43 total views, 1 views today

کھیلوں نے مجھے اہداف طے کرنا سکھایا ہے۔ یقینا کھیل نے مجھے ایک آواز اور شناخت دی ہے۔ مایا ہیم
تمام تر مشکلات کے باوجود کشمیر پریمئر لیگ کے انعقادسے ملک میں خوشی کی ایک لہر دوڑ چکی ہے۔ خاص طور پر دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کا جوش اور ولولہ دیدنی ہے۔ شکریہ کے احساسات کا اظہار نہ کرنا ایسے تحفے کی طرح ہے جسے ہم انتہائی خوبصورت گفٹ پیپر میں لپیٹ کر دینے کے بجائے رکھ لیتے ہیں۔
کشمیر پریمئیر لیگ (کے پی ایل) کی اہمیت کا اندازہ اس کی مخالفت، اس کے خلاف سازشوں اور اس کے انعقاد پرموجود خوف اور خوشی سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ لیگ پوری کشمیری قوم کے لیے ظلم کی تاریک رات میں ا مید کی کرن ہے جو کھیل کے پُرامن ذریعے سے پوری دنیا میں کشمیریوں کی آزادی، شناخت اور حقوق کا پیغام سنا رہی ہے۔ اس لیگ سے خوفزدہ ہوکر، اسے رکوانے کے لیے کشمیریوں کے ازلی دشمن بھارت نے بین الاقوامی کر کٹ کونسل سے بھی رابطے کیے اور اسے تسلیم نہ کرنے کی درخواست کی۔
صرف یہی نہیں، بھارت نے اپنا مکرہ چہرہ انگلش اور جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کو خط لکھ کر بھی بے نقاب کر لیا ہے۔ کے پی ایل کے خلاف سازشوں پر ’’ہرشل گبز‘‘ پھٹ پڑے اور بھارتی دھمکیوں کا انکشاف کرکے بین الاقومی سطح پر بھارت کے مذموم عزائم کا پردہ چاک کر دیا۔ گبزکو بھارتی کرکٹ بورڈ نے ’’کے پی ایل‘‘ میں شرکت کرنے پربھارت میں داخلے پر پابندی اوردیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ دیگر کئی ممالک کے کھلاڑیوں کو بھی کے پی ایل میں شمولیت سے دور رکھنے کے لیے بھارت کی جانب سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جار ہے ہیں۔
بی سی سی آئی نے ایک بار پھر آئی سی سی کے ممبران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرکے بین الاقوامی اصولوں کے ساتھ کھیل کے جذبوں اور دنیا میں امن کے پیغا م کو روکنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ بھارت کی جانب سے اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو کے پی ایل میں شرکت سے زبردستی روکنا اور دھمکیوں نے عالمی سطح پر کھیل کے جذبے اور فروغ کو شدید ٹھیس پہنچانے کے علاوہ ا پنی نازی سوچ کا اظہار کیا ہے۔ کشمیریوں کے خون کے پیاسے ڈریکولا بھارت کو یہ ہر گز برداشت نہیں کہ کشمیریوں کی شاخت اور آواز دنیا بھر میں دیکھی اور سنی جائے۔ کشمیری نوجوانو ں کا قاتل بھارت یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ کشمیری نوجوان عالمی سطح کے بڑے ناموں کے ساتھ بیٹھیں۔
کے پی ایل سے نہ صرف کشمیری ثقافت اجاگر ہوگی بلکہ سیاست کو بھی فروغ ملے گا۔ بھارت اس لیگ سے اتنا خائف ہے کہ اس نے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ کمنٹیٹرز اور براڈ کاسٹرز کو بھی طاقت کے ذریعے روک دیا ہے۔ بھارت نے پاکستان دشمنی میں کے پی ایل کی مخالفت کر کے پوری دنیا کو اپنی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے۔ انتہا پسند بھارت پُرامن کھیل سے بھی خوف زدہ ہے۔ کیوں کہ اسے اس بات کا یقین ہے کہ یہ لیگ کشمیریوں کی پُرامن آزادی کی جد و جہد میں ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔
کے پی ایل میں شامل بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت سے مسئلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہوگا۔ اس سے کشمیری نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا اور انہیں ملکی اور عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ بھی ہوگا۔ اس لیگ سے نوجوانوں کو کھیل کے میدان میں آگے نکلنے کے بے شمار مواقع ملیں گے۔ اس کے انعقاد سے کشمیریوں کے جذبۂ جد و جہدِ آزادی کو تقویت ملے گی۔ اس کے ذریعے کشمیری عالمی سطح پر یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوں گے کہ وہ پُرامن قوم ہیں اور عالمی قرادادوں کے مطابق اپنی آزادی کے حصول کے متمنی ہیں۔
کے پی ایل کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی، ملکی او ر بین الاقوامی کھیلوں کو فروغ ملے گا بلکہ اس کے ذریعے کھیلوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ یہ صحافت کے میدان میں ’’سپورٹس جرنلزم‘‘ کو بھی پروان چڑھانے میں مدد دے گی۔ حکومت آزادکشمیر، پاکستان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی یہ لیگ خطے میں امن کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے مواقع کی وسعت کے اعتبار سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
اس کے زریعے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں ایک نئی جہت اور سمت ملے گی۔ اس کانام دراصل کشمیریوں کی شناخت، ثقافت ان کی پُرامن جد و جہد آزادی اور ان کی قربانیوں کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔ ہم گولی کا جواب گیند سے دینا چاہتے ہیں۔
اس لیگ سے عالمی دنیا کو یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ ایک طرف بھارتی مقبوضہ کشمیر ہے جہاں لاشیں گرتی ہیں،بھارت نے کشمیر کودنیا کی سب سے بڑی جیل بنا رکھا ہے، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جہاں بچوں کی بینائی چھینی جاتی ہے، جہاں عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے، جہاں والدین کو ان کے بچوں کے سامنے گولیاں مار دی جاتی ہیں، جہاں گھر راکھ بنا دیے جاتے ہیں، جہاں ننھے پھول مسل دیے جاتے ہیں، جہاں بوڑھوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے، جہاں لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے جب کہ دوسری طرف پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں کھیلوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے گولی کے بجائے گیند کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ظلم کے بجائے امن کا پیغام دیا جاتا ہے۔
کے پی ایل مستقبل میں کشمیری کرکٹ ٹیم کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرے گی۔ یہ پوری دنیا کی توجہ ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کی طرف گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کر ے گی۔ عام آدمی ا س لیگ کو محض ایک کھیل تک محدود سمجھتا ہے جب کہ ایسا ہے نہیں۔ یہ لیگ کسی بھی کھیل سے بڑا کھیل ہے جس کے نتائج ہمیں مستقبلِ قریب میں دیکھنے کو ملیں گے۔ یہ کھیل کرکٹ سٹیڈیم کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی کھیلا جارہا ہے۔
ہارجیت کھیل کا حصہ ہے مگر اس لیگ کے مقاصد میں ہار نہیں بلکہ جیت ہی جیت ہے۔ اس لیے اس کو محض ایک کھیل تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔یہ بین الاقوامی میڈیا میں بھر پور پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ اس کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوشش بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔
ہمیں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو محض کرکٹ کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہر صوبے کی طرح پاکستانی بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں میں کشمیر کی نمائندگی کو یقینی بنائے۔ یہ ہمارا حق ہے، اگر پاکستان کے باقی صوبوں کے کھلاڑی پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں، تو پھر کشمیر اور گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں کو بھی یکساں مواقع ملنے چاہئیں، تاکہ وہ بھی اپنے خطے کی شناخت اور پہچان کا ذریعہ بن سکیں۔
کشمیر پریمئر لیگ کا تسلسل جاری رہنا چاہیے، تاکہ خطے میں کھیل، سیاحت، سرمایہ کاری اور امن کو فروغ ملے۔ کھیل کی طرح ہر شعبۂ زندگی میں کشمیریوں کو نمائندگی دی جائے، تاکہ ہم ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر اپنا مقدمہ لڑسکیں۔ پاکستان کو دوست ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی سطح کی تنظیموں میں کشمیریوں کو نمائندگی دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کشمیری کھیل کے میدان کے ساتھ ہر میدان میں اپنی شناخت چاہتے ہیں۔ کرکٹ کی طرح زبان وادب، تاریخ و ثقافت اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کے متقاضی ہیں۔ کشمیر پریمئر لیگ کی طرح دیگر شعبہ جات کی طرف بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
مسئلہ کشمیر کو نئی جہت اور جدید تقاضوں کے مطابق اجاگر کرنے پر ہم کے پی ایل کے منتظمین کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں اگلی مرتبہ کے پی ایل پہلے سے کہیں زیادہ تناور پودے کی شکل اختیار کر چکا ہوگا اور ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ہم آئندہ کے لیے زیادہ بہتر اقدامات اور انتظامات کو یقینی بنائیں گے۔ ہم ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور آزادی کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے