1,060 total views, 1 views today

لفظ ’’جرگہ‘‘ منگولی زبان کے لفظ رک سے مشتق ہے، جہاں اس کے معانی گول دائرے کے ہیں۔ اب اس کو عمومی طور پر پشتو زبان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ہماری داردی زبانوں جیسے توروالی، شینا، کھوار وغیرہ میں جرگہ لفظ کے لیے ’’یرک‘‘، ’’بیاک‘‘، ’’معرکہ‘‘ وغیرہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ بغور دیکھا جائے، تو یہ الفاظ بھی ایک لفظ کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ نام جو بھی ہو مگر اس طرح کی روایت قدیم ادوار میں ہر قوم میں رہی ہے۔
جرگہ عموماً قبائل اور قوموں کے آپس میں میں لڑائی کے دوران میں بلایا جاتا تھا۔ مرورِ زمانہ کے ساتھ جرگے اور اس کی روایت نے یاغستانی؍ باغیانہ معاشروں میں انتظام و انصرام کا ذمہ بھی لیا۔ برطانوی حکومت نے جرگے اور اس سے جڑے قوانین (جیسے ایف سی آر) ایسے علاقوں میں رائج رکھے جہاں کے لوگ اپنی قدیم روایات کو ترک کرنے پر تیار نہیں تھے یا پھر حکومت ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی۔
جب سے جدید ریاستیں قائم ہوئی ہیں، جرگے اور اسی طرح دوسرے سماجی نظاموں کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔پاکستان کے جن علاقوں میں جرگوں کا انتظامی یعنی قانونی وجود تھا، وہاں لوگ ان سے بہت تنگ آگئے تھے جب کہ ملک کے ایسے علاقے جو جدید ریاست کے باقاعدہ قوانین کے تحت تھے، وہاں جرگوں کے بارے میں کافی حد تک ایک رومانیت پائی جاتی ہے؍ تھی۔ مثلاً گذشتہ سال کی ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق پاکستان میں وفاق کے زیرِانتظام سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) میں 80 فی صد لوگوں نے جرگے کی مخالفت کی جب کہ خیبرپختون خوا کے علاقوں میں اس کی حمایت 50 فی صد لوگوں نے کی۔ اس سے دو نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ اوّل یہ کہ جہاں جرگہ اپنی پرانی روایت سمیت موجود تھا، وہاں کہ لوگ اس سے تنگ تھے کہ جرگے کی سزائیں اکثر انسانی حقوق کی پائے مالی کے ساتھ ساتھ انصاف کی بھی دھجیاں اُڑاتی تھیں۔ جہاں اکثر ایک شخص کی سزا پورے خاندان اور قبیلے کو دی جاتی تھی، جب کہ پاکستان کی جدید ریاست کے اندر لوگوں میں جرگے کی پچاس فی صد حمایت اصل میں اس جدید ریاست کی ناکامی سے تعبیر ہوگی۔ کیوں کہ اس ریاست نے انصاف اور قانون ہر ایک کے لیے ایک جیسا نہیں رکھا، یا اس پر ایک جیسا علم درآمد نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے لوگوں میں اس کے بارے میں تذبذب پایا گیا۔
موجودہ حالات کی درشتی، بدنظمی، بدانتظامی اور ایک خاص ثقافتی؍ کلتوری رومانیت؍ محبت کی وجہ سے ہمارے صوبے میں اہلِ اقتدار بھی جرگے کے حامی رہے ہیں اور صوبے کا موجودہ چیف ایگزیکٹیو اس کے بارے میں کافی رومانوی ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ حالیہ کالام اور اُتروڑ تصادم میں ریاستی مشینری کو روکے رکھا گیا اور ایک جرگے کو آگے کیا گیا۔
چاہے اس کا نام جرگہ ہی رکھ لیں لیکن اب کے زمانے میں جرگہ اُس صورت میں نہیں ہوسکتا جو پہلے زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ افغانستان میں پارلیمان کو جرگہ کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ صرف نام ہے، ورنہ اس کی صورت کسی جرگے جیسی نہیں ہوتی کہ آئین، قانون اور تحریری اصولوں پر یہ پارلیمان قائم ہوا ہے، جب کہ جرگے کے پیچھے ایسا کوئی تحریری آئین یا قانون موجود نہیں ہوتا۔ یہ صرف روایات پر چلتا ہے اور ایک غیر جمہوری ادارہ ہوتا ہے جہاں ہر بندے کی شرکت ممکن نہیں ہوتی۔ صرف صاحبِ زمین اس کا رُکن ہوسکتا تھا اور ایسے ہی لوگوں کو عمائدین اور زعما کہا جاتا تھا۔ اب بھی کئی رجعت پسند لوگ صرف صاحبِ ثروت کو زعما، مشران یا عمائدین کہتے ہیں۔ چند صاحبِ زمین مل کر پورے گاؤں یا علاقے کے فیصلے کرتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ تاریخ صرف طاقتور کی بیان ہوتی ہے، اس لیے ہمیں جرگے سے جو رومانیت ہے، وہ انہی تاریخی روایات کی بنیاد پر ہے اور ہم نے صرف زعما کا بیانیہ سنا ہے۔ ان کے زمانے میں جرگوں کی وجہ سے عام لوگوں پر کیا گزری؟ وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے اور نہ ہم اب اس کو محسوس ہی کرسکتے ہیں۔
ایک عجیب مخمصہ ہے۔ ایک طرف ہم جرگے کی روایت کے معدوم ہونے پر پریشان ہیں، تو دوسری طرف سارے سابق جرگہ مار؍ عمائدین کسی نہ کسی صورت میں جدید ریاست کی جدید سیاست میں مکمل طور پر داخل ہوچکے ہیں۔ اس کے پیچھے اصل وجہ ’’طاقت‘‘ ہے۔ پہلے یہ طاقت جرگوں کے ذریعے ان کے پاس تھی اور اب یہ اس کا حصول سیاست کے ذریعے چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سارے جرگے شرگے سیاسی ہوچکے ہیں۔ کوئی صاحبِ زمین و صاحبِ ثروت سیاست سے باہر نہیں۔ اس لیے ان جرگوں کا سیاسی ہونا لازمی تھا۔ اسی وجہ سے جو جرگہ از خود 10 جولائی اور اس کے بعد ترتیب پایا اس کے سیاسی ہونے پر تنقید نہیں کی جاسکتی کہ اب ہمارے سماجوں میں سیاست کے علاوہ باقی بچا ہی کیا ہے؟
جب 10 جولائی کو کالام اور اتروڑ کے لوگوں میں خوں ریز تصادم ہوا، تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان سیاسی رہنماؤں کو آگے کیا اور ان سے کہا کہ وہ کوئی راستہ نکال لیں۔ معلوم نہیں کہ ان میں سے کسی نے ان اداروں کے صوبائی یا علاقائی سربراہوں کو یہ کہا کہ نہیں کہ امن و امان قائم رکھنے کی بنیادی ذمہ داری تمہاری ہے۔ لہٰذا تم آگے رہو اور ہم آپ کے پیچھے رہیں گے!
پہلے کہیں لکھ چکا ہوں ہم مادی لحاظ سے جدید ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس جدید مادی ذرائع تو آگئے ہیں، مگر ہم ذہنی طور پر اس جدیدت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم نے کپڑے بدل لیے، گھر نئے اور پکے بنالیے، زبانیں سیکھ لیں، جوتے شان دار ہوگئے، ہاتھ میں مہنگے فون آگئے مگر کھوپڑی کے اندر وہ عمل نہ ہوا کہ جس کی وجہ سے ہم اس نئے مظہر کوجانچ سکتے، اسے پرکھ سکتے اور شعوری طور پر اس پر فکر کرکے کوئی راہ متعین کرلیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جرگہ ایک روز کالام گیا، تو دوسرے روز کوئی اور جرگہ گیا۔ ایک سیاسی رہنما نے وہاں جاکر تقریریں کیں، تو دوسرے روز کوئی اور سیاسی رہنما وارد ہوا اور تقریریں فرمائیں۔ کوئی منظم کارروائی نہ ہوسکی اور نہ حکومتِ وقت سے کوئی مؤثرمطالبہ ہی ہوسکا، بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ اس جرگے نے بھی قانون کو ایک طرف چھوڑ کر اپنی طرف سے بھاگ دوڑ کی۔ جس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے استراحت میں چلے گئے۔
اس جدید افراتفری اور سیاسی بازیگری میں کوئی منظم جرگہ ہوہی نہیں سکتا۔ یہاں کوئی رہبر، کوئی متکّلم نہیں ہوسکتا۔ ہر ایک نے اپنی باری لینی ہوتی ہے، ورنہ سیاسی طور پر اور فیس بک پر ناکامی ہوجاتی ہے۔ ان سب باتوں سمیت اس گرما گرم ماحول میں ان جرگوں نے ایک بہت اہم فوری کام کیا:تنازع کو آگے بڑھنے نہ دیا اور دونوں اطراف کو وقتی طور پر قابو میں رکھا۔ ریاست اور اس کے اداروں کی موجودگی میں جرگہ ایک سول سوسائٹی کا کام کرسکتا ہے۔ سول سوسائٹی سے مراد افراد کا ایک ایسا ڈھیلا ڈھالا گروہ جو ریاست سے حقوق مانگے، جو ریاست اور اس کے اداروں کو جواب دہ کرے اور کسی جبر کی صورت میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈال سکے۔ اسے نام جرگہ دیں یا کوئی تحریک و تنظیم، کام اس کا بنیادی یہی ہوگا۔ اس سے آگے بڑھنا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔ اس کے ساتھ جرگہ ایک اہم مذاکراتی کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ ثالثی بھی کرسکتا ہے، تاہم اس ثالثی کی توثیق آخرِکار عدالتوں اور دوسرے اداروں نے کرنا ہوتی ہے۔ یہ مذاکرات کسی جلسے کی صورت میں نہیں کیے جاسکتے۔ اس کے لیے مختصر لوگوں کے ایک گروہ میں آپس میں مذاکرات اور مباحث ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب وہ ایک نکتے پر آجاتے ہیں، تو کسی ایک بندے کو اس خلاصے کو سب کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ ایسی صورتِ حال جنم لیتی ہے جو جرگے کے نام پرایک حالیہ جلسے میں پیش آئی جس سے شرمندگی بڑھ گئی!
کالام اتروڑ تصادم آگے کا راستہ کیا ہے ؟
ذرائع بتارہے ہیں کہ 5 اگست کو 10 جولائی اور اس کے بعد ایک ہفتے تک جاری رہنے والا جرگہ دوبارہ بیٹھے گا اور کسی حال کی طرف جائے گا۔ بات بڑی خوش آئند ہے، تاہم اتنی سادہ نہیں۔
5 اگست تک جرگہ نمائندگان کے ساتھ دونوں فریقین نے خوب لابنگ کی ہوگی۔ اس لابنگ کی صورت میں جرگہ کیا صورت اختیار کرتا ہے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ اس کے ساتھ ابھی سے کچھ حلقے اس جرگے پر سیاسی ہونے کا الزام لگا کر خود بھی داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صورتِ حال غیر یقینی ہے، تاہم ایک کامیاب جرگہ کرنے کے لیے چند باتیں لازمی ہیں:
٭ 5 اگست سے پہلے یا اس کے آس پاس پہلا قدم یہی اٹھانا ہوگا کہ قانون کے ادارے 10 جولائی کی مارکٹائی میں دونوں فریقین میں سے ملوث افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیں۔
٭ یہ جتنے جرگہ نمائندگان؍ سیاسی رہنما اس عمل میں شریک تھے، ان کو اپنا گروہ مختصر کرکے ایک دو دن مسلسل کہیں اور بیٹھنا چاہیے۔ وہ اپنے ساتھ کچھ بندوں کو تھل اور کلکوٹ سے بھی بلا سکتے ہیں۔ اپنے اس اجلاس میں وہ کچھ اصولوں پر متفق ہوں، تاکہ سب کی بات ایک ہو اور وہ اس کو پھر کسی جلسے میں سب کے سامنے متفقہ طور پر پیش کرسکیں۔
٭ جرگے کو 5 اگست سے پہلے صوبے کی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کرنا چاہے اور ان کو قانون کے مطابق اپنی سرگرمی جاری رکھنے کا کہے۔ ان اداروں کے سربراہوں کو جرگے کے ساتھ شاملِ عمل ہونا چاہیے۔
٭ کالام اور اتروڑ کے لوگوں سے یہ جرگہ نمائندگان کہیں کہ وہ اپنے ہر خیل؍ قبیلے سے اس بڑے جرگے کے لیے ایک ایک یا دو دو بندوں کا انتخاب کریں۔ ان سے زیادہ افارد فریقین کی طرف سے اس جرگے میں شریک نہ ہوں۔ دونوں طرف چھے سات ایسے خیل ہیں۔
٭ ان چنے ہوئے افراد کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کریں اور کسی آخری متفقہ صورت میں دونوں کو ایک ساتھ بٹھا کر کسی فارمولے کے تحت مسئلہ کا مستقل حل نکالیں، یعنی زمینوں کی سرحدوں پر جو تنازعات ہیں ان کے لیے نئے فارمولے کا ہونا لازمی ہے۔
٭ پھر اگر جرگہ چاہے کہ اس مارکٹائی میں جو لوگ ملوث تھے، وہ مزید سزا سے بچیں، تو قانون کے مطابق ان کو زمین یا رقم کی صورت میں ’’دیت‘‘ دینا ہوگی۔
٭ اس دوران میں اگر راستے یا پینے کا پانی بند کیا جاتا ہے، تو ایسے لوگوں پر دہشت گردی کا مقدمہ بنتا ہے۔ کیوں کہ یہ سڑکیں سرکار کی ہوتی ہیں اور پانی کو انسانوں، جانوروں یا فصلوں پر بند کرنا بھی دہشت گردی ہی ہوتی ہے۔
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے