں میں ہی ممکن دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ کا حکم بجا لانے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری کو بچانے کے لیے۔
چینی، روسی اور پاکستانی نقوش افغانستان میں اتنے گہرے ہیں کہ بھارت کی دال گلتی دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان میں چینی باشندوں کو دہشت گردی کا ہدف بنا رہا ہے۔ بھارت پہلے بھی افغانستان میں پاکستان مخالف مہم جوئی کے لیے آیا تھا اور اس نے پاکستان مخالف افغانیوں اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کو ملا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش کی۔ اب بھارت کے لیے صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔ کیوں کہ طالبان نے پاکستان کی حمایت کے لیے ان مخالف گروہوں کا سر کچل دینا ہے۔ روس اور چین بھی افغانستان کے استحکام اور سلامتی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دے سکتے ہیں۔ کیوں کہ دونوں افغانستان سے امریکہ کے چلے جانے کے خواہاں تھے۔ یقینا امریکہ جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی میں روس اور چین کو کھلی چھوٹ نہیں دے گا، بلکہ پالیسی میں رد و بدل کرکے ان پر کڑی نظر رکھے گا۔
ایران جسے بھارت نواز سمجھا جاتا ہے، امریکہ کے جانے پر خوش ہے۔ کیوں کہ امریکہ سے سب سے زیادہ خطرہ ایران کو تھا۔ افغانستان سے انخلا کے بعد یقینا امریکہ ایران سے متعلق اپنی پالیسی میں بھی تبدیلی لائے گا۔
دوسری طرف خطے میں بیرونی عناصر کی مداخلت اور سرائیت روکنے کے لیے چین، روس، ایران اور پاکستان کا متحدہ بلاک بنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ اگرچہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی خطے کے بیشتر ممالک کے لیے ایک لحاظ سے مفید تھی۔ کیوں کہ امریکہ کی موجودگی نے خطے میں سیکورٹی کے فرائض سنبھال رکھے تھے، تاہم سب کے مفادات داؤ پر لگے تھے۔ اس لیے سبھی امریکہ کی واپسی کے خواہاں تھے۔ امریکی کی جنوبی ایشیا کے لیے پالیسی ہمیشہ سے بھارت نواز رہی ہے اور اس لحاظ سے بھارت کے علاوہ نہ تو امریکہ کے پاس کوئی اور آپشن ہے اور نہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی امید ہی کی جاسکتی ہے۔ جنوبی ایشیا کے لیے امریکی پالیسی کا محور اور مرکز امریکی مفادات کا دفاع ہوگا اور اس ضمن میں وہ ہر ممکنہ تبدیلی لانے کی کوشش کرے گا۔دراصل امریکہ، افغانستان سے نکل کر بھارت کو خطے میں مزید سپیس دینا چاہتا تھا، جو امریکہ کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا۔
دوسری وجہ امریکہ، چین کو روکنے کے لیے بھارت کو اس کے مدِمقابل لانے کی سعی کر رہا ہے اور بھارت بھی نہ چاہتے ہوئے امریکہ کا اتحادی بنا۔ کیوں کہ اس کے پاس بھی خطے میں کوئی اور آپشن موجود نہ تھا۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ نوازی سے اس کے ایشیائی اجارہ داری کا خواب پورا ہو جائے گا، تو یہ خام خیالی ہے۔ اب امریکہ اپنی جنوبی ایشیا کے لیے پالیسی میں ایسی تبدیلی لائے گا جس کے ذریعے وہ بھار ت اور چین کی کشمکش کی وجہ سے نالاں چھوٹے ممالک کو دانا ڈالے گا اوریہ دانا قرض کے جال، جمہوریت کی پائیدار ی اور قومی ترقی کے نام پر ڈالا جائے گا۔
جنوبی ایشیا کی پالیسی میں ’’مائنس پاکستان‘‘ کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ افغانستان میں امن کے لیے امریکہ کو پاکستان کی اشد ضرورت ہے اور اس ضمن میں بھارت امریکہ کے کسی کام کا نہیں۔ طالبان کا خلافِ توقع چند دنوں میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال لینا سب کے لیے حیران کن ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سابقہ افغان حکومت، افغان عوام اور مغربی طاقتوں کے بیچ کچے دھاگے سے بنا گیا ناپائیدار تعلق تھا، جو ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ علاقائی اور عالمی ماہرین مستقبلِ قریب میں چین، روس، پاکستان اور ایران کے کھیل کو کامیاب ہوتا دیکھ رہے ہیں۔
بھارت کو یہ خوف بھی کھائے جا رہا ہے کہ کہیں طالبان، افغانستان میں استحکام کے بعد بھارتی مقبوضہ کشمیر کا رُخ نہ کرلیں اور افغانیوں بارے کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی، جب وہ لڑنے لگ جائیں، تو کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اب بھارت خطے میں تنہا اور امریکہ کے رحم و کرم پر ہے اور امریکہ اسی وقت کے انتظار میں تھا، تاکہ بھارت کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرے۔
امریکی کی جنوبی ایشیا پالیسی بھارت نواز ہونے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر حل ہو تا دکھائی نہیں دیتا۔ جنوبی ایشیا میں موجودگی اور کنٹرول امریکہ کی مجبوری ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر وہ اپنے آپ کو دنیا کی ’’سپر پاؤر‘‘ برقرارنہیں رکھ سکتا۔
بھارت کو بھی یہ بات جان لینی چاہیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے آج تک کسی کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا۔ طالبان حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو ایسے ڈوپلومیٹک اندازمیں بنائیں اور چلائیں کہ تصادم کے بجائے امریکہ میں افغان حکومت کا پیسا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ یہ ان کے معاشی استحکام کو مضبوط کرے گا۔ افغانستان کو کھنڈربنانے والے امریکہ اور اس کے حواریوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف معافی مانگیں بلکہ اپنی منتخب کردہ حکومت کی ناکامی کو تسلیم کر تے ہوئے طالبان حکومت کو تسلیم کریں اور افغانستان کی تعمیرو ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ امریکہ کے لیے اپنی جنوبی ایشیا پالیسی کو بھارت نواز بنانے کے بجائے افغان نواز بنانی چاہیے۔کیوں کہ افغانستان، بھارت کی نسبت امریکہ کے لیے کئی گنا زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک پُرامن اورمستحکم افغانستان خطے، عالمی سطح، علاقائی اور بیرونی مداخلت کاروں سب کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے