49 total views, 1 views today

عمومی طور پر بھارتی وزیر اعظم نرندرا مودی کو لوگ ’’بھارت کا گورباچوف‘‘ کہتے ہیں، لیکن مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ مودی گورباچوف نہیں بلکہ شاید ’’لینن‘‘ ہے۔ گورباچوف بے چارہ تو اس وقت آیا تھا کہ جب کھیل ختم ہوچکا تھا۔ وہ چاہتا بھی تو روس کو بچا سکتا تھا اور نہ نظام کی اصلاح ہی کرسکت تھا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے پاکستان میں عام الفاظ میں کہا جائے کہ یحییٰ خان نے ملک کو توڑا۔ حالاں کہ تاریخی سچائی یہ ہے کہ یحییٰ خان کے حوالے جب اقتدار آیا، تو تب تک ملک عملاً تقریباً دو حصوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔ البتہ یحییٰ خان کی یہ غلطی ضرور ہے کہ اس نے حالات کو بہتر کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ یہی معاملہ تقریباً گورباچوف کے ساتھ تھا۔ روس کو ان نظریات نے توڑا جو ’’لینن‘‘ یا ’’سٹالن‘‘ کی تھیوری پر تھے۔ انہوں نے نہ صرف ایسے نظریات پر روس کو چلانے کی کوشش کی جو کہ عملی طور پر ایک انسان کے لیے ممکن ہی نہ تھے۔ اور پھر نہ صرف یہ نظریات انہوں نے روس تک رکھے بلکہ ان کو دنیا میں نافذ کرنے کے لیے بے تحاشا دولت کو ضائع کیا۔ اندھا دندھ طاقت کا پھیلاؤ جاری رکھا، جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ زار روس کا بھوکا ننگا ہی سہی، روس قائم رہنے کی تو صلاحیت رکھتا تھا لیکن کیمونسٹوں کا روس بکھر کر رہ گیا۔ وہ تمام قربانیاں ضائع ہوگئیں اور خون رائیگاں گیا جو انقلابِ روس کے لیے بہایا گیا تھا، لیکن اس میں ایک مثبت بات یہ تھی کہ اس دور کے کیمونسٹ نہ اقتدار کی ہوس کا شکار تھے اور نہ ان کی نیت کسی کے جذبات کو استعمال کرکے اپنی طاقت اور عیاشیوں کو دوام بخشنا تھا، بلکہ وہ اپنی نیت اور جذبہ میں سچے تھے اور کام اور نظریہ سے مخلص۔ لیکن نظریہ کی کمزوری کی وجہ سے ان کا نظام بھی برباد ہو گیا اور ان کا ملک بھی ٹوٹ گیا۔
اب اگر ہم ان کا موازنہ ہندوستان سے کریں، تو یہاں ہمیں مودی اور اس کے ٹولے کی شکل میں وہ لوگ نظر آتے ہیں کہ جن کا نظریہ غلط یا صحیح کسی انسانی اخلاقی یا مذہبی معیار پر پورا اترتا ہی نہیں۔ مجھے کسی نے کہا کہ مودی ہندو توا کا پیروکار ہے اور مذہب کی ترویج کا متمنی ہے۔ وہ بس ہندو دھرم کی بالادستی چاہتا ہے۔مَیں نے اس کو جواب دیا اگر مودی ایسا ہو، تو کم از کم میں اس کی مخالفت نہ کروں۔ کیوں کہ ہندو مذہب کے اجرا کا مطلب ہے ایشور کو یکتا مان کر گیتا یا رامائن کی تبلیغ کرنا، تو وہاں پر تو کہیں بھی مذہب کی جبری بالادستی، انسان سے نفرت، غیر ہندو کا جینا محال، انسانی حقوق کا خاتمہ بالکل نہیں…… بلکہ شاید دنیا کے کسی مذہب میں بھی نہیں۔ مودی ہندو دھرم کا راہنما نہیں۔ گیتا کا مبلغ نہیں، بلکہ یہ شخص آر ایس ایس اور جن سنگھ کا نمائندہ ہے۔ بات محض بی جے پی کی ہوتی، تو شاید اتنی خطرناک نہ تھی۔ آخر میراجی ڈیسائی اور واجپائی بھی تو وہی سے آئے تھے، لیکن یہ شخص ہندو دھرم کے نام پر خود پسندی کا شکار ایک نفسیاتی و ذہنی مریض ہے۔ اس کا موازنہ آپ ہٹلر کے نازیوں سے کسی حد تک کرسکتے ہیں، یا پھر اسلام میں ابوبکر بغدادی یا دھماکا کر کے اسلام کو نافذ کرنے والے دہشت گردوں سے۔
نرندرا مودی کہ جس کی تاریخ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ایک معمولی سا چائے کے ہوٹل پر کام کرنے والا بہرا تھا۔ عمومی طور پر غیر تعلیم یافتہ اور جاہل لوگوں کی طرح مذہب سے ایک انتہا کی جذباتی وابستگی رکھتا تھا۔ اس پس منظر کے لوگ درحقیقت مذہب کی روح کو سمجھ ہی نہیں پاتے بلکہ وہ بچپن سے ایک خاص خیالات اور دماغ کے مالک بن جاتے ہیں، جہاں سوچنا سمجھنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ وہ پھر کبھی صہیونی، کبھی انتہا پسند یہودی، کبھی داعش کا مسلم مجاہد اور کبھی آر ایس ایس یا جن سنگھ کے نمائندہ بن جاتا ہے…… بلکہ اب تو یہ انتہا پسندی مہاتما بدھ کے ماننے والے بدھ مت میں بھی آگئی ہے جس کی بڑی مثال روہنگیا برما یا میانمار میں واضح نظر آتی ہے۔ سو یہ لوگ مذہبی نہیں ہوتے بلکہ یہ جنونی ہوتے ہیں۔ جنونی مطلب پاگل ذہنی مریض۔ جب تک یہ آزاد رہتے ہیں، تب تک یہ سماج کے بہت محدود حصے کے لیے خطرناک ہوتے ہیں، لیکن جب یہ طاقت اور اقتدار حاصل کرلیتے ہیں، تو پھر یہ دوسروں کے لیے تو خطرہ رہتے ہی ہیں لیکن خود اپنے معاشرے اور ملک کے قاتل بھی ثابت ہوجاتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی منصوبہ ہوتا ہے نہ علم، نہ سماجی تعلیم نہ سیاسی حکمت عملی…… بلکہ چند جذباتی نعرے ان کا کُل اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ اپنے پیروکاروں کے اندر بس خود پسندی پیدا کرتے ہیں اور پھر ان کو یہ بتاتے ہیں کہ دنیا کا اقتدار تمہارا حق ہے اور اگر کسی اور نے رہنا ہے، تو تمہارا غلام بن کر ہی رہنا ہے۔
اب یہی پالیسی مودی ’’چائے فروش‘‘ انڈیا کہ جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت تھی، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مختلف مذاہب، معاشرتی اقدار اور زبانوں کے مجموعے کو اگر ایک دہلی سرکار کے تحت یکجا رکھا ہوا تھا، تو وہ تھی جمہوریت کہ جہاں ہر شخص کو برابر کا ہندوستانی تسلیم کیا جاتا تھا۔ ریاست کی سطح پر ہر ایک کو برابر کے مواقع میسر تھے، لیکن اس ہندو توا کے بندر نے مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو کے ہند کا معاشرتی ڈھانچا محض اقتدار کی ہوس میں تباہ و برباد کر دیا۔
آج ہند میں دہلی کا سکھ، مدراس کا عیسائی اور گجرات کا مسلمان یکساں مایوس اور خوف زدہ ہے۔ آر ایس ایس کے غنڈے بے لگام بھی ہیں اور بے پروا بھی۔ جب چاہیں کسی کو بھی محض گائے کی ذبیحہ پر قتل کرنے سے نہیں چوکتے، بلکہ یہ غنڈے کہ جن کو حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، ہندوؤں کی بڑی اکثریت کہ جو ویش و شودر پر مشتمل ہے، ان کے لیے بھی عذاب بن رہے ہیں۔
لوگ کشمیر کی بات کرتے ہیں کہ جہاں مودی کے مظالم کی انتہا ہی نہیں، لیکن اگر آپ اندرونِ بھارت کا جائزہ لیں، تو معلوم ہوگا کہ اس شخص نے بھارت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ بھارت کے حکومتی ایوانوں میں اصل حکومت بی جے پی کی نہیں بلکہ راج ٹھاکرے کی ہے۔
ہمارے کچھ معصوم دوستوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہندوتوا، جن سنگھ یا آر ایس ایس کہ بی جے پی اب جن کا بس ایک سیاسی ونگ بن چکا ہے، وہ ہندو مذہب یا ہندو کمیونٹی کے نہ محافظ ہیں نہ ان کے مبلغ۔ کیوں کہ اگر ایسا ہو، تو دنیا کے کسی ضابطے خواہ دینی ہو یا اخلاقی، یہ بات ناقابلِ اعتراض ہے اور نہ غلط ہی ہے۔ ان کا بھی اپنے مذہب و عقائد کی ترویج کا اتنا ہی حق ہے کہ جتنا کسی اور مذہب کے ماننے والوں کا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہندو دھرم، ایشور کی تعلیمات یا رام کے کردار کو بیان کر کے لوگوں کو دعوتِ گیتا نہیں دیتے بلکہ یہ وہ فاشسٹ سوچ ہے جو اپنے علاوہ سب کو غلام بنانا چاہتے ہیں اور نام لیتے ہیں مذہب کا۔ ان کا مذہب سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ یہ ذہنی مریض ایک جنونی فکر رکھتے ہیں اور پھر اس فکر کو اپنے مروجہ سیاسی و معاشی فوائد واسطے استعمال کرتے ہیں۔
اب یہ بات تو پورا ہند بلکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ بال ٹھاکرے اور اب اس کا بیٹا راج ٹھاکرے انڈر ورلڈ کے معروف ڈان ہیں۔ بھارت کے تمام بڑے بزنس آئی کون، بااثر سیاست دان بلکہ بالی وڈ کے بڑے بڑے فلمی ستارے اس کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اگر کوئی رتی بھر بھی اس کی حکم عدم عدولی کرے، تو اس واسطے دھرتی جہنم بنادی جاتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں نے نرندرا مودی کو آگے کیا ہوا ہے۔
درحقیقت مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ مہاتما گاندھی سے لے کر کلدیپ نیئر اور نہرو سے لے کر مہیش بھٹ کے ہند کے عام عوام پر کہ جنہوں نے گجرات کے ایک معروف قاتل کو ووٹ دے کر دہلی کے سنگھاسن پر بیٹھا دیا۔ شائد ان کو یہ احساس ہی نہ تھا کہ وہ قاتل کو لاکر اول قتل گاندھی کے ہندوستان کا کرنے جا رہے ہیں۔ آج جو پالیسیاں یہ ظالم درندہ بنا رہا ہے، جو سراسر بدمعاشی و ظلم پر محیط ہیں، وہ مستقبل میں ہند واسطے کتنی خطرناک ہیں۔اگر مودی کو چند سال مزید ملے، حزبِ اختلاف خاموش رہی اور میڈیا ریاست کی بکواس پھیلاتا رہا، تو بہت جلد ہی مودی ریاستی اداروں پر مکمل کنٹرول کر لے گا۔ بہت حد تک ممکن ہے کہ یہ خون آشام درندہ فضول مہم جوئی میں پڑوس سے ایک ایٹمی جنگ کا آغاز کر دے۔ پھر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ باہر سے تو جو زک پہنچنی ہے، وہ پہنچے گی لیکن اندرون ہند جو گھٹن، خوف، انارکی، اور بے چینی فیشن شو شائننگ انڈیا بالی وڈ سوپ ٹی وی سیریز کی شکل میں چھپائی جا رہی ہے، وہ یک دم پوری طاقت سے ابھر کر باہر آئے گی۔ پھر امرتسر سے کنیا کماری تک ہر چند کلومیٹر پر شاید آپ کو ایک آزاد ریاست تو ملے، خواہ وہ خوشحال ہو یا غریب…… لیکن گاندھی کا ہندوستان آپ کو بالکل نہیں ملے گا۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے