44 total views, 1 views today

5 اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35 کی منسوخی کے دوسال پورے ہوگئے۔یہ دن ہمیں مقبوضہ کشمیر کی تقسیم اور ریاستی درجہ کے خاتمے کی یاد دلاتا ہے۔ ان دوسالوں میں کشمیریوں کو غیر معمولی آئینی، سیاسی، معاشی اور تہذیبی یلغار کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاست کے خط و خال بدلنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ایک ایسے منصوبے پر سرعت سے عمل درآمد شروع کیا جس کا منطقی انجام کشمیریوں کی اسلامی شناخت اور ثقافتی تشخص کا خاتمہ ہے ۔
حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت نواز کشمیری لیڈروں کے ساتھ ایک نشست کرکے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کشمیر کے حالات معمول پر ہیں اور بی جے پی کی حکومت سیاسی لیڈروں کے ساتھ کشمیر کے مستقبل کے خاکے میں رنگ بھرنے کے لیے گفت وشنید کررہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اعلا سطحی اجلاس میں وزیراعظم مودی نے اسمبلی حلقوں کی ازسر نو حد بندی میں حکومت کی مدد کرنے کی استدعا کی۔ انہوں نے گذشتہ دوبرسوں میں کشمیر میں جاری حالات پر کسی تاسف کا اظہار کیا اور نہ ہی حالات کو بہتر کرنے کے لیے کوئی اقدامات کرنے کا عندیہ دیا۔
سری نگر میں مبصرین ہی نہیں بلکہ سیاسی پنڈتوں کا بھی کہناہے کہ حد بندی پر اصرار کا مقصد اسمبلی میں غیر مسلم نشستیں بڑھانا ہے، تاکہ کشمیر کے پہلے ہندو وزیراعلا کا انتخاب ممکن بنایا جاسکے جو کہ ایک بی جے پی کا سات عشرے پرانا خواب ہے۔ آئینی اور انتظامی اختیارات کے ساتھ ریاستی درجے کی الیکشن سے قبل بحالی کانگریس سمیت بھارت نواز جماعتوں کا مرکزی مطالبہ ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق بی جے پی ریاست کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔ بشرط یہ کہ تمام کلیدی انتظامی امور جیسے امن و امان کو برقرار رکھنا اور مالی اختیارات نئی دہلی کے مقررکردہ طاقتور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہوں، نہ کہ منتخب وزیراعلا کے پاس۔ اس تجویز میں بھارت نواز کشمیری سیاست دانوں کے لیے کوئی کشش نہیں۔
نئی دہلی توقع کر رہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر پر براہِ راست حکمرانی سے مقامی شہریوں کے لیے نئے معاشی اور سیاسی امکانات روشن ہوں گے۔ کشمیر پر پایا جانے والا موجودہ بیانیہ بھی دم توڑ جائے گا جو کشمیر کے تنازعہ اور کشمیریوں کی علاقائی،نسلی اور لسانی شناخت کے گرد گھومتاہے اور انہیں بھارت سے الگ اور جداگانہ حیثیت دیتاہے۔
عالم یہ ہے کہ بھارتی حکومت کی توقعات کے برعکس لداخ اور جموں کی کئی ایک معتبر شخصیات کشمیریوں کے مطالبات مثال کے طور پر ریاست کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔ کیوں کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی موجودگی کومقامی باشندوں کی شناخت، ملازمتوں اور زمین کے حقوق کے تحفظ کا ایک موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
گذشتہ برسوں میں کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر معاشی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لاک ڈاؤن، انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی اور سیاسی بے چینی کے باعث گذشتہ دو سالوں کے دوران میں 11 ماہ تک کاروبار لگ بھگ مکمل طور پر بند رہا۔
سری نگر میں قائم ایک کاروباری ادارے کے مطابق ابھی تک لگ بھگ کشمیر کی معیشت کو 70 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ اگر کورونا وائرس کی متوقع چوتھی لہر آگئی، تو ان نقصانات میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ کشمیریوں کی معاشی کمر ان دوسالوں کے دوران میں بڑی مہارت کے ساتھ توڑی گئی۔
بھارتی حکومت کو بھی آرٹیکل 370 کی منسوخی سے وہ سیاسی مفاد حاصل نہ ہوا،جس کی وہ امید کرتی تھی۔ خود مودی نے کشمیری لیڈروں کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیاکہ دل کی دور ی اور دہلی سے بھی دوری ہوگئی ہے۔ بی جے پی نے نہ صرف بھارت نواز اتحادیوں کو بے وقعت کیا بلکہ ملک کی ساکھ اور وقار کو ایک جھٹکے میں برباد کیا۔
مثال کے طور پرگذشتہ ماہ کنسرنڈ سٹیزنز گروپ جو کہ معتبر بھارتی شہریوں کا گروپ ہے، نے سری نگر کے دورے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا:ـ’’ایسا لگتا ہے کہ وادیِ کشمیر کے لوگ اب بھارتی عوام سے یا دہلی اور سری نگر کی حکومتوں سے کوئی توقع نہیں رکھتے ہیں۔ نوجوانوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہیں پتا چل چکا ہے کہ ان کے لیے اس سیاسی نظام میں کوئی جگہ نہیں۔ ان کے حقوق چھین لیے گئے ہیں اور کوئی بھی ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ۔‘‘
پاکستانی حکام نے بھارت کو مذاکرات کی طرف راغب کرنے کے لیے کئی ایک مثبت اشارے دیے۔ یہاں تک کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارت کو ماضی کو دفن کرنے اور دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا باب رقم کرنے کی پیشکش کی۔ نئی دہلی نے جوابی طور پر مایوس کن سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔ چناں چہ دوطرفہ تعلقات کی بہتری کا جو در کھلا تھا، وہ دوبارہ بند ہوگیا۔ قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ نئی دہلی نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ بیک چینل رابطوں کے منقطع ہونے کی بھی تصدیق کی، تاہم مقامِ شکر ہے کہ ’’بیک چینل‘‘ رابطوں کے نتیجے میں کنٹرول لائن پر ہونے والی جنگ بندی ابھی تک قائم ہے۔
قارئین، گذشتہ دو سال کا سبق یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا کوئی یک طرفہ حل ممکن ہے اور نہ ہی ’’اسٹیٹس‘‘ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ بات چیت کی بحالی اور تمام کشمیری ’’سٹیک ہولڈرز‘‘ کی مذاکراتی عمل میں شمولیت پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے ناگزیرہے۔
پچھلے دو سالوں کے تجربے سے پتا چلتا ہے کہ کشمیر کے لوگ امن کے خواہاں ہیں اور بھارت اور پاکستان کے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کی حمایت بھی کرتے ہیں، لیکن مسئلہ کشمیر پر اپنے بنیادی موقف پر سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے