35 total views, 2 views today

اشیائے خور و نوش، ادویہ اور بنیادی ضرورت کی دیگر چیزوں کی قیمتوں کا عام آدمی کی دسترس میں رکھا جانا اچھی حکمرانی کا اساسی تقاضا تصور کیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں کھانے پینے کی اشیا کے نرخوں میں سالہا سال کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، جب کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں اشیائے خور و نوش جن میں آٹا، چینی، گھی، تیل، دالیں اور پھل سبزیاں وغیرہ شامل ہیں، کے نرخوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ وزیر اعظم اور وزیرِ اعلا پنجاب کی جانب سے آئے روز افسران کو مہنگائی کنٹرول کرنے کا حکم صادر کیا جاتا ہے، مگر مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام، بالخصوص اپوزیشن حلقوں کی جانب سے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور گڈ گورننس کے فقدان پر برسرِاقتدار طبقے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اب تین سال بعد خود وزیراعظم عمران خان بھی اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ ’’ہمارا نظامِ انصاف طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا۔ ایلیٹ کلاس نے ملک کو ہر طرح سے اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے۔ایک نظام بن گیا ہے جس میں عام آدمی کے لیے کوئی سوچ ہی نہیں کہ وہ کیسے زندگی گزارے۔ جس معاشرے میں امیر کم اور غریب زیادہ ہوں، وہ کبھی اوپر نہیں جاتا۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ہمارا نظامِ انصاف طاقتور لوگوں کے آگے ناکام ہو چکا ہے۔ وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا جو عام آدمی کو اوپر لانے کی کوشش نہیں کرتا۔ کمزور کو اوپر اٹھانے کے لیے ریاست نے ذمہ داری لینی ہے۔ ہمارے سرکاری ہسپتال انگریزوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ امیر نجی ہسپتالوں اور بیرونِ ملک اپنا علاج کراتے ہیں۔ تعلیمی نظام انگلش میڈیم، نوکری کے لیے انگلش میڈیم جب کہ کوئی نہیں سوچتا کہ اُردو میڈیم کو کیسی تعلیم مل رہی ہے، مدارس جہاں 25 لاکھ بچے پڑھ رہے ہیں، ان کا کبھی کسی نے نہیں سوچا۔‘‘
ہمارے وزیر اعظم صاحب کو جانے کب یقین آئے گا کہ وہ اب حزبِ اختلاف کے رہنما نہیں بلکہ پورے پاکستان کے با اختیار منتظمِ اعلا ہیں۔ آپ جب تک اقتدار سے باہر تھے، تو اس طرح کی تقریریں اچھی لگتی تھیں۔ ان کا جواز بھی موجود تھا، مگر اب تو آپ ملک کی با اختیار ترین شخصیت ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ آپ کو پانچ برس کے لیے اقتدار سونپا گیا ہے۔ اگرچہ اس آئینی مدت کی تکمیل کے آثار سیاسی مبصرین کی رائے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں، تاہم اگر آپ اسے مکمل بھی کر لیں، تو بھی آپ اس میں سے نصف سے زائد وقت گزار چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس عرصۂ اقتدار میں آپ نے نظام کی تبدیلی کے لیے کوئی ایک بھی ٹھوس قدم اٹھایا ہو، تو قوم کو آگاہ کیجیے۔ملک کے نظامِ انصاف کی جن خامیوں کی آپ نشان دہی کررہے ہیں، بلاشبہ اس سے بھی زیادہ خرابیاں اس میں موجود ہیں۔ عام آدمی کو واقعی انصاف دستیاب نہیں۔ انہی خرابیوں کو درست کرنے کی خاطر آپ نے اپنی سیاسی جماعت کا نام ’’تحریکِ انصاف ‘‘ رکھا تھا، مگر آپ کے دورِ اقتدار میں نظامِ انصاف میں بہتری کی بجائے ابتری ہی دیکھنے میں آئی ہے۔
جناب وزیرِ اعظم! آپ نے ’’دو نہیں ایک پاکستان ‘‘ کی نوید قوم کو سنائی تھی، مگر آج ایک پاکستان یا سب کے لیے یکساں نظام تو دور کی بات، پہلے سے جاری طبقاتی نظام کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہو چکی ہیں۔ سرکاری دفاتر کا نظام بھی گذشتہ تین برس میں تنزلی سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ سرکاری افسروں اور اہلکاروں میں کام چوری اور رشوت خوری کے رجحان اور تناسب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم دعوؤں کے باوجود اس میں اصلاحات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔
جناب وزیرِ اعظم! یہ دعوا تو آپ نے کیا تھا کہ ملک و قوم کو مافیا اور اشرافیہ سے نجات دلائیں گے۔ چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں سے قوم کا لوٹا ہوا مال قوم کو واپس دلائیں گے۔ آخر وہ وقت کب آئے گا جب آپ اپنا یہ وعدہ پورا کر کے قوم کے سامنے سرخرو ہوں گے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت ایک تو اپوزیشن ناکارہ ہے، تو دوسری طرف حکمران جماعت کے عوامی نمائندے بھی بے کار ہیں۔ ہر طرف مفاد پرست مافیا موجود ہے۔ بیورو کریسی مکمل طور پر حکومت کے قابو میں نہیں۔ عمران خان اور ان کی کابینہ کے دعوؤں اور عملی اقدامات کی بدولت انہوں نے قوم کا اعتماد کسی حد تک کھودیا ہے۔
خود وزیراعظم عمران خان اپنی غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مَیں نے انتخابی ٹکٹ غلط لوگوں کو دیے اور وزارتیں بھی غلط لوگوں کے حوالے کردیں۔
اگر دیکھا جائے تو اس وقت وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کی ایک فوج خان صاحب نے اپنے گرد جمع کر رکھی ہے۔ موجودہ حکومت کے وزرا، مشیر اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کا عالم یہ ہے کہ وہ عام لوگوں سے رابطے ہی میں نہیں۔ حتیٰ کہ وہ فون تک بھی کسی کا سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ عوام کی ان تک رسائی ہی ممکن نہیں۔ وزرا اور مشیر اور پارلیمنٹ میں قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین اور ارکان سارا دن پریس کانفرنس اور پھر شام کو ٹی وی ٹاک شوز میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ ہے ان کی کارکردگی! ان حالات میں کس تبدیلی کی توقع رکھی جائے؟
موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے جو ماحول پیدا کیا ہے، اس سے روزگار کے مزید مواقع کیا پیدا ہوتے، جو لوگ روزگار سے لگے ہوئے تھے، وہ بھی اب بے روزگاروں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔ جب کہ وہ حکومت تو ایسی پالیسیوں کو علانیہ عملی جامہ پہنانے کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی جو سابق ادوارِ حکومت میں غربت، مہنگائی، روٹی اور روزگار کے گھمبیر ہوتے مسائل سے عوام کی گلو خلاصی کرانے اور ریاستِ مدینہ جیسی اسلامی فلاحی مملکت تشکیل دینے کے دعوؤں، وعدوں، منشور اور ایجنڈا کے تحت عوام کی ہمدردیاں حاصل کر کے اقتدار میں آئی ہو۔
وزیر اعظم عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا۔ اگر وہ اپنے دعوؤں اور وعدوں کے مطابق ملک سے کرپشن ، اقربا پروری ، لاقانونیت اور مہنگائی کا خاتمہ نہ کرسکے تو قوم ان کو کبھی معاف نہ کرے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے