49 total views, 1 views today

گذشتہ چند ہفتوں سے جو پیش رفت افغانستان میں ہوئی کہ جس طرح غیر متوقع طور پر اشرف غنی راتوں رات دوبئی فرار ہوگئے اور طالبان جو کہ پنج شیر کے علاوہ پورا افغان فتح کرکے کابل کے مضافات پہنچ چکے تھے، ان کو مکمل واک اُوور مل گیا۔ طالبان بغیر کوئی ایک ہوائی فائر کیے کابل میں نہ صرف داخل ہوگئے بلکہ قابض بھی ہوگئے۔ امریکہ نہایت ہی چالاکی سے اپنے لیے محفوظ خروج یعنی ’’سیو ایگزٹ‘‘ لے کر وقت سے چند لمحے پہلے ہی فارغ ہوگیا۔
اب کوئی اس کو ’’ڈی فیکٹو‘‘ حکومت مانے یا ’’ڈی جوریے‘‘، کوئی ’’آمریت‘‘ بولے یا ’’جبر کی حکومت‘‘، ’’شرعی حکومت‘‘ بولے، ’’شہزادوں کی آمد‘‘ بولے، ’’طالبان کی کامیابی‘‘ بولے یا ’’دہشت گردوں اور جاہلوں‘‘ کی، حقیقت یہی ہے کہ طالبان پنج شیر کے علاوہ (اور ممکنہ طور پرپنج شیر پر بھی جلد ہی طالبان کا راج ہوگا) پورے افغانستان پر قابض ہیں۔ وہ شاید ایک عرصہ تک افغان پر قابض رہیں، لیکن ہمارا موضوعِ بحث یہ نہیں۔ آج ہم اس پیش رفت کے نتیجہ میں ہونے والی بحثوں، اندیشوں، خوشیوں اور امیدوں پر جو کہ ہمارے ملک میں خیبر سے کراچی تک ہیں، بات کرنا چاہیں گے۔
اس وقت ہمارے ملک میں اس صورتِ حال پر دو بہت واضح نقطہ نظر اُجاگر ہو رے ہیں، خاص کر سوشل میڈیا پر۔ ایک وہ گروہ جو بہت زیادہ مذہبی سوچ کا حامل ہے اور ان میں سے بھی وہ جو خلافت کے داعی و منتظر ہیں، اُن میں خوشی کی لہر ہے۔ وہ طالبان کے کابل پر قبضہ کو ’’اسلام کی فتح‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اب نہ صرف کابل میں خلفائے راشدین والی ’’ریاستِ مدینہ‘‘ بن گئی ہے، بلکہ طالبان کی یہ عظیم الشان فتح دوسرے اسلامی ممالک میں بھی خلافت کا اجرا اسلامی قوانین کا پیش خیمہ ہوگی۔ بقول ان کے امریکہ کو چوں کہ وہاں خوب مار پڑی ہے، اس وجہ سے کفار کے حوصلے پست ہوئے اور دنیا بھر کے مجاہدین نئے جوش سے دنیا کو فتح کریں گے۔
اس طرح ایک دوسرا طبقہ جو نسبتاً لبرل یا سیکولر سوچ رکھتا ہے، وہ اس بات سے خوف زدہ ہے کہ اب یہ ’’طالبان فکر‘‘ ایکسپورٹ ہوگی اور اول ہدف ہم بطورِ پڑوسی ہوں گے۔ کیوں کہ یہاں طالبان کے فکری حمایتی بے شمارہیں۔
دوسری بات، ان کی پریشانی یہ بھی ہے کہ افغان میں اب انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حوالے سے انسانی حقوق کی شدید پامالی کا خطرہ ہے۔ پاکستان میں جو لوگ ایسی سوچ کے حامل ہیں، ان کے لیے کابل سے نہ صرف مدد بھیجی جائے گی، بلکہ ان کو خاص تحریک بھی ملے گی کہ وہ یہاں بھی یہی کریں گے۔ اور اگر ان کے مقاصد یا اہداف باآسانی نہ ملے، تو پھر ہمارے ہاں 2005ء سے 2015ء والے حالات بنا دیے جائیں گے، کہ جہاں دہشت گردی کا راج ہوگا اور خوف کا رقص۔
قارئین، اب ظاہر ہے ان دونوں فکری سکولوں کے پاس اپنا اپنا جواز، توجیح بلکہ تجربہ بھی ہے لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں فکری گروہ شاید حالات کا تدارک نہیں کر پا رہے، یا خود کو 1996ء سے لے کر 2005ء تک کی صورتِ حال سے باہر نہیں نکال پا رہے۔ وہ اس صورتِ حال کو بالکل اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ جیسے حالات ’’نائن الیون‘‘ کے بعد بنے اور امریکہ اور طالبان ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ پھر طالبان نے ایک حکمتِ عملی سے پسپائی اختیار کرلی۔ حالاں کہ اب حالات ویسے بالکل نہیں، بلکہ امریکہ بشمول نیٹو کے دوسرے ممالک نہ تو افغانستان سے شکست کھا کر بھاگ رہے ہیں اور نہ طالبان امریکہ کو مار کر کابل پر قابض ہیں، بلکہ یہ سب کچھ ایک معاہدہ کے تحت ہو رہا ہے کہ جس پر سالوں مذکرات ہوئے۔ جس میں نہ صرف امریکہ، افغان حکومت یا طالبان ہی شامل نہ تھے بلکہ اس میں پاکستان، روس اور ایران بھی براہِ راست شامل رہے۔ پھر اس میں عرب دنیا، روسی ریاستیں، یورپی یونین حتی کہ بھارت اور چین بھی شامل رہے۔ یہ معاہدہ ہر پہلو دیکھ کر مکمل ہوا۔
امریکہ کی شکست پر خوش ذرا امریکہ کا یہ بیان تو دیکھیں، جس میں جو باہیڈن نے کہا کہ ’’ہمیں اتنی جلدی افغان فوج کی ہار ماننے کی امید نہ تھی۔‘‘ گویا ان کو یہ احساس بھی تھا ادراک بھی تھا اور یقین بھی کہ بالآخر کابل پر طالبان نے قبضہ تو کرنا ہے۔ گویا یہ سب کچھ سکرپٹیڈ اور طے شدہ تھا۔
اب آئیں طالبان کی طرف……!
ظاہر ہے کہ یہ ملا عمر کی نسل نہیں جو ٹیلی وِژن کو پھانسی دیتی ہے۔ خواتین کا تعلیم کے لیے بھی باہر نکلنا جرم سمجھتی ہے، بلکہ یہ سوشل میڈیا میں پلی بڑھی نسل ہے۔ آج ذبیح ﷲ اور سہیل شاہین بھی روز ٹویٹ کر کے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں، یعنی یہ لوگ قدرتی طور پر اپنی گذشتہ نسل کے مقابلے میں فکری طور پر بہت ماڈرن ہیں۔ پھر ان کا جو معاہدہ ہوا کہ جس کی بنیاد پر ان کے ترجمان روز آگاہ کرتے ہیں کہ ہم سب کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے۔ ہم شدت پسندی کے مخالف ہیں۔ ہم انتہا پسندی کے مخالف ہیں۔ اس کو وہ کسی حد تک دِکھا بھی رہے ہیں۔ مثلاً موصولہ اطلاع کے مطابق انہوں نے شمال میں ایک شیعہ گورنر کا تقرر کیا بلکہ کچھ طالبانی راہنماؤں نے مجالسِ کربلا میں خود شرکت کی۔ اسی طرح انہوں نے کابل میں موجود ہندو اور سکھ برادری کو یہ یقین دلایا کہ ان سے کوئی تعصب نہ کیا جائے گا، بلکہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دنیا بھر کے سفارت کاروں سے بھی رُکنے کی اپیل کی اور ان کو تحفظ کی گارنٹی دی۔ انہوں نے باقاعدہ چین کو یقین دلایا کہ وہ اس کے اندر کوئی دخل اندازی نہ کرے گا۔اس طرح بھارت کو بھی پیغام دیا کہ وہ افغان میں اپنے منصوبے مکمل کرسکتا ہے بلکہ طالبان سے بہترین سفارتی تعلقات رکھ سکتا ہے۔ سو ان حالات میں خلافت نافذ کرنے والے بھی خاطر جمع رکھیں۔ کیوں کہ اب طالبان قیادت نہ صرف مقابلتاً جدید دور سے ذہنی طور پر ہم آہنگ ہے بلکہ اس کو اپنے ماضی کے رویہ کا بھی مکمل ادراک ہے۔ وہ یہ بات جانتے ہیں کہ ماضی میں ان سے ڈھیر ساری حماقتیں ہوئیں کہ جس کا نتیجہ بھی ان کو بھگتنا پڑا۔ وہ دنیا میں تنہا ہوئے اور جس کی ایک بہت بڑی قیمت ان کو ادا کرنا پڑی۔ سو وہ اب دنیا کے ساتھ اپنی دینی و ثقافتی روایات کو لے کرچلنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف اب ہمارے کچھ لبرل کہلانے والے عناصر کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اگر طالبان کچھ بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ آتے ہیں، تو افغانستان کا سیاسی ڈھانچا کس طرح ہو؟ یہ افغان عوام کا مسئلہ ہے۔ اس لیے ان کو اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آخر دنیا عرب کے بادشاہوں، برما اور تھائی لینڈ کے آمروں، چین کے سوشلسٹ نظام کے ساتھ بھی تو معاملات چلا رہی ہے، تو پھر طالبان پر ’’ویسٹ مینسٹر‘‘ یا ’’وائٹ ہاوس‘‘ والی جمہوریت کا تقاضا کیوں؟
ویسے بھی طالبان نے جس طرح پورے افغان (ماسوائے پنج شیر کے) پر اجارہ داری قائم کی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کو پورے افغان میں بہت واضح عوامی حمایت حاصل ہے۔ حتی کہ اشرف غنی کی فوج نے بھی ایک قطرہ برابر مزاحمت نہ کی، بلکہ جہاں طالبان گئے، وہاں وہ جیسے تیار کھڑے تھے ان کے حق میں بیٹھ جانے کو۔
اب تک طالبان قیادت کے اعلانات بہت واضح ہیں۔ خاص کر جس طرح انہوں نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ حامد کرزئی اور عبدﷲ عبدﷲ کو بطور ایک مذاکراتی فریق تک انہوں نے تسلیم کرلیا ہے۔ سو اب ان کے خلاف نفرت پھیلانا غلط ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم دنیا سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اب طالبان کو اپنی قوم مذہب یا تہذیب کے خلاف بطورِ دشمن نہ دیکھے، بلکہ وہ صبر و تحمل سے انتظار کرے کہ جو اعلانات اور بین الاقوامی برادری کو طالبان یقین دہانیاں کروا رہے ہیں، کیا وہ واقعی اس پر سنجیدہ ہیں؟ جب تک طالبان عملی طور پر ان یقین دہانیوں کے خلاف نہیں جاتے، تب تک دنیا نہ صرف ان کو ’’انگیج‘‘ رکھے بلکہ ان سے مکمل سیاسی و معاشی تعاون کرے۔ آپ کا یہ تعاون طالبان کو دنیا سے مثبت تعلق پر مجبور کر سکتا ہے۔ اگر دنیا بالخصوص یورپ اور امریکہ نے ایک خاص فکری تعصب میں آکر اسی طرح طالبان کو گرانے کی کوشش کی اور ان کو دیوار سے لگا یا، تو یاد رکھیں کہ پختون کی انا بہت خوف ناک ہوتی ہے۔ پھر اس کے نتیجے میں جو خرابی (بلکہ میں تباہی کہوں، تو غلط نہ ہوگا) ہوگی، اس کی کلی ذمہ داری بھی انہیں پر ہوگی۔ لیکن مجھے امید ہے۔ دنیا خاص کر پاکستان، ایران، چین اور روس جو کہ براہِ راست فریق ہیں، اس پر اب امریکہ کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے داخلی مفادات میں طالبان سے نارمل تعلقات کا اجرا کریں گے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے