64 total views, 1 views today

وزیرِ اعظم عمران خان اپنی جوانی میں کرکٹ کی دنیا پر کچھ اس طرح چھائے ہوئے تھے کہ ہر ایک اُس کا فین تھا۔ خاص کر نوجوان لڑکیاں عمران پر مر مٹنے کو تیار تھیں۔ ہر لڑکی کی خواہش تھی کہ عمران خان اُس سے شادی کرلے، لیکن برطانیہ کے ایک انتہائی دولت مند گھرانے سے تعلق رکھنے والے یہودی تاجر گولڈ اسمتھ کی بیٹی جمایما نے 1995ء میں کرکٹ کے بے تاج بادشاہ عمران خان کی مقبولیت اور جاذبیت سے متاثر ہو کر اُس سے محبت کی شادی رچائی۔ جمایما سے عمران کے دو بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان پیدا ہوئے۔ پاکستان کی مذہبی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے جمایما خان اور عمران خان پر الزامات لگانا شروع کیے۔ جمایما کو یہودی ہونے کے طعنے دیتے رہے جس کی وجہ سے دونوں کو زندگی میں کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ الزامات سے تنگ آکر جمایما نے عمران خان کو پاکستان چھوڑ کر برطانیہ جانے کا مشورہ دیا، لیکن عمران خان نے جواباً کہا کہ ملک و قوم کو میری ضرورت ہے۔ اس لیے مَیں پاکستان نہیں چھوڑ سکتا۔
پاکستانی سیاست میں دوسروں کی ذات اور عزت پر کیچڑ اُچھالنے کے طرزِ عمل کی وجہ سے عمران خان اور جمایما کی شادی صرف 9 سال تک چل سکی۔ نتیجتاً 22 جون 2004ء کو دونوں میں علاحدگی ہوگئی۔ اس حوالہ سے ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ دونوں کے درمیان علاحدگی کی وجہ پاکستان میں اُن کی سیاسی مصروفیات تھی جب کہ جمایما خان اس صورتِ حال میں پاکستان میں رہنے کے حق میں نہیں تھیں۔ یوں ان کی ازدواجی زندگی کا اختتام طلاق پر ہوا۔
طلاق کے بعد جمایما خان اپنے والدین کے ہاں برطانیہ منتقل ہوگئی۔ عمران خان نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچوں کو والدہ کے ساتھ جانے دیا۔ عمران خان کی سابق برطانوی اہلیہ جمایما گولڈ سمتھ اور ان کے درمیان علاحدگی کا ایک دھائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن دونوں کی مقبولیت نہ صرف بدستور برقرار ہے بلکہ جمایما خان نے جس کرکٹر کی مقبولیت اور جاذبیت سے متاثر ہوکر شادی کی تھی، وہ آج اپنے ملک کا وزیر اعظم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمایما جو آج بھی بالخصوص پاکستان میں جمایما خان کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے، کسی نہ کسی حوالہ سے اکثر و بیشتر خبروں میں رہتی ہے۔ آج کل اِس حوالہ سے جو تازہ ترین موضوع زیرِ بحث ہے اور تجزیہ نگار اُس پر تبصرے کر رہے ہیں، وہ مریم صفدر اور جمایما گولڈ اسمتھ کے درمیان سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر چلنے والا مکالمہ ہے۔ دونوں کے درمیان ٹویٹ پر مکالمے کا پس منظر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر میں 25 جولائی کو ہونے والی انتخابی مہم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک موقع پر لندن میں مقیم مریم صفدر کے بیٹے جنید صفدر کی ایک تصویر جس میں وہ پولو میچ کھیل رہا ہے، اور اس کے نانا میاں محمد نواز شریف اپنے نواسے کو انہماک سے میچ کھیلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، کو ہدفِ تنقید بنایا تھا۔ اس حوالے سے عمران خان نے یہ طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’پولو تو بادشاہوں کا کھیل ہے۔ میاں محمد نواز شریف یہ تو بتائیں کہ اُن کے نواسے جی کے ساتھ اتنا پیسا کہاں سے آیا؟‘‘
گذشتہ دنوں مریم صفدرنے اِس پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا جنید صفدر وہاں پولو ٹیم کا کپتان بن کر پاکستان کی عزت میں اضافہ کر رہا ہے۔ جنید صفدر ’’گولڈ اسمتھ‘‘ نہیں، میاں محمد نواز شریف کا نواسا ہے۔ وہ یہودیوں کی گود میں نہیں پل رہا۔ واضح رہے کہ یہویوں کی گود میں پلنا اور یہویوں کے ساتھ رہنا ایک برابر ہے۔
جواب میں جمایما گولڈ اسمتھ نے ٹویٹر پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ 2004ء میں پاکستان چھوڑنے کے بعد بھی مذہب مخالف حملے اب تک جاری ہیں۔ جمایما کہتی ہیں کہ مریم صفدر کا یہ کہنا کہ میر ے بچے یہودیوں کی گود میں پلے ہیں، تو اس سے ایک دہائی پہلے تک پاکستانی میڈیا، سیاست دانوں اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے یہود مخالف حملوں، ہفتہ وار قتل کی دھمکیوں اور میرے گھر کے باہر مظاہرے کرنے کے بعد مَیں نے 2004ء میں پاکستان چھوڑ دیا تھا، لیکن یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
اس کے جواب میں مریم صفدر نے ٹویٹ کیا کہ مجھے آپ میں، آپ کے بیٹوں اور آپ کی ذاتی زندگی میں بالکل کوئی دلچسپی نہیں۔ کیوں کہ میرے پاس کرنے اور کہنے کے لیے اس سے بہترین چیزیں ہیں۔ مریم نے مزید کہا کہ آپ کے سابق شوہر اگر دوسروں کے خاندانوں کو نشانہ بنائیں گے، تو دوسروں کے پاس کہنے کے لیے اس سے بُری چیزیں ہیں۔ اس لیے آپ اپنے سابق شوہر کو موردِ الزام ٹھہرائیں، مجھے نہیں۔ مَیں تو بچوں تک نہیں جانا چاہتی تھی لیکن عمران خان جیسی بات کریں گے۔ اس کے جواب میں منھ توڑ جواب ملے گا۔
قارئین، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست میں الزام در الزام، ایک دوسرے کی عزت پر کیچڑا اُچھالنے، طرزِ عمل اور ذاتی زندگی کو ہدف تنقید بنانے کا رواج عام ہوچکا ہے۔ اب وہ سیاسی ماحول نہیں رہا جو کچھ عرصہ پہلے تھا۔ سیاست دانوں کے اس طرزِ عمل سے پاکستان دنیا بھر میں بدنام ہوچکا ہے۔ لہٰذا انہیں اپنے طرزِ عمل اور رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے