54 total views, 1 views today

آزادی کسی قوم پر نازل نہیں ہوتی بلکہ اسے حاصل کرنے کے لیے قوم اپنے آپ کو بلند کرتی ہے۔ حقیقی آزادی محض نام تک محدود نہیں۔ ہم آزادی کی اصل روح سے کوسوں دور ہیں۔ تاہم جن کاموں میں ہمیں آزاد نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم ان میں مکمل آزاد ہیں۔
آزادکشمیر کے ساتھ ’’آزاد‘‘ کا سابقہ لگا کر سارے اختیارات لینے والے وفاق کو آزادی مبارک۔
کروڑوں نوکریوں اور اپنے گھر دینے کا کہہ کر بے روزگار اور بے گھر کرنے والوں کوآزادی مبارک۔
قوم کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے والوں کو آزادی مبارک۔
ملک کا آخری وزیر اعظم کہنے اور کشمیر پر نانی کے خواب سنانے والوں کو آزادی مبارک۔
آزادکشمیر الیکشن میں ووٹ ہارنے والی پارٹی کو دے کر جیتنے والی پارٹی کے جشن منانے والوں کو آزادی مبارک۔
ایڈہاک ملازمین کی مستقلی کو غیر قانونی قرار دینے اور کشمیر لبریشن سیل میں اپنے حلقے کے درجنوں افراد بھرتی کرنے والوں کو آزادی مبارک۔
کشمیر پریمئر لیگ کے ساتھ کشمیر لگا کر ساری آمدن کھانے والوں کوآزادی مبارک۔
5 سال اپوزیشن میں رہ کر اپوزیشن نہ کرنے والے میاں وحید صاحب کو اپوزیشن کی جانب سے نامزد ہونے پر آزادی مبارک۔
محکمۂ تعلیم نیلم ڈپٹی ڈی ای اوزنانہ اور دیگر سرکاری ملازمین کو شاہ غلام قادر کی جیت پر مخلوط رقص و سرور کی محافل سجانے پر آزادی مبارک۔
الیکشن سے پہلے پیسے بانٹنے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
قربانی کے گوشت سے فریج بھر کر خراب کرنے والوں کو آزادی مبارک۔
20 روپے کے جوس کا ڈبہ ٹیڑھا کر کے پینے اور پھر پٹاخا مارنے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
یومِ آزادی پر باجے بجاکر ناک میں دم کرنے والوں کو آزادی مبارک۔
اپنی گاڑیوں اور جسم پر پاکستانی پرچم سجا کر انڈین گانے پر جھومنے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
سرکاری دفاتر میں فائلیں دبانے، چھپانے، گمانے اور ریکارڈجلانے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
دفتروں میں لیٹ آکر جلدی چلے جانے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
پبلک مقامات پر واٹر کولر سے گلاس چرانے، مسجد سے جوتیاں چرانے اورملک سے جنگلات کا صفایا کرنے اور درخت کاٹنے والوں کو آزادی مبارک۔
آزاد کشمیر کے سابقہ جنگلات کُش وزیر کو دوبارہ وزیرِ جنگلات بننے پر آزادی مبارک۔
دودھ میں پانی ملانے، باسی اشیا کو تازہ بتا کر بیچنے والوں اور خراب فروٹس پر چند صاف فروٹ سجاکر بیچنے والوں کو آزادی مبارک۔
سبزی میں چپکے سے خراب سبزی ڈالنے والوں، مری ہوئی مرغیاں کھلانے والوں، ادرک کو پانی میں ڈال کر وزنی کرنے والوں اور ناقص مال کو ایک نمبر بتا کر بیچنے والوں کو آزادی مبارک۔
عوام سے مفت ووٹ لے کرآگے کروڑوں میں بیچنے والے کونسلر، ایم ایل اے، ایم این اے اور ایم پی اے کو آزادی مبارک۔
ملک میں دہائیوں حکومت کرکے کوئی میعاری ہسپتال نہ بنا کر لندن علاج کروانے والوں کو آزادی مبارک۔
پاکستان میں پروٹوکول اور باہر قطار میں لگنے والوں کو آزادی مبارک۔
کمپوڈر کا کورس کر کے ڈاکٹر کہلوانے والوں، دونمبر بوتلیں بیچنے والوں، باسی اور تازہ کھانے مکس کر کے بیچنے والوں، جوس، گنے کا رس اور شیک کم اور برف زیادہ ڈالنے والوں، ٹرالی میں اینٹوں اور ریت کی کرپشن کرنے اور کالے پائپ، گلی سڑک، ٹوٹی نلکا، سکیم، کول کے نام پر ووٹ دینے والے عوام کو آزادی مبارک۔
مریم نواز او ر بلاول بھٹو کو آزادکشمیر میں گلا پھاڑ کر الیکشن ہارنے پر آزادی مبارک۔
پوری مزدوری لے کر چند اینٹیں لگانے والے مستریوں، کندھے پر بیلچہ رکھ کر مانگے والے جعلی مزدوروں، کاروں اور بنگلوں کے مالک بھکاریوں، مفت میں کھانے پینے والے پولیس والوں، سکول آکر بچوں کو نہ پڑھانے والوں، ہسپتال میں جا کرمریضوں کو ٹیسٹوں کی دلدل، اپنی کمیشن والی دوائیاں اور لیبارٹریاں تجویز کرنے والوں، جعلی عاملوں، حکیموں اور افسروں کو آزادی مبارک۔
کھیل میں سٹے لگانے والوں، جوا کھیلنے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
ہر مرتبہ ہر حکومت کا حصہ بننے والے شعبدہ بازوں، راتوں رات وفاداریاں بدلنے والے وزیروں، سول محکموں پر مسلط کرنلوں، برگیڈئیروں اور جنرلوں کو بھی آزادی مبارک۔
چائینہ کٹنگ کے پیسوں سے ویلفیئر فاونڈیشن بنانے، عوامی عطیات پر الیکشن لڑنے اور اسلام کے نام پر کھانے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
مخصوص لوگوں کا احتساب کرنے والی نیب، میچ ہارنے والی پی سی بی، لوڈ شیڈنگ کرنے والی واپڈا، پانی گندہ کرنے والی واسا اور کچرے کے ڈھیر لگانے والی کارپوریشن کو بھی آزادی مبارک۔
کپڑا بچا کر اپنے بچوں کے کپڑے سینے والے درزیوں، ایمبولینس کو راستہ نہ دینے والوں، اشارے توڑنے والوں، بیسن میں آٹا ملا کر پکوڑے بنانے والوں، پاؤں سے آٹا گوندھنے اور پیسے بڑھا کر وزن کم کرنے والے نان بائیوں، ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر بیرون ملک رہنے والوں، ڈیم فنڈ کے پیسے کھانے والوں، جہیز کے خلاف باتیں کرکے کروڑوں جہیز پر لگانے والوں، غریب کے نعرے لگا کر امیر ہونے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
قبضہ مافیا، ٹمبر مافیا، واٹر مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا اور ویکسین مافیا کو بھی آزادی مبارک۔
لاکھوں رشوت دے کر استاد بھرتی ہونے والے معماروں کو آزادی مبارک۔
پارٹیوں کی الیکشن مہم چلانے والے سرکاری ملازمین کو آزادی مبارک۔
محنت کیے بغیر بڑے لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بنانے والوں، منھ بسور کر سیلفیاں بنانے والوں، الٹی سیدھی ویڈیو بنانے والوں جواب یا کومنٹ کے بجائے ایموجی یا ’’نائس‘‘ لکھنے والوں، یوٹیوب کے سبسکرائبر کی ریکوسٹ کرنے والوں، نہ جان نہ پہچان ایویں کی فیس بک ریکویسٹ بھیجنے والوں اور برا بھلا کہہ کر گروپ لفٹ کرنے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
پیسوں سے جعلی ڈگریاں بنوانے والوں، عمرہ کر کے کھجوریں لانے مگر قرض ادا نہ کرنے والوں، مس کال مارنے والوں،لڑکی سمجھ کر دوستی کی پیش کش کرنے والوں، دعوت کے چکر میں سارا دن بھوکے رہنے والوں، شادیوں پہ بن بلائے آنے والوں اور بوٹیاں چاولوں کے نیچے چھپا کر کھانے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
اپنا بن کر چونا لگانے والوں، جلدی دعا مانگ کر اگلی محفل میں شرکت کرنے والے مولویوں، والدین کو بھوکا رکھ کر فوتگی پہ مولویوں کو فروٹ کھلانے والوں، دوسرے کے کپڑے پہن کر چوہدری بننے والوں، شہر سے گاؤں اور بیرون ملک سے پاکستان آکر نواب زادے بننے والوں، اپنی مادری زبان اور کلچر کو بھول جانے والوں، صرف جمعہ کے دن شلوار قمیص پہننے والوں، مہنگی گاڑی سے جوس اور لیز کے پیکٹ باہر پھینکنے والوں، رات کو کوڑے کے شاپر دوسروں کی چھتوں پر پھینکنے والوں، خالی کپ لے کر چھت پہ گھومنے والوں، موبائل چوری کرکے گیم کھیلنے والوں، خریداری کے پیسوں سے ایزی لوڈ کروانے والوں، ساری رات لمبی کالیں کرنے والوں، کانوں میں ہینڈ فری لگا کر گاڑی چلانے والوں، چوری چھپے دوسروں کے میسج پڑھنے والوں، نوکری کے لیے لمبے لمبے فارم پر کروانے والوں، پراسسنگ فیس کی مد میں لاکھوں بٹورنے والوں اور ایڈ مشن فیس، سیکورٹی، لائبریری فنڈ او ر دیگر نام نہاد فنڈوں کے ذریعے غریب والدین کو لوٹنے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
اپوزیشن کے بہانے مک مکا کرنے والوں کو آزادی مبارک۔
ماڈل ٹاؤن، ساہیوال اور دیگر سانحات پر لواحقین کو ڈرانے دھمکانے اور فیصلے نہ کرنے والوں کو بھی عید مبارک۔
آئے روز وزارتیں بدلنے اور عوام کو اُلّو بنانے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
’’نیازی‘‘ نام پر حیران ہونے والوں، پیرنی کے بتائے ہوئے ’’ع‘‘ سے شروع ہونے والے ناموں کو ترجیح دینے والوں، وزارتوں کے لیے اہلِ حدیث سے اہلِ سنت ولجماعت بننے والوں، عہدوں کے لیے کروڑوں کے فنڈ کے نام پر رشوت دینے والوں ، اوروں کو بچے لندن میں رکھنے کا طعنہ دے کر اپنے بچے برطانیہ رکھنے والوں،سابقہ کرپٹ لوگوں کو اعلا عہدوں پر تعینات کرنے والوں اور محرم میں جعلی اہل شیح بننے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
لاک ڈاؤن میں شٹر نیچے کرکے دکان داری کرنے والوں، بیوی سے لڑ کر ’’فوڈ پانڈا‘‘ سے کھانے منگوانے والوں، غلط راستہ بتانے والوں، جعلی صحافی بن کر بلیک میل کرنے والوں، چھوٹے بچوں کا لنچ، پاکٹ منی اور چاکلیٹ کھانے والوں اور چند ہزار تنخواہ کے بدلے قائداعظم اور علامہ اقبال بنوانے والے والدین کو بھی آزادی مبارک۔
فون کر کے اپنے بارے کالم لکھوانے کی فرمائش اور درخواست کرنے والوں کو بھی آزادی مبارک۔
اگر غلطی سے کوئی رہ گیا ہو، تو اسے بھی آزادی مبارک!
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے