112 total views, 1 views today

امریکی صدر جوبائڈن نے 11 ستمبر 2001ء (نائن الیون) حملوں کی 20ویں سالگرہ تک افغانستان سے امریکی فوجی انحلا مکمل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ افغانستان میں نیٹو کا 20 سال جاری رہنے والا فوجی مشن ختم ہونے والا ہے۔ اب یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ امریکہ ایک ہزار فوجی سفارتی مشن اور کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حفاظت کے لیے چھوڑے جا رہا ہے۔
اس اطلاع پر قطر میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے واضح کر دیا ہے کہ انخلا کے مکمل ہونے پر کسی بھی غیر ملکی فوجی (جس میں فوجی ٹھیکیدار بھی شامل ہیں) کو افغانستان میں نہیں رہنے دیا جائے گا۔ طالبان ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکہ اپنے فوجی پیچھے چھوڑے گا، تو طالبان قیادت فیصلہ کرے گی کہ طالبان کسی طرح آگے بڑھیں گے اور کیا ردِ عمل ظاہر کریں گے؟
طالبان ترجمان نے کہا ہے کہ وہ سفارت کاروں، غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر غیر ملکیوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے جو افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوں۔ اس لیے افغانستان میں حفاظتی فورس کی ضرورت نہیں۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ وہ غیر ملکی فوجوں کے خلاف ہیں۔ سفارت کاروں، ملکی و غیر ملکی این جی اوز، سفارت خانے اور ان میں کام کرنے والوں کے خلاف نہیں۔ کیوں کہ افغانستان کو اِن کی ضرورت ہے۔
افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد وہاں پر خانہ جنگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ کیوں کہ طالبان اور سرکاری فوج میں لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ افغان پارلیمان کے اراکین کی ایک تعداد بھی یہ سمجھتی ہے کہ غیر ملکی فوجوں کا انخلا غیر ذمہ داری کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغان حکمران جنگ بندی پر راضی ہیں اور نہ طالبان۔ افغانستان کے حکمران ’’افغان انٹرا مذاکرات‘‘ میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہے اور طالبان بھی اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آتے۔ نیٹو افواج کے انخلاکے بعد خانہ جنگی، بدامنی، عدم استحکام اور انتشار سے بچنے کے لیے افغانستان میں سیاسی سیٹ اَپ کی تشکیل کو یقینی بنانا چاہیے تھا، جس کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے اور اب بہت دیر ہوچکی ہے۔
اب یہ لگ رہا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے۔ جو کچھ روسی انخلا کے بعد ہوا، نیٹو افواج کے انخلا کے بعد دوبارہ وہی ہونے جا رہا ہے اور افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان 1979ء سے اب تک کئی دہائیوں سے عدم استحکام اور خانہ جنگی کا شکار ہے، تو آخر اِس جاری جنگ و جدل کی وجوہات کیا ہیں؟ افغان عوام پڑوسی ممالک اور عالمی سامراجی طاقتوں کی مداخلت کو افغانستان میں بد امنی اور تباہی کا بنیادی سبب سمجھتے ہیں۔ کسی حد تک تو افغان عوام کا خیال درست ہوسکتا ہے، مگر افغان تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں بدامنی، عدم استحکام، انتشار اور جانہ جنگی کی اصل وجہ خارجی سے زیادہ داخلی عناصر ہے۔ حقائق پر مبنی ممکنہ جواب تو یہ ہے کہ افغانستان میں مختلف قومیں آباد ہیں جن کی زبان، مذہبی عقائد حتیٰ کہ ثقافت بھی مختلف ہے۔ اس کے سبب افغانستان ایک ہزار سال سے زیادہ بدامنی کا شکار رہا ہے۔ تیمور شاہ، مرزا الغ بیگ، شاہ زمان، شاہ شجاع اور دوست محمد خان سے عبد الرحمان تک یہاں خانہ جنگی رہی ہے۔ سردار داؤد، نور محمد ترکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار رہے ہیں۔ افغانستان میں روس کے آنے اور جانے کے بعد خانہ جنگی رہی اور اب جب امریکہ جا رہا ہے، تو بھی خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔
قارئین، اس میں کوئی شک نہیں کہ روس، برطانیہ اور امریکی کی مسلط کردہ جنگوں نے ضرور یہاں تباہی مچائی ہے، لیکن حکمرانوں، مذہبی و سیاسی رہنماؤں اور دیگر جنگجو سرداروں کی باہمی لڑائیاں اس سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی ہیں۔ روسی افواج کے انخلا کے بعد جنگجو سردار، مذہبی و سیاسی رہنما اور افغان کیمونسٹ پارٹی کے مختلف دھڑے آپس میں مفاہت کرتے، تو افغانستان کو تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کے جانے کے بعد افغانستان ایک بار پھر تباہی کے دھانے پر کھڑا نظر آ رہا ہے جو افغان سٹیک ہولڈروں کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں۔ افغانستان کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے حکمرانوں، جنگجو دھڑوں، سیاسی اور مذہبی گروہوں کا مفاہمتی عمل وقت کا اہم تقاضا ہے۔ کیوں کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں بلکہ اس کا پُرامن حل افغان انٹرا مذاکرات سے ہی نکالا جاسکتا ہے، جس کے لیے افغانی گروہوں کی جانب سے مفاہمت اور لچک دار رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے